قومی اسمبلی، کشمیری حکومتی پالیسی پر ماتم کناں، اپوزیشن ہمارا مشن خود ارادیت دلوانا ہے: حکومت

قومی اسمبلی، کشمیری حکومتی پالیسی پر ماتم کناں، اپوزیشن ہمارا مشن خود ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث چھٹے روز بھی جاری رہی، حکومت اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے پر شدید تنقید کی‘ اپوزیشن ارکان برجیس طاہر‘ حنا رانی کھر‘ ڈاکٹر عباد اور عبدالقادر پٹیل نے کہا حکومت کیخلاف عدم اعتماد میں دلچسپی نہیں‘ حکومت کو پورا وقت ملنا چاہیے تاکہ یہ بے نقاب ہو‘ ہندوستان کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے میں تعاو ن کیا‘ بھارت شہ رگ کاٹ چکا ہے‘ کشمیری حکومت کی پالیسی پر ماتم کر رہے ہیں‘ حکومت کوئی بھی معاشی ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے‘ بجٹ صرف الفاظ کی ہیر پھیر ہے‘ حکومت جو آئینہ ہمیں دکھانا چاہتی ہے اس میں اپنا چہرہ دیکھے،کورونا ریلیف پیکج سے حکومت عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے۔ پرانے منصوبے اس میں دوبارہ ظاہر کئے گئے ہیں‘ حکومت نے قرضہ تاریخ کی بلندیوں تک لے جا دیا ہے‘ کوویڈ 19نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے‘ کوویڈ 19 کے اب 19 نکات ہو گئے ہیں کہ کیسے لوگوں کو وزیر بنایا گیا ہے۔ شہباز شر یف نے 85 ارب میں تین میٹرو بنائیں ان سے 120 ارب میں بی آر ٹی نہیں بن رہی‘ احتساب بی آر ٹی‘ مالم جبہ‘ بلین ٹری سکیم‘ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اور آٹا چینی سکینڈل پر بھی ہونا چاہیے‘ نیازی سرکار سندھ سے بغض رکھتی ہے جبکہ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان‘ عندلیب عباس‘ زین قریشی و دیگر نے کہا کہ کوئی مائی کا لال کشمیر پر پاکستان کے موقف سے روگردانی نہیں کر سکتا۔ ماضی میں انسانی ترقی پر کوئی کام نہیں ہوا‘ اپو زیشن کے پاس بجٹ پر کوئی ٹھوس تجاویز نہیں‘ یہ چاہتے تھے قوم کو جاہل رکھیں‘ حالات ٹھیک ہوں گے تو سرکاری ملاز مین کی تنخواہ میں اضافہ کریں گے‘ اپوزیشن سرے محل اور ایون فیلڈ بیچ کر عوام کی مدد کرنے کی بات کیوں نہیں کرتی۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا۔ چوہدری برجیس طاہہر نے کہا کہ حکومت گزشتہ سال 5500 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل کرننے میں ناکام رہی۔ ان کا دعویٰ تھا جب حکمران چور ہوتے ہیں تو لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ اپوزیشن کی عدم اعتماد میں دلچسپی نہیں حکومت کو وقت ملنا چاہیے تاکہ یہ بے نقاب ہوں۔ کورونا کے حوالے سے حکومت روزانہ بیان تبدیل کرتی ہے۔ اس طرح لوگ کیسے اعتماد کریں گے۔ کہتے ہیں ٹیکس فری بجٹ ہے۔ پٹرول کی قیمت ٹیکس شامل کر کے 32 روپے ہے۔ یہ 72 روپے میں دیتے ہیں۔ 43 روپے غریبوں سے زیادہ وصول کرتے ہیں۔ دیامر بھاشا بدقسمت ڈیم ہے 2006ء میں پرویز مشرف نے افتتاح کیا کوئی زمین نہیں تھی۔ 2011 میں یوسف رضا گیلانی نے بغیر زمین کے اس کا افتتاح کر دیا۔ نواز شریف نے وزیر اعظم بن کر ا س پر جنگی بنیادوں پر کام کا آغاز کیا اور ڈیم کیلئے 100 ارب روپے وقف کئے۔ وہ چاہتے تو افتتاح کر لیتے۔ ایک آدمی آیا اس نے ڈیم پر 9 ارب جمع کئے اور اشتہارات پر 14 ارب خرچ کیا۔ حکومت نے 20 ارب خرچ کیا۔ ڈیم کو سیاست کا حصہ بنایا۔ سپیکر نے کہا ڈیم بنانا ترجیح ہونی چاہیے۔ بابر اعوان نے کہا پاکستان کشمیر پر استصواب رائے چاہتا ہے۔ مودی غاصب ہے۔ اس کیساتھ کشمیر پر گفتگو نہیں ہو سکتی۔ وزارت خارجہ پاکستان کے موقف سے روگردانی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ پروپیگنڈا کی تردید کرتے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری خارجہ عندلیب عباس نے کہا انسانی ترقی اور اداروں کو استحکام اور مضبوط کرنے کا نام ترقی ہے۔ نوازشریف نے صحت کے اعتبار سے پاکستان کو 152 ویں نمبر تک پہنچایا۔ ملک میں 1600 وینیٹیلیٹر تھے۔ آدھے خراب تھے آج ہم نے 6000 وینی لیٹرز شامل کئے ہیں۔ 28000 اسامیاں ہسپتالوں میں خالی تھی ہم نے میرٹ پر بھرتیں کیں۔ یہ چاہتے تھے کہ قوم کو جال رکھیں ان کے بچے باہر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے قومی خزانے سے 20 دورے لندن کے کئے۔ زرداری نے 48 دورے قو می خزانے سے خرچ کر گئے۔ انہوں نے پاکستان کو گرے لسٹ میں کروایا۔ منی لانڈرنگ کے خاتمہ کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ بجٹ صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے۔ حکومت نے کوئی ہدف حاصل نہیں کیا۔ یہ فلور پر جھوٹ بولتے ہیں۔ حکومت ملک کی تاریخی غلطیوں کو بڑھا رہی ہے۔ سلامتی کونسل میں بھارت نے 192 ووٹ لئے اور آپ کہتے ہیں بھارت عالمی سطح پر تنہا ہے۔ بھارت انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا تا ہے اس کو ووٹ دے کر آپ نے دنیا کو مایوس کیا۔ کورونا کو حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ مخدوم امین قریشی نے کہا کہ ہفتہ گزر چکا ہے ابھی بھی اپوزیشن کی طرف سے کوئی بجٹ پر اچھی تجویز نہیں آئی۔ دنیا سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کا نظریہ عمران خان نے متعارف کروایا۔ اپو زیشن تنقید برائے تنقید اور پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے۔ ہم تنقید برائے اصلاح کے قائل ہیں۔ مشکل وقت میں اپوزیشن کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر عباد الرحمن نے کہا حکومت نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کیا۔ آٹا لائن‘ چینی لائن اور دیگر اشیاء کی لائن میں لوگوں کو حکومت نے روزگار دیا ہے۔علی نواز اعوان نے کہا اپو زیشن کے پاس بجٹ پر کوئی ٹھوس تجاویز نہیں ہیں، جو جنرل مشر ف کیساتھ بیٹھ کر اسے سونے کی پستول دیتے تھے وہ بھی احتساب کی بات کرتے ہیں۔ ماضی میں پی آئی اے‘ سٹیل ملز جیسے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگائی گئی۔پیپلز پارٹی نے 8 سال سندھ میں کیا کارکردگی دکھائی۔پو زیشن 18 ویں ترمیم کیساتھ لوکل گورنمنٹ کی بحالی کی بات کیوں نہیں کرتی۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا و زیر اعظم کہتا ہے کہ وفاق صوبوں کو پیسہ دیتا ہے۔ سندھ میں 8 این آئی سی ڈی ہسپتال مفت کام کر رہے ہیں۔ پہلے یہ طے کر لیں کہ گوروں کے غلام ہیں کہ نہیں۔ اسد عمر نے کہا عالمی سروے پر انحصار نہیں کرسکتے۔ یہ شبر زیدی کو لائے تھے وہ کہاں گئے۔ خیبر پختونخوا میں بچوں کی سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ ایدھی کو ساری دنیا نے چندہ دیا ظالم نے اس سے بھی لے لیا۔ ضیا کا مارشل لاء‘ بھٹو کی پھانسی اور 92 ء کا ورلڈ کپ اس ملک کی تباہی کا باعث بنے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا ایسی باتیں مت کریں۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -