SBPروزگار فنانس اسکیم میں جے ایس، ایچ بی ایل، بینک الحبیب آگے

SBPروزگار فنانس اسکیم میں جے ایس، ایچ بی ایل، بینک الحبیب آگے

  

لاہور(پ ر) 10اپریل،2020 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر کی سربراہی میں کووڈ۔19کے وبائی مرض کے دوران انڈسٹری ملازمین کے تحفظ کے لئے اسکیم متعارف کروائی تھی جسے روزگار فنانس اسکیم کا نام دیا گیا تھا۔ری فنانس اسکیم کا مقصد کسی بھی کاروبارکو3%سود کی شرح کی آسان شرائط پر قرضہ فراہم کرنا ہے جوملازمین کو 3ماہ تک برطرف نہ کریں۔ اس اسکیم کا ہدف کاروباروں کو ملازمتوں کے تحفظ کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔ مورخہ 06مئی 2020کو ایس بی پی نے ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹس کے لئے، جن کا سالانہ کاروبار 2ارب سے تجاوز نہیں کرتا، اس اسکیم کو استعمال کرنے کے لئے حکومت پاکستان کی طرف سے پہلے نقصان کی بنیاد پر40فیصد رسک شیئرنگ کی سہولت (آر ایس ایف) کے ساتھ اس اسکیم کو تکمیل کیا۔12جون،2020 تک اس اسکیم میں اہم حصہ لیا گیا ہے۔بینکوں نے 107.5ارب روپے کے قرضوں کی درخواستوں کی منظوری دے دی ہے جس میں سے 23.5ارب روپے ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹس کے لئے رسک شیئرنگ سہولت کے تحت مختص کئے گئے ہیں۔بینکوں میں آر ایس ایف کے تحت دیے گئے قرضوں کی سطح میں خاصا فرق موجود ہ ہے۔ کچھ بینک زیادہ فعال رہے ہیں۔ بینکوں کی کارکردگی بلحاظ فنانسنگ کی منظور شدہ رقم ڈیٹا کے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ آر ایس ایف کے تحت منظور شدہ مجموعی رقم کا 61فیصد سے زائد پانچ بینکوں نے مشترکہ طور پر جاری کیا، جس میں جے ایس بینک سرفہرست رہا جس کے بعد حبیب بینک لمیٹڈ اور بینک الحبیب رہے۔COVID-19کے موجودہ بحران کے دوران کاروباروں کے تنخواہوں کی ادائیگی کے خدشات کی تائید کے لئے ایس بی پی نے ملازمین کی تنخواہوں اور اجرت کی ادائیگی اور ان کی برطرفی روکنے کے لئے ری فنانس اسکیم کے تحت مراعات جاری کئے۔ا

س اسکیم کے تحت فعال ٹیکس دہندگان تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے 3فیصد مارک اپ ریٹ پر ما لی اعانت حاصل کر سکتے ہیں۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے کریڈٹ رسک شیئرنگ کی سہولت کے تحت بینکوں کے لئے ناقابل وصول قرضوں کے نقصانات کا بوجھ بانٹنے کی مد میں چار سال کے عرصے کے لئے 30ارب روپے مختص کئے تھے۔ اس رسک شیئرنگ ارینجمنٹ کے تحت وفاقی حکومت بینکوں کے قرض پورٹ فولیو کے بنیادی حصے پر 40فیصد پہلا نقصان برداشت کرے گی۔

مزید :

کامرس -