اٹھارویں ترمیم

اٹھارویں ترمیم
 اٹھارویں ترمیم

  

ہم وہ لوگ ہیں جو آزادی کے 73سال بعد بھی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں،ہر صاحب اقتدار،پورا عرصہ اقتدار حکومت کو طول دینے،اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اگلی باری لینے کیلئے کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ہم آج بھی وفاقی،صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کی تقسیم اور حصول کیلئے لڑ بھڑ رہے ہیں،وفاق اور سندھ ایک بار پھر 18ویں ترمیم کے حوالے سے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ یہ تماشا قیام پاکستان کے فوری بعد شروع ہواء اور آج تک جاری ہے،47ء سے52ء تک انگریز کی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے زمام کار سنبھالا،52ء سے58ء تک فوج اور بیوروکریسی نے امور مملکت چلائے،58 ء سے68ء تک فوج نے بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے تعاون سے کاروبار سلطنت چلایا،ملکی تاریخ گواہ ہے کہ 68ء تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہا اور یہ ترقی دیگر ترقی یافتہ ممالک کیلئے مثال تھی۔

ایوب خان نے عوامی مطالبہ پر اقتدار یحیٰ خان کے سپرد کیا تو انحطاط و زوال کا دور شروع ہوا،اس دوران بھی ہر صاحب اقتدار نے اپنے دور کو طول دینے اور اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے تجربات کئے،اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے مختلف قسم کے اقدامات کئے گئے،پنچائتی نظام لانے کی کوشش ہوئی،ایوب خان نے بی ڈی سسٹم کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرایا مگر اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی ممکن نہ ہو سکی،یحییٰ خان کے دور میں پہلے غیر جانبدار پارلیمانی الیکشن ہوئے،مگر اکثریتی پارٹی کے شیخ مجیب کو اقتدار منتقل نہ کرنے سے اسی دور میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہوا،بھٹو اسلام،جمہوریت اور سوشلزم کے گرداب میں پھنسے رہے،مزدور کو خوش کرنے کیلئے صنعتیں حکومتی تحویل میں لیکر حکومت کو کاروباری بنانے کی کوشش میں بری طرح ناکام ہوئے،تعلیمی اداروں کی نیشنلائزیشن سے شعبہ تعلیم کا بیڑہ غرق کیا،جاگیر داروں کی مخالفت کی مگر ملک کے بڑے جاگیر دار دائیں بائیں بٹھائے رکھے،ان کا پورا دور بے یقینی میں گزرا،ضیاء الحق نے عنان اقتدار سنبھالی تو بلدیاتی الیکشن کرائے،مگر پورے اختیارات نہ دئیے،ضیاء الحق کے بعد اقتدار میوزیکل چئیر کا کھیل بن گیا،یہاں تک کہ پرویز مشرف کو زمام کار اپنے ہاتھ میں لینی پڑی۔

انہوں نے اپنے دور میں ضلعی حکومتیں قائم کر کے صوبوں کے متعدد اختیارات مقامی حکومتوں کے سپرد کر دئیے،اگر چہ یہ تجربہ بہت کامیاب تھا،عوام کے بہت سے مسائل مقامی سطح پر حل ہونے لگے،مگر مشرف کے بعد پیپلز پارٹی نے 18ویں ترمیم کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کے ساتھ وفاقی حکومت کے بعض اختیارات بھی صوبوں کے حوالے کر دئیے،ن لیگ نے اقتدار بچانے کیلئے یہ کڑواگھونٹ نگل لیا،مگر اب تحریک انصاف حکومت کو یہ ترمیم ہضم نہیں ہو رہی جس کے باعث وفاق اور سندھ باہم دست و گریبان ہیں۔

غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو 18ویں ترمیم کے بعد حاصل ہونے والے اختیارات کے بعد بھی صوبے عوام کی خدمت نہ کر سکے،ترمیم کے تحت صحت اور تعلیم کے شعبے صوبوں کے حوالے کر دئیے گئے مگر ان دونوں شعبوں کی جو بد ترین صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،پرویز مشرف نے اختیارات کی منتقلی کے وقت صوبائی اختیارات پر آرا چلایا،پیپلز پارٹی نے صوبائی خود مختاری دیتے وقت

وفاقی حکومت کے بعض اور مقامی حکومتوں کے تمام تر اختیارات کو صوبوں کے سپرد کر کے مقامی حکومتوں کو مکمل بے اختیار اور بے بس کر دیا۔تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو بھی اب معاملات کو چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے،باقی صوبے تو خیر تعاون کر رہے ہیں مگر سندھ ہر مسلہ میں 18ویں ترمیم کو ایشو بنا کر رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا جس کے بعد وفاق کو صوبائی حکومتوں کے پر کاٹنے کا خیال آیا،سچ یہ ہے کہ حالیہ آٹا چینی بحران بھی اسی ترمیم کا شاخسانہ ہے،اس ترمیم کے تحت صوبے گندم چینی کی بر آمد کی اجازت دینے اور سبسڈی دینے میں خود مختار ہیں،جائزہ لیں تو چینی کی برآمد میں بر آمد کنندگان کو سبسڈی دینے میں وفاق کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے،وفاق کو عالمی وباء،قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا،کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن اور پابندیوں بارے وفاقی اور سندھ حکومت کے اقدامات میں پایا جانے والا تضاد اس کا ثبوت ہے،حالانکہ دونوں کا مقصد وباء کو پھیلنے سے روکنا اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے مگر اتفاق رائے نہ ہونے سے نتائج منفی آرہے ہیں،بھگت عوام رہے ہیں اور کووڈ 19تیزی سے شہریوں پر حملہ آور ہو رہا ہے،متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ سے عوام ہی نہیں خود حکومتی ذمہ دارا بھی پریشان ہیں،مگر اس نازک اور ہولناک صورتحال میں بھی سیاست کارفرما ہے جس کو جواز 18ویں ترمیم فراہم کرتی ہے۔

مملکت خداداد کا ابتداء سے ہی مسلہ ایک دوسرے کے اختیارات کو تسلیم نہ کرنا اور مداخلت بیجا ہے،صوبائی خود مختاری اور مقامی حکومتوں کے با اختیار ہونے پر کسی کو اعتراض نہیں،مگر سیاسی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کو صرف اس لئے بے اختیار کئے رکھا کہ ان کے بااختیار ہونے سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کی اجارہ داری ختم ہو جاتی ہے،عوام چھوٹے موٹے کاموں کیلئے ان کے محتاج نہیں رہتے،صبح سویرے ضرورتمندوں کا ڈیرے پر ہجوم اور ہر شہری رعایا کی طرح باشاہ سلامت کے حضور فریاد کرتا،بادشاہ سلامت کا حکم جاری کرنا،یہ منظر انسان کو انسانیت کے مقام سے بلند کر کے خاص الخاص بنا دیتا ہے اور اس کا جو نشہ ہوتا اس کا تصور عام شہری نہیں کر سکتا،اس لئے ہمیشہ ارکان پارلیمنٹ نے مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو با اختیار کرنے کی مخالفت کی،اب تحریک انصاف حکومت نیا بلدیاتی نظام لا رہی ہے،دوسال سے زائد عرصہ سے تو یہ خواب ہی ہے،جانے ایسا کونسا نظام ہے اب تک جس کے قواعد و ضوابط ہی طے نہیں ہو پائے،پنچائت کونسل،نیبر ہڈ کونسل،بلدیاتی نمائندے،مئیر کا براہ راست انتخاب،قوم کے کان پک گئے یہ سب سنتے مگر آج تک یہ نظام بھی پردہ غائب میں ہے دیکھیں اس سے کیا ظہور میں آتا ہے،لیکن یہ طے ہے کہ اگر مقامی حکومتوں کا قیام تحریک انصاف کی ترجیح ہوتی تو آج اس قسم کے مسائل جنم نہ لیتے،سب معاملات نچلی سطح پر حل ہو جاتے،اور اگر حکومت ابتداء سے ہی بیوروکریسی سے اپنی ایک ٹیم منتخب کرتی جو محنتی،غیر جانبدار،تجربہ کار،ہنر مند ہوتی اور اپنا کام خوش اسلوبی سے کرتی تو آج تحر یک انصاف حکومت اپنے منشور پر عملدرآمد کرتے ہوئے ترقی و خوشحالی کا سفر طے کر رہی ہوتی،لیکن ایسا نہ ہو سکا اور لگتا ہے ہو گا بھی نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -