پلاٹ کیس، میرشکیل الرحمن کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت 7جولائی تک ملتوی

  پلاٹ کیس، میرشکیل الرحمن کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت 7جولائی تک ملتوی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شہباز علی رضوی اور مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پلاٹ الاٹمنٹ سکینڈل میں گرفتار جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کی ضمانت کی درخواست پرنیب کے وکیل کو آئندہ سماعت سے قبل جواب کی مکمل کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 7 جولائی پرملتوی کر دی،دوران سماعت جسٹس شہباز علی رضوی نے استفسار کیا کہ میر شکیل الرحمن کی رہائی کی درخواست پر نیب نے جواب جمع کروا دیا ہے؟ جس پر نیب کے وکیل سید فیصل رضا بخاری نے عدالت کوبتایاجی سر نیب کا جواب جمع کروایا جا چکا ہے، فاضل جج نے میرشکیل الرحمن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ملزم جسمانی ریمانڈ پر ہے؟ جس پر ان کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نہیں ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جا چکا ہے، فاضل جج نے پوچھا کہ 7 اپریل کے بعد ملزم کے خلاف کیا مواد ریکارڈ پر آیا؟ امجد پرویز ملک نے کہا کہ بشیر احمد ڈائریکٹر لینڈ ڈویلپمینٹ اور ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں فیض رسول کا بیان نیب حکام نے قلمبند کیاہے،نیب کے وکیل نے کہا کہ 1986ء کے ایل ڈی اے کے دو افسروں کے بیان قلمبند کئے ہیں،جسٹس شہبازعلی رضوی نے نیب سے استفسار کیا کہ نیب نے اپنے جواب کی 2 کاپیاں کیوں جمع نہیں کروائیں؟ جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ سر ہم نے رجسٹرار آفس کو 4 کاپیاں فراہم کی تھیں، فاضل جج نے کہا کہ عدالت کے سامنے نیب کے جواب کی صرف ایک کاپی موجود ہے، درخواست گزار کے وکیل کا موقف ہے کہ نیب نے گرفتاری سے قبل اپنے ہی بنائے گئے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، دوران تفتیش ملزم میر شکیل سے کچھ برآمد نہیں ہوا، میرشکیل الرحمن34 برس قبل خریدی گئی پراپرٹی کے تمام شواہد نیب کو فراہم کر چکے ہیں،نیب نے مزید کچھ بھی برآمد نہیں کرنا، جوڈیشل ریمانڈ پر بھی جیل منتقل کیا جا چکا، عدالت سے استدعاہے کہ میر شکیل الرحمن کو ضمانت پر رہا کرنے کاحکم دیاجائے۔

مزید :

علاقائی -