’مولوی دوست ‘ بھی ’رکشے والا‘ ہی نکلا...!!

’مولوی دوست ‘ بھی ’رکشے والا‘ ہی نکلا...!!
’مولوی دوست ‘ بھی ’رکشے والا‘ ہی نکلا...!!

  

سنجیدہ فکر دانشور جناب خلیل الرحمان قمر نے درست کہا کہ گناہ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا... کسی خاص معاملے میں کسی خاص طبقے کو" تختہ مشق" بنانا انتہائی غیر مناسب ہے...اخلاقیات کے باب میں کوئی بھی" خالی ہاتھ" اور معاملات کے حوالے سے کوئی بھی" بدحال "ہو سکتا ہے..."احسان کے بدلے گریبان" والے بھی کم نہیں...بہر کیف زندگی فلمی مکالموں نہیں،اصولوں کی پاسداری سے سنورتی اور نکھرتی ہے... بد کردار،بد عہد اور بد لحاظ سسک سسک کر جیتے ہیں...عزت کو ترستے "ذہنی معذور" لوگ...!!!!

چند سال پہلے میں ایک نیوز چینل کے سنٹرل نیوز روم میں کام کرتا تھا...مجھے مارننگ شفٹ کیلئے جانا ہوتا تھا...پہلے پہلے سٹاپ سے رکشہ لے لیتا...ایک دو دفعہ تاخیر ہوگئی تو سوچا مستقل کسی سے بات کرتا ہوں...اچانک میرے ذہن میں ایک "مولوی دوست" آگئے...کوئی پچیس سال پہلے ایف ایس سی کی تیاری کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور آنا پڑا تو محلے کی مسجد میں ایک "اسلامی بھائی" سے دوستی ہوگئی.......وہ رکشہ چلاتے اور تبلیغ کرتے تھے...وہ ہمیں دل موہ لینے والی دین کی میٹھی میٹھی باتیں بتایا کرتے...تین ماہ بعد ہماری واپسی ہوگئی مگر ان سے مستقل تعلق بن گیا...لاہور سے صحافتی کیرئیر شروع کیا تو پھر رابطے بحال ہوگئے...کبھی مسجد تو کبھی گلی محلے" ہیلو ہائے" ہو جاتی...میں نے کہا بھائی مجھے صبح دفتر چھوڑ آیا کریں...وہ بخوشی راضی ہوگئے اور روزانہ کی بنیاد پر" معاہدہ" طے ہوگیا...چند ہی دن گذرے کہ "بھائی صاحب" غائب ہو گئے...میں کال کرتا رہا مگر جواب ندارد....بھاگا بھاگا سٹاپ پر گیا رکشہ لیا اور دفتر پہنچا...اگلے دو دن بھی انتظار کیا مگر" بھائی صاحب" آئے نہ فون سنا...ایک دن "سر راہ "مل گئے...میں نے شکوہ کیا بھائی آپ تو ہمیں" اکرام مسلم" کی بڑی تاکید کیا کرتے تھے...بتا ہی دیتے کہ میں کوئی اور بندوبست کر لیتا...سر جھکائے" واپسی پر سواری نہ ملنے کی" منطق پیش کرکے جلدی جلدی  چل دیے...انگشت بدنداں رہ گیا کہ "مولوی دوست" بھی "رکشے والا" ہی نکلا...لیکن ٹھہریے سب تبلیغی بھائی "رکشے والے" نہیں ہوتے... ایسے اللہ والے بھی دیکھے جو دین کے راستے میں لہولہان ہو گئے مگر جب بدبخت ملزموں کیخلاف کارروائی کا وقت آیا تو رسول کریم ﷺ کے سفر طائف کا حوالہ دیکر معاف کردیا...کیا دین سے ایفائے عہد کی اس سے خوب صورت مثال مل سکتی ہے...؟؟؟؟؟

میں کچھ ایسے "نام نہاد پیروں "کو جانتا ہوں جو "لکڑ ہضم پتھر ہضم" ہیں...زکوۃ صدقے سب کچھ کھا جاتے ہیں..."پھونکوں" کی کمائی سے عیاشیاں کر رہے ہیں...لیکن رکیے !میں نے ایسے پیر فقیر بھی دیکھے جو صبح سویرے "دم درودو "کے لیے آنے والوں کو" چائے پانی" پیش کرتے...جاتے وقت تعویذ کے بجائے پھل کھانے کو دیتے...

کچھ سال پہلے ایک میڈیا گروپ نے مجھ سمیت پچیس تیس کارکنوں کو" ٹرمی نیٹ" کر دیا...اٹھتے بیٹھتے انسانی حقوق کی گردان کرنے والے ایک "لبرل دانشور "بھی اتفاق سے متاثرین میں شامل تھے....ان کے ساتھ مشاورت سے طے ہوا کہ لاہور پریس کلب میں یونین کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ لائحہ عمل بناتے ہیں ...میں نے اس وقت کے پی یو جے صدر کو بھی ادھر ہی بلالیا..."گفتار کے غازی" لبرل صاحب کا "ہولی ڈے ان ہوٹل" کے قریب اچانک" بیانیہ" بدل گیا...تاویل گھڑی کہ کچھ وجوہ پر میرا شملہ پہاڑی جانا مناسب نہیں اور "رفو چکر" ہوگئے....!!!

کئی سال پہلے "پاکستان"سے "ہجرت" کرنے والے ایک صحافی دوست ہیں...ایک وقت میں بہت  دلبرداشتہ تھے کہ تنخواہ اتنی کم ہے کہ "کچھ "بھی ہو سکتا ہے...ایک اخبار میں کچھ اضافے کے ساتھ اپنے ساتھ بلا لیا...کچھ عرصے بعد مزید اچھی سیلری کے ساتھ ایک اور اخبار میں اپنی جگہ چیف نیوز ایڈیٹر بنوادیا. . . بڑے میڈیا گروپ کا قومی اخبار لانچ ہوا تو پرکشش مراعات کے ساتھ ادھر بھی ساتھ لے گیا...عرصے بعد "دوست صاحب "ایک اچھے گروپ میں چلے گئے...کئی سال وہ انتظار میں رہے کہ ان سے نوکری مانگوں...پھر ایک دن فون کیا کہ سی وی بھجوائیں...پھر دفتر لے جاکر مجھے" لائن" میں لگا کر خود "کھسک" گئے...کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی بات...کچھ عرصے بعد پھر ان کے ایچ آر مینجر کا فون آیا کہ آپ ایک گھنٹے میں آسکتے ہیں...میں نے کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا...بچپن سے خوشامد پر تھوکا، احترام میں پلکیں بچھائیں... سمجھتا ہوں کہ استعفے،برطرفیاں،کبھی افسر تو کبھی دربدر ہونا،پروفیشن کا حصہ ہے...گردش ایام ڈرانے نہیں کچھ سکھانے آتی ہے..کئی "مکروہ چہرے "بے نقاب اور زندگی پہلے سے بھی شانت ہو جاتی ہے...لیکن دیکھیے !سارے دانشور اور صحافی دوست ایک جیسے نہیں ہوتے...میں نے عہد ساز اخبار نویس راجہ اورنگزیب صاحب کو لوگوں کے غم میں اشکبار دیکھا ہے...کلب ملازمین کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے..۔ایسے مدد کرتے کہ دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلتا...جناب تنویر عباس نقوی دوستی کی لاج رکھتے" امر" ہوگئے...اپنی زندگی کے آخری بڑے پراجیکٹ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کے دوستوں کو ایڈجسٹ کیا. . ...کئی لوگوں کو تو میں نے فون کرکے بلایا....مذکورہ دانشور کا بھی تب ہی "ظہور" ہوا اور مذکورہ صحافی بھی میری سفارش پر وہاں سے مستفید ہوئے...!!!اب بھی نوید چودھری اور عظیم نذیر ایسے کئی ہمدرد سنئیرز ہیں جو اپنے آپ سے زیادہ دوسروں کے لیے فکرمند رہتے ہیں...

میرے ایک میٹرک کے کلاس فیلو عرب ملک سے "فیض یاب"کاروباری آدمی ہیں...بقول ان کے وہ "بجنس کلاس"میں سفر کرتے ہیں... انہوں نےزمین خریدی تو"شریکوں"نے ایک سیاستدان کے "تگڑے چمچوں" کو پیچھے لگا دیا...وہ فصل اجاڑ کر بزور طاقت قابض ہو گئے...موصوف مجھ سے کسی بات پر گذشتہ نو سال سے ناراض تھے...ان کی ماں کے الفاظ "پتر ساڈا تے سایہ بھی ساتھ چھڈ گیا اے"نے رلادیا... میں نے مکہ میں ایک اللہ والے کے سامنے جھولی پھیلائی... ڈی آئی جی گوجرانوالہ جناب ذوالفقار چیمہ سے لیکر سی ایم ہاؤس تک گیا...آخر انصاف مل گیا...پھر میں نے اس دوست کے توسط سے دو "مستحق بندے"مارکیٹ ریٹ کے مطابق باہر بھجوائے...وہاں پہنچے تو موصوف نے" ہاتھ کھڑے "کر دیے کہ میں کچھ نہیں کرسکتا...کہیں اور چلے جائیں ورنہ کفیل ویزے کینسل کردے گا...ایک اور اللہ والے نے شفقت فرمائی اور چوبیس گھنٹے میں تنازل ہو گیا...

لیکن سنیے سارے کاروباری دوست "بجنس کلاس "نہیں ہوتے...شہر اقبالؒ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست بیرون ملک ہوتے ہیں...انہوں نے دو تین ایم بی اے لڑکے اور دو تین ورکر اپنے پاس بلائے اور کہا کہ ویزا مفت ہے،صرف ٹکٹ لیکر آجائیں...اللہ کے اس نیک بندے کی وجہ سے کئی گھروں کے چولہے جل رہے ہیں...

چند سال پہلے ایک بڑے ہی نیک نام ریفرنس سے دو "سیاسی بالکے" اپنے برے ترین دنوں میں میرے پاس دفتر تشریف لائے...وہ کچھ"الیکشن کاغذات" پکڑے ہوئے تھے....کینٹین پر چائے پلائی... تسلی دی کہ حوصلہ رکھیں اللہ کرم کرے گا..."دن بدلے" تو میرے ایک ملنے کو کہنے لگے کہ جاؤ اپنا کام اپنے دوست سے کراؤ...لیکن یاد رہے کہ سارے سیاستدان ایک جیسے نہیں ہوتے...ایک ایم پی اے دوست ہیں...میں ان کا ناقد بھی ہوں...انہوں نے میری درخواست پر ایک مستحق بچی کا ہولی فیملی راولپنڈی سے پوری سر درد لیکر آبائی شہر تبادلہ کرایا جبکہ محکمہ زراعت کے ایک غریب ملازم کی اس کے گھر کے قریب ٹرانسفر کرائی...کوئی صلہ تو دور کی بات،کبھی شکریہ بھی نہیں چاہا...

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صرف مولوی ہی نہیں کچھ دانش ور،صحافی،بزنس مین اور سیاستدان دوست بھی" رکشے والے" ہو تے ہیں...مگر سچ یہ ہے سب جج ،جرنیل ،جرنلسٹ" ایک جیسے" ہیں نہ سارے علمائے کرام برے...جہاں ایک مفتی عزیز کے "مبینہ ویڈیو سکینڈل "کا تعفن ہے،وہاں مولانا ابراہیم کی حالت سجدہ میں اللہ کے حضور پیشی کے مناظر بھی خوشبوئیں بکھیر رہے ہیں...ہمیں اپنا زاویہ نگاہ بدلنا ہوگا،ہمیں اپنی ترازو کا توازن درست کرنا ہوگا!!!

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -