شجاع آباد: کاغذوں میں ترقیاتی منصوبے فائنل‘ ٹھیکیدار ریکوری کیلئے سرگرم

  شجاع آباد: کاغذوں میں ترقیاتی منصوبے فائنل‘ ٹھیکیدار ریکوری کیلئے سرگرم

  

شجاع آباد (نمائندہ خصوصی) تحصیل کونسل اور بلدیہ میں ہونے والے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں میں ناقص میٹریل کا استعمال ہونے لگا ہے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں کی نذر ہونے لگے ہیں ٹھیکیداروں نے بل وصول کرنے کیلئے افسران کے دفتروں میں ڈیرے لگا لئے ہیں تحصیل کونسل،بلدیہ شجاع آباد میں ٹف ٹائل اور سولنگ وغیرہ کے منصوبوں کو قبل(بقیہ نمبر35صفحہ6پر)

ازیں افسران نے ٹینڈر کو بندر بانٹ کیا گیا اور سولنگ میں سوئم اینٹوں کا استعمال کیا گیا ریت کی بجائے سولنگ پر مٹی ڈال دی گئی علاقہ سے لوگوں سے ارتھ فلنگ کراکر سولنگ لگا دی گئی اور کاغذوں میں افسران ارتھ فلنگ کا بل بھی بنا کر گورنمنٹ کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگایا جارہا ہے بیشتر جگہ ٹھیکیداروں نے کچی سڑک پر سولنگ لگانے کیلئے ہل چلا کر بلیڈ لگا کر سولنگ لگا دی ہے ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ افسران ایسی سولنگ پر ارتھ فلنگ کا بھی بل بنا کر ٹھیکیداروں سے ملی بھگت کر کے ادائگیاں کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں کسی افسران نے سائٹ کو چیک کرنے کی زحمت بھی گوار ا نہ کی ہے ٹف ٹائل نان اپرووڈ کا استعمال کیا گیا ہے نہ تو ٹف ٹائل کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا گیا ہے اور نہ ہی سولنگ کا ٹیسٹ کرایا گیا ہے اس ضمن میں شجاع آباد کے رہائشی محمد رمضان نامی شخص نے کمشنر ملتان ڈویثرن،ڈپٹی کمشنر ملتان کو ایک تحریری درخواست ارسا ل کر دی ہے جس میں اس نے موقف اختیار کیا ہے کہ افسران اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے ترقیاتی کاموں میں انتہائی ناقص میٹریل کا استعمال کیا گیا ہے جس میں سب انجینئر، چیف آفیسر، ایڈمنسٹریٹر بھی ٹھیکیداروں سے ملی بھگت کئے ہوئے ہیں کمشنر، ڈپٹی کمشنر ملتان اس معاملہ کی انکوائری کر ا ئیں اور ان کو بعد از انکوائری ادائیگیاں کریں۔

سرگرم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -