صدارتی ریفرنس مسترد لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کتنا عرصہ چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے ؟ وہ باتیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں

صدارتی ریفرنس مسترد لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کتنا عرصہ ...
صدارتی ریفرنس مسترد لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کتنا عرصہ چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے ؟ وہ باتیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں

  

لاہور (کالم:ناصر چودھری) ٹڈی دل نے کئی عشروں کے بعد ملک کے تقریباً نصف رقبے پر تباہی مچا رکھی ہے اور وہ فصلوں پر فصلیں چٹ کئے جا رہا ہے۔ ٹڈی دل کے حملے تو ایک طرف، ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ بھی حملوں کی زد میں ہے اور اس کے ایک معزز ترین جج قاضی فائز عیسیٰ مقتدر حلقوں کی بندوق کی نوک پر ہیں۔بد قسمتی سے وفاقی حکومت نے ملک کے دوسرے بڑے صوبہ کو اس طرح اپنے نشانہ پر لے رکھا ہے جیسے سندھ، پاکستان نہیں، بلکہ بھارت یا اسرائیل کا صوبہ ہے، اور اگر نہیں ہے تو بھی اس کی حیثیت محض ایک کالونی سے زیادہ نہیں۔کورونا نے تباہی مچا رکھی ہے اور وفاقی حکومت والے کراچی کے تین ایسے بڑے ہسپتالوں پر قبضہ کا منصوبہ بنا رہے ہیں (جن کی خدمات کا اعتراف ہر کوئی کر رہا ہے)۔

وفاق کی تمام اکائیوں کی طرف سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر بھی عمران خان حکومت کی طرف سے مسلسل گولہ باری جاری ہے، جس سے وفاق کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔ دوسری طرف حکمران اتحاد میں ایک اہم اتحادی اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی کے نکل جانے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان کے بعد شاید جمہوری وطن پارٹی بھی نکل جائے۔پارلیمنٹ میں عددی اعتبار سے ان کے پاس زیادہ سیٹیں نہیں ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی قومی اسمبلی میں چار اور سینیٹ میں صرف ایک سیٹ ہے۔ اس لئے ان کے نکل جانے سے حکومت کے گرنے کا فوری امکان نہیں ہے، لیکن اگر کوئی ایک اور

اتحادی جیسے ایم کیو ایم یا مسلم لیگ (ق) بھی اتحاد سے نکل جائے تو حکومت گر جائے گی۔ مسلم لیگ (ق) کے نکلنے سے تو وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حکومت گر ے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چودھری برادران حکومت گراتے ہیں یا پی ٹی آئی پر دباؤ بڑھا کر مزید مفادات حاصل کرتے ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے، عمران خان انہیں ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اختر مینگل کے نکلنے کے بعد چودھری برادران اور ایم کیو ایم پہلے سے زیادہ مضبوط بارگیننگ پوزیشن میں آ گئے ہیں۔اختر مینگل ان چھ نکات پر عمل درآمد کرانے کے لئے ڈٹ گئے ہیں، جن پر ان کا حکومت کے ساتھ تحریری معاہدہ موجود ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ان چھ نکات پر عمل درآمد کسی بھی سویلین حکومت کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ان سے زیادہ آسان عمل درآمد تو (اس وقت کی) حکومت کے لئے شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات پر عمل کرنا تھا۔عمرا ن خان کو ورلڈ کپ جیتنے کی وجہ سے میں کرکٹ کا ہیرو سمجھتا ہوں، اس لئے اگر آنے والے وقت میں ان کا نام آج سے پچاس سال پہلے 1970ء کے حکمرانوں کے ساتھ لیا جائے تو مجھے دلی تکلیف ہو گی۔ بہر حال، حکومت رہے یا جائے، بلوچستان کے معاملہ پر صورت حال آہستہ آہستہ سیاسی ڈیڈ لاک کی طرف جائے گی۔ اس تمام گرہن زدہ ماحول میں ملکی سیاست پرمزید تاریکی چھاتی جا رہی ہے۔ ایسا اس وقت ہی ہوتا ہے جب حکومت ناکام ہوجائے اوریہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جائے کہ اس میں ملک چلانے کی صلاحیت موجود ہی نہیں ہے۔ ظاہر ہے اگر کسی شخص کو جہاز اڑانا نہ آتا ہو تو پائلٹ کی سیٹ پر بٹھا دینے سے وہ جہاز نہیں اڑا سکتا۔ اگر اس کے پیچھے بیٹھا انسٹرکٹر اسے ایک ایک بات سمجھاتا بھی جائے تب بھی غیر تربیت یافتہ پائلٹ جہاز کو کریش کر دے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا شمار پاکستان کی تاریخ کے معزز ترین ججوں میں ہوتا ہے۔وہ 17ستمبر 2023ء کو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ پر پاکستان کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ان کے عہدہ کی معیاد ایک سال ایک ماہ نو دن ہو گی اور وہ 26اکتوبر 2024ء کو ریٹائر ہوں گے۔ اس طرح چیف جسٹس پاکستان کے طور پر وہ صرف 404 دن پاکستان کے چیف جسٹس رہیں گے۔ یہ کوئی زیادہ معیاد نہیں ہے، لیکن ان کے کردار کی بلندی کچھ مقتدر حلقوں کو 404 دن بھی پریشان کئے ہوئے ہے،اِس لئے وہ چاہتے ہیں کہ جیسے بھی ممکن ہو انہیں چیف جسٹس بننے سے پہلے ہی کسی بھی جائز یا ناجائز طریقہ سے سپریم کورٹ سے فارغ کروا دیا جائے۔

فیض آباد دھرنا کیس کے بے باک فیصلہ کے بعد یہ سوچ زیادہ پروان چڑھی کہ ستمبر 2023ء کا انتظار نہ کیا جائے جب وہ چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے۔اس بات کا رسک بھی نہیں لیا جا سکتا تھا کہ اگلے کسی الیکشن کے موقع پر وہ چیف جسٹس پاکستان ہوں۔ بلوچستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے وہاں کے معاملات بھی بہتر جانتے ہیں۔ ویسے بھی ان کے والد بزرگوار قاضی عیسیٰ جعفر بلوچستان سے قائداعظمؒ کے سب سے قریبی رفیق تھے۔ اس لئے ایوان وزیراعظم کی سفارش پر ایوان صدر نے عجلت میں ایک کچا پکا، ڈھلمل یقین ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوا دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ میں مذکورہ ریفرنس(10-0سے) خارج ہو جانے کے بعد ایوان وزیراعظم والے وزیراعظم اور ایوان صدر والے صدر مملکت کا اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ بدنیتی پر مبنی یہ ریفرنس پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے ایک معزز ترین جج اور مستقبل کے چیف جسٹس کے خلاف بھیجا گیا تھا۔

ابھی صرف مختصر فیصلہ آیا ہے، جس نے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے کنڈکٹ کو متنازعہ بنا دیا ہے اور آئین و مملکت کی بالادستی کا تقاضہ یہ ہے کہ دونوں شخصیات مکمل فیصلہ آنے سے پہلے مستعفی ہو جائیں، کیونکہ اس میں وہ اور زیادہ متنازعہ ہو جائیں گے اور ”عزت افزائی“ میں جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے وہ مکمل فیصلہ میں پوری ہو جائے گی۔جج صاحب کی اہلیہ پر لگائے گئے الزامات کا دبنگ، مکمل اور پیشہ ورانہ جواب وہ عدالت عظمی کو دے چکی ہیں اور عدالت عالیہ کے حکم پر ایف بی آر میں بھی جمع کروا دیں گی۔ اصل شامت تو وحید ڈوگر جیسے نام نہاد ”صحافی“ اور مرزا شہزاد اکبر جیسے معاون خصوصی کی کی آئے گی اور پتہ چلے گا کہ وہ کن کے اشاروں پر ناچتے رہے ہیں۔

تفصیلی فیصلہ میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ (ARU)کی حیثیت کا تعین بھی ہو گا کہ وہ آئینی ہے غیر آئینی اور مرزا شہزاد اکبر کی اپنی آئینی حیثیت کیا ہے۔ حکومت اس ریفرنس میں نماز بخشوانے گئی تھی، لیکن روزے گلے پڑوا کر آئی، کیونکہ پنڈورا بکس جتنا کھلتا جائے گا، حکومت کی واپسی کا زادِ راہ اکٹھا ہوتا جائے گا۔اصل نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کسی بھی مرحلہ پر توہین ِ آئین، توہین ِ عدالت عظمی اور توہین ِ مملکت کا متحمل نہیں ہو سکتا ورنہ وفاق کی بنیادیں شکست و ریخت کا شکار ہو جائیں گی۔

یہ سطور لکھتے لکھتے سورج گرہن اپنے تقریباً مکمل پر پہنچ چکا ہے اور اس کا 93 فیصد سے زائد حصہ چھپ جانے سے تاریکی بڑھ چکی ہے۔ ایسے (تقریباً)مکمل گرہن کو Annular سورج گرہن کہتے ہیں۔ صرف بیرونی رنگ سے سورج کی روشنی چھن کر آتی ہے۔ اس بیرونی رنگ کو Corona کہتے ہیں۔ پاکستان میں ویسے بھی اس وقت کرونا کی وبا نے پورا ملک مفلوج کر رکھا ہے۔ پاکستان میں جون 2003ء میں بھی ایسا ہی گرہن ہوا تھا، جس میں 94 فیصد سورج چھپ گیا تھا۔

اس سورج گرہن سے دو سال قبل جون 2001ء میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ملک کے آئینی صدر رفیق تارڑ کو غیر آئینی طریقہ سے ایوان صدر سے بے دخل کیا تھا۔حسن ِ اتفاق ہے کہ موجودہ سورج گرہن سے دو سال پہلے جون 2018ء میں موجودہ حکومت کو برسر اقتدار لانے کی ”تیاریاں“ آخری مراحل میں داخل ہو چکی تھیں۔ سورج گرہن تو چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے، لیکن سیاسی گرہن سالوں تک ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کروا کر اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالہ کیا جائے ورنہ سیاسی گرہن کی تاریکی بڑھتی جائے گی۔

ملک کے تینوں ستون (مقننہ، عدلیہ، ایگزیکٹو) اگر طاقتور ہوں اور تمام آئینی ادارے غیر جانبداری سے اپنی اپنی حدود میں کام کریں تو سیاسی و اقتصادی افق پر چھایا گرہن بھی ختم ہوجائے گا اور وفاق بھی اپنی تمام اکائیوں سمیت زیادہ مضبوط اور فعال ہو گا۔

مزید :

قومی -