دریاخان،مردہ خور بھائی 12 سال جیل کی سزا کاٹنے کے بعد رہا

دریاخان،مردہ خور بھائی 12 سال جیل کی سزا کاٹنے کے بعد رہا

  

دریاخان(آئی این پی) مردہ خور بھائی 12 سال جیل گزارنے کے بعد رہا ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف مردہ خود دونوں بھائی ڈسٹرکٹ جیل بھکر سے سزا پوری ہونے پر رہا ہو گئے ہیں۔ نواحی علاقہ کہاوڑکلاں کے رہائشی دو بھائی عارف عرف اپھل فرمان عرف پھاما نے 2011 کے دوران علاقائی قبرستان سے دفن ہونے والی کینسر کی مریضہ نوجوان لڑکی کی لاش نکال کر گھر لائے اور اس کے اعضاء کاٹ کر سالن پکا کر کھا رہے تھے کہ اس دوران اطلاع پر پولیس نے چھاپہ مار کر دونوں بھائیوں کولاش سمیت حراست میں لے لیا تھا۔مردہ خوری کا قانون نہ ہونے کی بنیاد پر دو سال بعد رہا ہو گئے تھے جنہوں نے ایک مرتبہ پھر 2013 میں کہاوڑکلاں قبرستان سے دو سالہ بچے کی دفن ہونے والی نعش کو رات کی تاریکی میں قبر سے نکال کر گھر لے آئے جہاں پر بچے کا دھڑ پکا کر کھا چکے تھے جبکہ سر موجود تھا کہ پولیس نے ایک مرتبہ پھر دونوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا تھا جنہیں سرگودھا خصوصی عدالت نے دس سال سزا کا حکم سنا دیا تین ماہ قبل سزا پوری ہونے کے بعد امن و امان کے پیش نظر ایک ماہ کی تین بار نظر بندی کے احکامات جاری کئے گئے تین ماہ مکمل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ جیل بھکر سے رہائی پر گزشتہ روز ان کے بھائی انتظار اور بھتیجے کامران کے حوالے کر دیئے گئے۔ خاندانی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئندہ علاقائی امن و امان برقرار رکھنے اور سابقہ روایت سے بچنے کیلئے لاہور رشتہ داروں کے پاس بھیج دیا جائے گا۔

مردہ خور بھائی

مزید :

علاقائی -