شہر میں 4 سال کے دوران 22ہزار ہلکے زلزلے، بالآخر کمپیوٹر نے اصل وجہ کا پتہ لگالیا، زمین میں کیا چیز ہلتی تھی؟ جان کر سائنسدان بھی حیران رہ گئے

شہر میں 4 سال کے دوران 22ہزار ہلکے زلزلے، بالآخر کمپیوٹر نے اصل وجہ کا پتہ ...
شہر میں 4 سال کے دوران 22ہزار ہلکے زلزلے، بالآخر کمپیوٹر نے اصل وجہ کا پتہ لگالیا، زمین میں کیا چیز ہلتی تھی؟ جان کر سائنسدان بھی حیران رہ گئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست کیلیفورنیا دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ اس ریاست کے شہر کاہوئیلا میں گزشتہ 4سالوں میں انتہائی کم شدت کے 22ہزار زلزلے آئے۔ ان کی شدت اتنی کم تھی کہ لوگ انہیں محسوس نہ کر سکے لیکن سائنسدان اب تک اتنی زیادہ تعداد میں زلزلے آنے پر انگشت بدنداں تھے اور انہیں کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس شہر میں اتنے زلزلے کیوں آ رہے ہیں۔ اب بالآخر کمپیوٹر نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

سائنسدانوں نے کمپیوٹر پر ایلوگرتھم کے ذریعے پتا چلایا ہے کہ ان زلزلوں کی وجہ اس شہر زمینی پانی ہے جو سطح کے نیچے گردش کر رہا ہے۔ سائنس میگزین میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زیکرے روزاور ان کی ٹیم نے بتایا ہے کہ ”اب تک ہم فالٹ لائنز کو ان زلزلوں کا ذمہ دار سمجھ رہے تھے مگر اب معلوم ہوا کہ ہمارا خیال غلط تھا۔ کمپیوٹر ایلوگرتھم ک ذریع یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ زلزلے زیرزمین پانی کی گردش سے آ رہے ہیں۔ ان تمام زلزلوں کی شدت 0.7سے 4.4کے درمیان تھی۔ “

مزید :

ڈیلی بائیٹس -ماحولیات -