بھکر: کرونا سے صورتحال سنگین‘ خواتین‘ اساتذہ عدم تحفظ کا شکار

بھکر: کرونا سے صورتحال سنگین‘ خواتین‘ اساتذہ عدم تحفظ کا شکار

  

بھکر(نامہ نگار) کرونا وائرس کی بڑھتی وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران خواتین اساتذہ کی سکولوں میں حاضری سے مسائل جنم لینے لگے ہیں۔ دور دراز کے سکولوں میں تعیناتی سے خواتین اساتذہ عدم تحفظ کا شکارہوگئے۔ محکمہ تعلیم حکومت پنجاب نے کرونا کی بڑھتی وبا اور لاک ڈاؤن خواتین اساتذہ کو بنا سپورٹنگ سٹاف اور سیکورٹی کے سکولوں میں جاکر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ضلع کے کئی دیہی علاقہ جات اور چکوک میں ایسے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں جوکہ مقامی(بقیہ نمبر2صفحہ6پر)

آبادی سے کافی دور واقع ہیں۔ ایسے میں جب نہ تو سپورٹنگ سٹاف ڈیوٹی پر ہو اور نہ ہی سکول میں کوئی سیکورٹی کا مناسب انتظام ہو، وہاں خواتین اساتذہ کو تن تنہا حاضری یقینی بنانے کی پالیسی پر عوام کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آرہا ہے۔ دور دراز کے سکولوں میں جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی ہیں، ایسے میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سکول جانے والی خواتین اساتذہ کروناپھیلنے کے خطرات سے دو چار ہیں۔ خدانخواستہ کسی خواتین ٹیچر کو پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے کے باعث کرونا وائرس ہوگیا تو ذمہ دار محکمہ تعلیم ہوگا۔ ویران اور سیکورٹی کے بغیر خواتین اساتذہ سے ڈیوٹی لینا سیکورٹی رسک ہے۔ حالانکہ محکمہ کی طرف سے فی الوقت ایسا کوئی سرکاری کام نہیں جو سکولوں میں ہی بیٹھ کر کیا جائے۔ محکمہ تعلیم کی اس غیر سنجیدہ اور سیکورٹی رسک پالیسی پر عوامی سماجی حلقوں، وکلاء، تاجر، اساتذہ، اور خصوصاً خواتین کے تحفظ کے لیے کا م کرنے والی سماجی تنظیموں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آرہا ہے۔ عوامی سماجی حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ خواتین اساتذہ کو کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر گھروں تک محدود رکھا جائے نہ کہ انہیں بنا سپورٹنگ سٹاف و سیکورٹی کے سکولوں میں جانے پر ڈکٹیٹ کیا جائے۔ اگر خواتین اساتذہ کو حاضری سے مستثنیٰ قرار نہ دیا گیا تو کسی بھی حادثہ کی صورت میں محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر بھکر سے فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عدم تحفظ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -