آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بننے والے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں،جاوید قصوری

آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بننے والے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں،جاوید قصوری

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)عوام کی بجٹ سے وابسطہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں،حکمرانوں نے قوم کو شدید مایوس کیا ہے،وفاقی و صوبائی بجٹ میں غریب طبقے اور سرکاری ملازمین کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ بجٹ غیر حقیقی اہداف پر مشتمل ہے، قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بننے والے بجٹ میں عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔حکومت مالیاتی سال میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ان خیالات کا اظہار مقررنین نے جماعت اسلامی پنجاب وسطی کے زیر اہتما م وفاقی اور صوبائی بجٹ کے حوالے سے پوسٹ بجٹ کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کی صدارت امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کی جبکہ اس موقع پرعبدالرشید مرزا،نصر اللہ گورائیہ، آصف بیگ،ڈاکٹر شاہدہ وزارت،ہارون ملک،نو ر العظیم،مظہر رندھاوا،رحمت اللہ وٹو و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی تاجر تنظیموں اور معاشی ماہرین نے اس بجٹ کو مسترد کر دیا ہے۔یہ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنا یا گیا ہے۔ جس میں صحت، تعلیم اور زراعت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔تحریک انصاف نے اپنے دورِ حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کیا ہے جو 34 کھرب 37 ارب خسارے کا بجٹ ہے۔اس بجٹ کا کْل تخمینہ 65 کھرب 73 ارب روپے ہے جس میں سے ایف بی آر ریوینیو 49 کھرب 63 ارب روپے ہے جبکہ غیر ٹیکس شدہ ریوینیو 16 کھرب 10 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔درحقیقت وفاقی بجٹ عوام دشمن اور مایوس کن ہے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -