بھارتی وزیردفاع کا دورہ روس، کیا ماسکو حکومت چین پر دباوڈال سکتی ہے؟ ماہرین کی آرا بھی سامنے آگئیں

بھارتی وزیردفاع کا دورہ روس، کیا ماسکو حکومت چین پر دباوڈال سکتی ہے؟ ماہرین ...
بھارتی وزیردفاع کا دورہ روس، کیا ماسکو حکومت چین پر دباوڈال سکتی ہے؟ ماہرین کی آرا بھی سامنے آگئیں

  

نئی دہلی ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک ایسے وقت میں جب بھارت اور چین آمنے سامنے ہیں، دونوں میں سرحد پر تشدد جھڑپیں ہوچکی ہیں بھارتی وزیر داخلہ روس چلے گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ تین روزہ دورے پر ماسکو گئے ہیں جہاں وہ اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ روس کی جنگ عظیم دوم کی یاد میں منعقد کی جانے والی شاندار پریڈ میں بھی شرکت کریں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں راجناتھ سنگھ نے لکھا کہ "میں ماسکو کے لیے تین روزہ دورے پر روانہ ہورہا ہوں۔ یہ دورہ انڈیا روس کی دفاعی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مستحکم کرنے کے لیے بات چیت کا ایک موقع فراہم کرے گا۔"

بھارتی وزیر دفاع کے اس دورے کو بیجنگ اور نئی دہلی میں کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ اور یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ بھارت کا دیرینہ دوست روس اس کشیدگی میں بھارت کی حمایت میں چین پر دباو ڈالے سکتا ہے یا نہیں؟

 تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ' بھارتی حکومت دیر سے جاگی ہے اوراب کورونا کی وبا کی وجہ سے روس سے انڈیا کو اسلحہ اور دفاعی نظام حاصل کرنے میں مزید وقت لگے گا ۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئےبین الاقوامی امور کے ماہر اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سٹریٹجک سٹڈی پروگرام کے سربراہ پروفیسر ہرش پنت کے مطابق چیزیں اتنی آسان نہیں ہیں ماضی میں روس اور بھارت کا دوستانہ زیادہ گہرا تھا تاہم اب  یہ دیکھا گیا ہے کہ چین کے ساتھ روس کے تعلقات مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'روس کے لیے بھی صورتحال کم چیلنجنگ نہیں۔ آبادی پاکستان سے کم ہے اور اس کا رقبہ بہت زیادہ ہے جو یورپ سے ایشیا تک پھیلا ہوا ہے۔ امریکہ تو دنیا بھر میں اپنے اڈے بنا لیتا ہے لیکن روس کے لیے یہ چیلنج ہے کہ اسے ٹیکنالوجی کی مدد سے اتنے بڑے علاقے کو بچانا ہے اس لیے وہ اپنی سرحدوں کے آس پاس دشمنی کی فضا کو برداشت نہیں کرسکتا۔ روس کی مشرقی سرحد جو چین سے ملتی ہے وہان وہ کشیدگی بالکل نہیں چاہتا اور چین اسکا فائدہ اٹھاتا ہے۔ دوسری طرف روس کی امریکہ اور اس کے کچھ یورپی اتحادیوں سے بھی رسہ کشی ہے۔ ایسی صورتحال میں روس کے پاس بھی محدود آپشنز بچتے ہیں۔

پروفیسر ہرش کے مطابق اب یہ نوبت آچکی ہے کہ 'آج جب روس اور چین ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں تو روس کا قد چھوٹا نظر آتا ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'روس ایک کمزور طاقت ہے، جسے کھڑے ہونے کے لیے چین کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ روس کی معاشی حالت خراب ہے اور اسے چین کی مدد کی ضرورت ہے۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ انڈیا روس کے لیے بھلے ہی ایک اہم شراکت دار ہے لیکن وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر انڈیا کی حمایت کرے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'روس بھی دوسرے ممالک کی طرح سفارتی زبان کا استعمال کرے گا۔'

ہرش پنت کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'اگر انڈیا اور چین کے مابین تناؤ بڑھا یا معمولی جنگ ہوتی ہے تو روس کی افادیت بہت زیادہ ہوگی کیونکہ انڈیا کے پاس روسی ہتھیاروں اور مشینوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور اس کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے انڈیا کو روس کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی۔ اس لیے انڈیا کے پاس روس کو ناراض کرنے کا آپشن نہیں ہے۔'

مزید :

بین الاقوامی -