خاتون طلاق کے لیے عدالت گئی لیکن جج نے گھر والوں کی بات سن کر واپس شوہر کے گھر جانے کا حکم دے دیا، طلاق کیوں نہ ملی؟ تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ

خاتون طلاق کے لیے عدالت گئی لیکن جج نے گھر والوں کی بات سن کر واپس شوہر کے گھر ...
خاتون طلاق کے لیے عدالت گئی لیکن جج نے گھر والوں کی بات سن کر واپس شوہر کے گھر جانے کا حکم دے دیا، طلاق کیوں نہ ملی؟ تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرنے والی ایک خاتون کو جج نے فرمانبردار بن کر شوہر کے گھر واپس جانے کا حکم دے دیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق تاریخ کے اس انوکھے مقدمے میں راس الخیمہ پرسنل سٹیٹس کورٹ میں خاتون نے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اسے اس کا اور ان کی ایک بچی کا خرچ نہیں دیتا اور ان کی کسی طرح کی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کرتا۔

اس کے جواب میں اس کے شوہر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اصل معاملہ اس خاتون کے میکے والوں کی ان کے گھر میں مداخلت ہے جس پر دونوں میاں بیوی میں اکثر جھگڑا ہوتا ہے۔ بیوی آئے روز شوہر کو بتائے بغیر اپنے میکے چلی جاتی ہے اور گھر کی ملازمہ کو بھی شوہر سے چوری اپنے میکے بھیج کر وہاں کے گھریلو کام بھی کرواتی ہے۔ شوہر کے وکیل کی طرف سے اپنی بات کے ثبوت مہیا کرنے او رخاتون کے الزامات غلط ثابت کرنے پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کو حکم دیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس جائے اور اس کی فرمانبردار بن کر رہے اور اپنے میکے والوں کو اپنے گھر میں مداخلت سے باز رکھے۔عدالت نے خاتون کو یہ حکم بھی دیا کہ اب وہ اپنی ملازمہ کو بھی اپنے میکے کے گھر اضافی کام کرنے مت بھیجے۔

مزید :

عرب دنیا -