سینیٹ اجلاس، اپوزیشن اراکین کا حکومت سے صحت او ر تعلیم کے بجٹ پر نظر ظانی کا مطالبہ

      سینیٹ اجلاس، اپوزیشن اراکین کا حکومت سے صحت او ر تعلیم کے بجٹ پر نظر ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ میں اپوزیشن نے حکومت سے صحت اور تعلیم کے بجٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں تعلیم اور صحت کیلئے پیسہ کم رکھا گیا ہے۔ زراعت ختم ہو چکی،بحال کرنے کا کوئی پروگرام بجٹ میں نظر نہیں آرہا، بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لیئے بھی کچھ نہیں، سارا پیسہ پتہ نہیں کہاں جا رہا ہے؟ کورونا کے حوالے سے کیااسٹریٹجی ہے؟ ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سینیٹرز روبینہ خالد، سراج الحق، نزہت صادق، گل بشرہ اور میر کبیر نے کیا۔پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہاکہ ٹڈی دل کا مسئلہ بھی پچھلی حکومتوں پر ڈال دیاگیا ہے، اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات نہیں ہوسکتی۔ سندھ کے بہترین ہسپتال کو ٹیک اوور کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں،خیبرپختونخوا کے ہسپتال ٹیک اوور کریں،لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو تحویل میں لیں وہاں چارپائیاں لوگ کرائے پر لے کر آتے ہیں۔ سندھ کو اپنا کام کرنے دیں آپ اپنا کام کریں۔ مسلم لیگ ن کی سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ حکومت کی کورونا کے حوالے سے کیا اسٹریٹجی ہے؟،کورونا کے حوالے سے آگاہی کی ابھی بھی کمی ہے۔سینیٹر گل بشرہ نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کی سبسڈی میں کٹوتی کی گئی، پی ایس ڈی پی کا بجٹ کم کیاگیا ہے، ارباب اختیار کو انصاف کرنا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس بجٹ میں عام آدمی کی خوشحالی کے لیئے کوئی نظام نہیں ہے، اس حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سادگی کلچر اپنائیں گے،پندرہ لاکھ اساتذہ جو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھاتے ہیں چار ماہ سے ان کو تنخواہ نہیں مل رہی وہ کہاں جائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے لیئے بھی کچھ نہیں، سارا پیسہ پتہ نہیں کہاں جا رہا ہے، اس سرمایہ دارانہ نظام میں آپ قیامت تک ترقی نہیں کر سکتے، سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں ہم ترقی نہیں کر سکتے، 14 لاکھ لوگ انکم ٹیکس دیتے ہیں،42 اقسام کے ٹیکس ہیں، زکو کا نظام نافذ ہونا چاہیئے،سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ سوئی سے گیس دریافت ہوئی آج بھی سوئی کے علاقے میں عورتیں لکڑیوں سے چولہا جلاتی ہیں، آج بھی بلوچستان میں 18 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے، گوادر میں آج بھی لوگ پانی ایک ٹینکر25 ہزار کا لیتے ہیں،پیپلز پارٹی کی حکومت نے آغاز حقوق بلوچستان دیا، لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا، کچھی کینال کو 2010 میں مکمل ہونا تھا، آج بھی کچھی کینال جھل مگسی میں پانی نہیں پہنچا رہی۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ اول -