مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات کا ماضی،حال اور مستقبل!

مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات کا ماضی،حال اور مستقبل!
مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات کا ماضی،حال اور مستقبل!

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) پاکستان مسلم لیگ ن کا وجود متحدہ عرب امارات میں نیا نہیں ہے 1985 میں جب مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں آیا تب مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے چودھری محمد صدیق کو ابوظبی میں پی ایم ایل این کا صدر مقرر کیا ۔ ان کے ساتھ ساتھ ابوظبی میں شاہین بٹ اور دوبئی میں امجد بٹ پسروری نے مسلم لیگ ن کے لئے کام کیا 1992 میں جب سعودی سے خواجہ عبدالوحید پال متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے تو انہوں نے بھی عملاً اپنا کردار نبھانا شروع کیا 1985 سے لےکر 2004 تک متحدہ عرب امارات میں مسلم لیگ ن جیسے تیسے چلتی رہی لیکن پارٹی کو بام عروج تب ملا جب چودھری نور الحسن تنویر نے سعودی عرب سے یہاں آکر پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور پی ایم ایل این کو امارات میں منظم اور  مضبوط کرنے کا عمل شروع کردیا ۔

اس سفر میں ان کے ساتھ چودھری محمد الطاف (مرحوم ) شیخ محمد عارف (مرحوم) چودھری محمد صدیق ، خواجہ عبدالوحید پال، چودھری عبدالغفار ، غلام مصطفی مغل ، محمد غوث قادری ، راجہ ابوبکر ، ملک شہزاد یونس ، آزاد علی تبسم ، چودھری ظفر اقبال ، عامر سہیل گھمن، طاہر بھنڈر، راجہ ظہیرسملالوی ، چودھری خالد بشیر ، جان قادر ، شہزاد بٹ، افتخار بٹ، چودھری محمد شفیع، راوٗ اکبر ساقی ، چودھری انور ، فاروق وڑائچ، سلمان خاں، احسان اللہ خان اور چودھری عبدالطیف کے علاوہ بھی متعدد کارکنان کا بھی تعاون رہا ۔ اور سب نے مل کر مسلم لیگ ن کو منظم اور مضبوط کرانے کے سلسلہ میں اپنا اپنا کردار ادا کیا یو اےای میں پی ایم ایل این کو منظم کرنے کے بعد چودھری نورالحسن تنویر نے مڈل ایسٹ اور گلف ریجن میں بھی پارٹی کارکنان کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے منظم کیا جس کا اعتراف پی ایم ایل این کی اعلیٰ قیادت کوہے۔

یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے تمام تر اختیارات چودھری نورالحسن تنویر کو دے رکھے تھے وہ جو بھی نامزدگی ہوتی باہمی مشاورت سے کرتے تھے اور کسی کو بھی ملاقات کا موقع نہیں ملتا تھا یہی وجہ ہے کہ چودھری نورالحسن تنویر کی امارات میں  موجودگی کے دوران پارٹی میں اتحاد برقرار رہا اور کوئی گروہ بندی نہ ہوئی  جبکہ چودھری نورالحسن تنویر کی کوشش و کاوش سے آزاد علی تبسم ، راشد بٹ ،  احسان اللہ باجوہ،کاشف رندھاوا،شیخ اعجاز اور غزالی سلیم بٹ کو پی ایم ایل این کے ٹکٹ ملے اور وہ الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں جائے جبکہ چودھری نورالحسن تنویر خود بھی ممبر نیشنل اسمبلی منتخب ہوئے متذکرہ افراد کی اسمبلیوں میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایم ایل این کی اعلیٰ قیادت نے اوورسیز پاکستانیز کو بھی اسمبلیوں میں آنے کا موقع دیا تاکہ وہ اوورسیز پاکستانیز کے حقوق کی بات کرسکیں اور ان کی نمائندگی بھی کرسکیں 2018 میں انتخابات کے بعد سیاسی مصروفیات کے باعث چودھری نورالحسن تنویر پاکستان چلے گئے اور وہیں اپنا سیاسی کردار نبھانا شروع کردیا ۔

چودھری نورالحسن تنویر کے پاکستان جانے کے بعد امارات میں پی ایم ایل این کی قیادت چودھری محمد الطاف کے ہاتھ آگئی اور انہوں نے ضعیف العمری کے باوجود پارٹی کازکو آگے بڑھایا اور متعدد مخالفتوں کا سامنا بھی کیا حال ہی میں چودھری محمد الطاف صدر  پی ایم ایل این متحدہ عرب امارات اور شیخ محمد عارف چیئرمین پی ایم ایل این متحدہ عرب امارات یکے اور دیگرے جون2020میں انتقال کر گئے۔ان دنوں سینئر رہنماوں کے انتقال سے پی ایم ایل این متحدہ عرب امارات میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔صدر اور چیئرمین کے عہدے خالی ہونے کی وجہ سے آجکل پی ایم ایل این متحدہ عرب امارات کے کارکنوں میں ان عہدوں کے حصول کے لئے تگ و دو جاری ہے،پارٹی دھڑے بندیوں کا شکار ہو گئی ہے اور ہر کوئی اپنے آپ کو متذکرہ عہدوں کے لئے اہل سمجھ رہا ہے۔وفات پاجانے والے دونوں سابقہ عہدیداروں چوہدری محمد الطاف اور شیخ محمد عارف کی شخصیات کا تو کوئی جواب ہی نہیں تھا دونوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے لئے حتی الوسع کام کیا۔ان جیسا لیڈر ملنا تو محال ہے لیکن متذکرہ عہدوں کے حصول کے لئے ایسے لوگ ہی سامنے آرہے ہیں جن کا پی ایم ایل این کے کاز کو بڑھاوا دینے کے لئے کوئی خاص عملی کردار نہیں ہے۔بلکہ وہ محض دولت اور پیسے کے بل بوتے پر آگے آنا چاہتے ہیں۔

آج پی ایم ایل این متحدہ عرب امارات میں قیادت کا بحران ہے لہذا اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لئے پی ایم ایل این متحدہ عرب امارات کے مختلف گروپس ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور دھڑے بندیوں کا شکار ہیں جس سے پاکستان مسلم لیگ ن کا امارات میں شیرازہ بکھرتا نظر آرہا ہے۔ایسے میں پی ایم ایل ن کی اعلیٰ قیادت کو چاھیئے کہ وہ کسی ایسے قابل قبول شخص کو آگے لائیں جس نے 2018کے بعد واقعی عملی طور پر پی ایم ایل این متحدہ عرب امارات کے لئے دامے درمے سخنے کام کیا ہو۔پارٹی کے ساتھ مخلص رہا ہو۔پارتی کو وقت دیا ہو،پارٹی کاز کو آگے بڑھایا ہو۔محب وطن ہو اور متنازعہ شخصیت نہ رہا ہو۔پارٹی ورکرز کے درمیان ایسا فرد تلاش کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ پی ایم ایل این کی اعلیٰ قیادت سب کے بارے میں جانتی ہے اور اپنی رائے محفوظ رکھتی ہے۔ایم این اے چودھری نور الحسن تنویر کے بااعتماد ساتھی سابقہ ایم پی اے آزاد علی تبسم کے کاندھوںپر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ صدر اور چیئرمین کے عہدوں کے لئے اپنی سفارشات مرتب کر کے چودھری نور الحسن تنویر کے ذریعے پاکستان مسلم لیگ ن اوورسیز کے صدر محمد اسحاق ڈار کو بھجوائیں تا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد ہو جائے۔

پی ایم ایل این کی ذمہ دار قیادت کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ وہ مدبرانہ فیصلہ کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی سفارشات کریں جن کا ماضی داغدار نہ ہو۔ایسے افراد کے چناو کے لئے پی ایم ایل این کے ورکرز سے رائے لینا بھی ضروری ہے تا کہ یو اے ای میں مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھرنے نہ پائے اور کہیں سابقہ لیڈران کی شب و روز کی محنت ضائع نہ ہو۔اب اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ موجودہ عہدے دو یا تین سال کے لئے رکھے جائیں تاکہ ہر کسی کو آگے آنے اور کام کرنے کا موقع مل سکے۔یاد رہے کہ سابقہ صدر چودھری محمد الطاف مسلسل 13سال پی ایم ایل این متحدہ امارات کے صدر رہے۔ 

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -