افغانستان اور تاجکستان کے مرکزی بارڈرکراسنگ پوائنٹ پر طالبان نے قبضہ کرلیا

افغانستان اور تاجکستان کے مرکزی بارڈرکراسنگ پوائنٹ پر طالبان نے قبضہ کرلیا
افغانستان اور تاجکستان کے مرکزی بارڈرکراسنگ پوائنٹ پر طالبان نے قبضہ کرلیا

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان نے افغانستان اور تاجکستان کی مرکزی بارڈر کراسنگ پر بھی قبضہ کر لیا۔ الجزیرہ کے مطابق طالبان نے شیرخان بندر کراسنگ پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں افغان فورسز پسپا ہو گئیں اور اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جس کے بعد طالبان نے اس سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کر لیا۔طالبان امریکہ کے افغانستان سے فوجی انخلاءکے بعد سے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ وہ دارالحکومت کابل سے چند میل کے فاصلے پر واقع افغان صدر اشرف غنی کے آبائی گاﺅں پر بھی قابض ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شیر خان بندر بارڈر کراسنگ کا شمار افغانستان کی اہم ترین گزرگاہوں میں ہوتا ہے۔ طالبان کی یکم مئی سے شروع ہونے والی نئی کارروائیوں میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ صوبہ قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالدین حاکمی نے بتایا ہے کہ ”بدقسمتی سے ایک گھنٹے کی جنگ کے بعد طالبان شیرخان بارڈر کراسنگ، اس قصبے اور تاجکستان کے ساتھ لگنے والی تمام چوکیوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔“ ایک افغان فوجی افسر نے بتایا کہ ”ہمارے کچھ فوجی جان بچانے کے لیے تاجکستان فرار ہو گئے ہیں۔“ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہمارے مجاہدین نے قندوز میں تاجکستان کے ساتھ تمام سرحدی گزرگاہوں پر قبضہ کر لیا ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -