ماہرین کو کورونا کے مریضوں کی جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ کا پتہ کیسے چلا؟

ماہرین کو کورونا کے مریضوں کی جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ کا پتہ ...
ماہرین کو کورونا کے مریضوں کی جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ کا پتہ کیسے چلا؟

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن) گزشتہ دنوں میں طبی ماہرین نے کورونا وائرس کےخلاف ''ڈیکسامیتھازون'' نامی دوا کو مریضوں کی جان بچانے کے لیے سب سے موثر دوا قرار دیا تھا۔

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ انتہائی اہم پیشرفت کہلانے والی یہ دوا ماہرین کی نظروں میں کیسے آئی؟

بی بی سی کے طبی نامہ نگارفرگسن والش کی خصوصی رپورٹ کے مطابق ایسا آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک چھوٹی سی ٹیم کی استقامت اور یک جہتی اور برطانیہ بھر کے ہسپتالوں کے تعاون اور ہزاروں مریضوں اور ان کے اہلخانہ کی رضامندی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

وہ مطالعہ جس کا ڈیکسامیتھازون ایک حصہ ہے، اس کا نام ’ریکوری‘ ہے۔ طبی آزمائشیں عام طور پر مہینوں جاری رہتی ہیں، کبھی کبھی ان میں کئی سال بھی لگ جاتے ہیں اور اس میں سینکڑوں مریض بھی شامل ہوتے ہیں۔لیکن ’ریکوری‘ ٹرائل کو نو دن میں مکمل کیا گیا اور اس میں برطانیہ بھر کے 175 ہسپتالوں میں سے 11500 مریضوں نے حصہ لیا۔

اس طبی آزمائش کی سربراہی پروفیسر پیٹر ہوربی نے کی جنھوں نے کئی برس، ایک نامعلوم جرثومے کی وجہ سے پیدا ہونے والی وبا کے بارے میں جاننے اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش میں گزارے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا اس مقصد کے لیے ایک سادہ طریقہ رکھا گیا اور ایک سوال پر مختلف ادویات کی پڑتال کی گئی کہ کیا اس سے جان بچائی جاسکتی ہے؟

اس حوالے سے جن ادویات کو تجربے میں شامل کیاگیاان میں ایک ڈیکسامیتھازون بھی تھی ۔

طبی آزمائش سے یہ پتا چلا کہ ڈیکسامیتھازون ہسپتال میں داخل صرف ان مریضوں کی مدد کرتی ہے جنھیں مصنوعی تنفس کی ضرورت ہو یا جو وینٹی لیٹر پر ہوں۔ یہ مدافعتی ردعمل کو کم کر دیتی ہے اور پھیپھڑوں کو صحت یاب ہونے کا ایک بہتر موقع فراہم کرتی ہے۔

یہ کوئی جادو کی گولی نہیں۔ کووڈ آزمائش میں وینٹی لیٹر پر موجود ہر 100 مریضوں میں سے 40 مر جاتے ہیں لیکن ڈیکسامیتھازون سے یہ تعداد کم ہو کر 28 ہو جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زیر علاج ہر آٹھ مریضوں میں سے ایک کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

ایسے افراد جنھیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں ہر 100 میں سے 25 مریض مر جاتے ہیں لیکن ڈیکسامیتھازون کے استعمال سے یہ تعداد کم ہو کر 20 ہو جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس کو ’زندگی بچانے والی سائنسی پیشرفت‘ قرار دیا کم از کم اس لیے کہ یہ انتہائی سستی ہے اور دنیا بھر میں اسے مختلف بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں ان نتائج کو کچھ شکوک و شبہات کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا اور بہت سے ماہرین نے کہا کہ وہ اسے صرف اس صورت میں قبول کریں گے اگر اعدادوشمار شائع کیے جائیں اور ان کا جائزہ لیا جائے۔

سچ تو یہ ہے کہ ایسی آزمائشوں کے نتائج اکثر میڈیکل کانفرنسوں میں جاری کیے جاتے ہیں۔ آکسفورڈ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر نتائج شائع کرے گی۔

مزید :

کورونا وائرس -