او آئی سی کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے مبصرمشن تشکیل دینے پر اتفاق

      او آئی سی کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے مبصرمشن تشکیل ...

  

 جدہ،اسلام آباد (محمد اکرم اسد، سٹاف رپورٹر) اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کے رابطہ گروپ نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت سے مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے مبصرمشن تشکیل دینے پراتفاق کیا۔ او آئی سی رابطہ گروپ اجلاس نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں نئے بھارتی ڈومیسائل قانون کو مسترد کرتا ہے،کشمیریوں کو ان کا حق خود مختاری دے۔اسلامی تعاون تنظیم کے کشمیر کے حوالے سے رابطہ گروپ کا ہنگامی اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس کی صدا رت او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف ال عثمان نے کی۔اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، آذربائیجان اور نائیجیریا کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی جبکہ آزاد کشمیر کے صدر نے کشمیری عوام کے نمائندہ کے طور پر شریک ہوئے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اسلامی تعاون تنظیم کے کشمیر کے حوالے سے رابطہ گر و پ کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ او آئی سی رابطہ گروپ نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر ری آرگنائزیش آرڈر 2020 اور ڈومیسائل قانون 2020 کو مسترد کرتے ہیں اور او آئی سی کی جانب سے بھارت کی ان پالیسیوں کو متفقہ طور پر مسترد کیا گیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے مبصرمشن تشکیل دینے پراتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جغرافیائی تبدیلی کے بھارتی منصوبے کی ہم مخالفت اور اسے مسترد کرتے ہیں اور ہمیں سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر بے پناہ تشویش ہے اور انسانی حقوق کی خلا ف ورزیاں فی الفور بند کی جائیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے فوجی محاصرے اور غیرانسانی لاک ڈاؤن فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے جن کالے قوانین کے ذریعے لوگوں پر ظلم کیا جا رہا ہے انہیں بھی فوری ختم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ نے بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ آزادانہ طریقے سے تحقیقات کر سکیں اور دنیا کو بتا سکیں کہ وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کیا ہے اور اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو کیوں ہو رہی ہیں۔دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ او آئی رابطہ گروپ اجلاس میں کشمیروں کی جد و جہد آزادی کی حمایت کی گئی، ترجمان کے مطابق ورچول اجلاس میں میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کی مخالفت کی گئی،اجلاس میں زور دیا گیا کہ مسئلہ مسلم اْمّہ کا اہم معاملہ ہے،اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں نئے بھارتی ڈومیسائل قانون کو مسترد کیا کیا،اجلاس کے شرکا نے کنٹرول لائن کی بھارتی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا،اجلاس میں بھارت سے گیا کہ وہ کشمیریوں ان کا حق خود مختاری دے،بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کا کہا گیا ہے، ترجمان کے مطابق بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ کشمیریوں کا محاصرہ اور لاک ڈاؤن ختم کرے،اجلاس نے بھارت سے تمام گرفتار کشمیریوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

اوآئی سی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کورونا وبائی صور تحال، دو طرفہ تعلقات اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر وزیرخارجہ نے کہا پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گہرے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور کثیر الجہتی تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے مابین متعدد شعبوں میں، اسٹر یٹجک شراکت داری میں اضافہ خوش آئند ہے۔ و زیر خارجہ نے سعودی عرب میں کورونا وبا کے باعث ہونیوالے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکومت کی جانب سے اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیے گئے بروقت اقدامات کی تعریف کی، پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود،اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے تمام ممکنہ اقدام اٹھا رہا ہے۔وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کو بھارتی قابض فورسز کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا نہتے کشمیری کورونا وبا کے باعث دوہرا لاک ڈاؤن برداشت کر رہے ہیں، بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈومیسائل قواعد میں تبدیلی کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں علاقائی تناسب تبدیل کر نے کے درپے ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 80 لاکھ مظلوم کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری بالخصوص مسلم امہ کو فوری طور پر اس اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔ وزیرخارجہ نے سعودی فرمانروا اور سعودی ولی عہد کی جانب سے طیارہ حادثہ کے حوالے سے تعزیتی پیغام اور اظہار ہمدردی پر سعودی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کورونا وبا کے معاشی مضمرات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا، سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے کورونا وبا کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے پاکستانی عوام اور حکومت کیساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

شاہ محمو د

مزید :

صفحہ اول -