تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے افغان بارڈرکھول دیا گیا، اجمل وزیر

تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے افغان بارڈرکھول دیا گیا، اجمل وزیر

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کرونا وباء کے باعث مشکل حالات میں پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے پاک افغان غلام خان بارڈر کھول دیا گیا ہے,ضلع خیبر میں طورخم اور شمالی وزیرستان کے غلام خان بارڈر کے راستے دونوں ممالک کے مابین تجارت ہوسکے گی.. میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے افغان عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا تھا، طورخم اور غلام خان بارڈر سے بڑی مال بردار گاڑیوں کی دوطرفہ آمدورفت ہفتے کے چھ دن 24 گھنٹے جاری رہے گی. انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے، تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے دونوں ممالک کے باہمی روابط کو بھی دوام ملے گا۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کے مطابق طورخم اور غلام خان بارڈر پر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ہفتے میں ایک دن پیدل آمدورفت والے مسافروں کے لیے مخصوص ہوگا,جنکے لیے ایس او پیز پر عملدرامد یقینی بنایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے عوام کا تحفظ اور انکے کاروبارکو جاری رکھنا حکومت کی اہم ترجیح ہے، کرونا کے سد باب کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی موثر ثابت ہوگی. مشیر اطلاعات نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کرونا کا شکار ہونے والے صحافیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی اس وبائی صورتحال میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے صحافی لائق تحسین ہیں۔ اجمل وزیر نے وزیرستان میں پاک آرمی کے جوانوں پر حملے کی شدید مذمت کی اور حملے میں شہید کیپٹن صبیح اور سپاہی نوید کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ہمیشہ قوم کے تحفظ کے لئے سرحدوں پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اس طرح کے مذموم کاروائیوں سے ملک دشمن عناصر ہمارے سیکورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں اب تک 1لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، جبکہ صوبے میں 6536 کرونا سے متاثر مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جو کہ ایک خوش آئند خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3416 تشخیصی ٹیسٹ ہوئے، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ لیبارٹری میں اب تک سب سے زیادہ ساڑھے 65ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے241 ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے جہاں ساڑھے 5 ہزار سے زائد بستر انکے لیے مخصوص ہیں. انہوں نے کہا کہ صوبے میں آکسیجن کی سہولت سے آراستہ بستروں کی تعداد 1375 ہے، کورونا مریضوں کے لیے 343 وینٹی لیٹر مختص کیے گئے ہیں جن میں صرف 77 پر کورونا وائرس سے متاثرہ مریض زیر علاج ہیں۔ جبکہ صوبے میں اس وقت 805 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں 13835 مریض گھروں میں آئسولیٹ ہیں جنھیں معمولی یا پھر کوئی علامات ہیں ہی نہیں۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے, جس میں محکمہ ریلیف، پی ڈی ایم اے، پاک آرمی، محکمہ زراعت، ایریگیشن اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 758 اہلکاروں پر مشتمل 80 ٹیمیں اور 78 گاڑیاں ٹڈی دل کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ ٹڈی دل سے متاثرہ 15 اضلاع میں سروے اور سپرے کا عمل بھی جاری ہے۔ مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 48 لاکھ 98 ہزار 670 ایکڑ اراضی کا سروے مکمل کیا گیا ہے، اسی طرح 59 ہزار 181 ایکڑ اراضی پر سپرے کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کرونا اور ٹڈی دل کے خلاف انتظامات کی خود نگرانی کررہے ہیں اور روزانہ کے حساب سے متعلقہ محکموں سے بریفنگ لے رہے ہیں۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں اور سرکاری نرخ نامے سے زائد پر پٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں۔ اور گزشتہ دن صوبہ بھر میں کل *187* پٹرول پمپس کے خلاف کاروائیاں کی گئیں، جبکہ 82 پٹرول پمپس کو حکومتی احکامات نہ ماننے پر وارننگز جاری کی گئیں، انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ سے زائد پر پٹرول فروخت کرنے پر 24 پٹرول پمپس کو جرمانہ کیا گیا ہے اور 69ہزار روپے جرمانے وصول کئے گئے ہیں۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلی محمود خان کے واضح احکامات ہیں کہ جو بھی پٹرول کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہیں انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے،مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں کسی بھی مافیا کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے عوام کے لئے مشکلات پیدا کرنے والوں کے خلاف اہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -