وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے بجٹ پر عام بحث سمیٹتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ ساری اپوزیشن آگ بگولہ ہو جائے 

وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے بجٹ پر عام بحث سمیٹتے ہوئے ایسی بات کہہ دی ...
وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے بجٹ پر عام بحث سمیٹتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ ساری اپوزیشن آگ بگولہ ہو جائے 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث سمیٹتے ہوئے کہاہے کہ اپوزیشن نے تنقید برائے اصلاح کی بجائے تنقید برائے تنقید کی ،ساری دنیا پاکستان کی معیشت کی بحالی کی معترف ہے ،پنجاب ریونیو اتھارٹی نے ہدف سے زائد ٹیکس وصولیاں کیں، کورونا وباءمیں کاروبار کو ٹیکس ریلیف دیا گیا ، صحت کے بجٹ میں سابق حکومت کے172017-18ء سے 137 ارب اور تعلیم 97 ارب روپے کا اضافہ کیا ہے،موجودہ حکومت نے ہمیشہ کیلئے ان کا چور دروازہ بند کر دیا ،یہ درست ہےکہ اس وقت سب سےبڑا چیلنج مہنگائی ہے،حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیاہے،صحت پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریک کو ووٹنگ کے ذریعے کثرت رائے کے ساتھ مسترد کردیاگیا ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس  مقررہ وقت کی بجائےایک  گھنٹہ 53 منٹ کی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور ان کی آمد پر حکومتی ارکین نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔بعدازاں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے صوبائی بجٹ پربحث کو سمیٹتے ہوئے بتایاکہ 123اراکین پنجاب اسمبلی نے بحث میں حصہ لیا اورتمام ممبران کی تجاویز کو نوٹ کیاگیا جو مثبت تجاویز ہیں ان کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی ۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے تنقید برائے اصلاح کی بجائے تنقید برائے تنقید کی ہے ،اپوزیشن نے بتایاکہ ان کا سنہری دور تھاحالانکہ جب 2018میںآئی ایم ایف کی رپورٹس آئیں تو ان میں ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، اپوزیشن کو فکر پڑی ہوئی ہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت تباہ ہوئی جبکہ پاکستان کی معیشت میں گروتھ ہوئی ہے ،اس کی وجہ عمران خان کا ویژن تھا جن کی پالیسی کے باعث کورونا کی وباءسے بھی نمٹا گیا اور معیشت کو بھی سنبھالا گیا ۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاق نے تعمیراتی شعبے کو پیکج دیا ، 45 فیصد آبادی کو ہیلتھ کارڈ دئیے گئے ہیں، 106 ارب روپے کا کورونا ریلیف دیا ہے ،پنجاب ریونیو اتھارٹی نے ہدف سے زائد وصولیاں کی ہیں، کورونا وباءمیںبڑے پیمانے پر ٹیکس ریلیف دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت صاف پانی کا منصوبہ شروع کرنے جارہی ہے ، ہم نے ہمیشہ کیلئے ان کا چور دروازہ بند کردیا ہے ، یہ درست ہے کہ مہنگائی سب سے بڑا چیلنج ہے ،عالمی منڈی میں گندم کی قیمت میں29 فیصد اضافہ ہوا ہے ،ہم نے کسان کو 1800 سپورٹ پرائس دی ،آٹے پر ہم نے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے ،احساس پروگرام میں وفاق نے پنجاب کا حصہ رکھا ہے ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے ،گیارہ لاکھ ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 8500 سکولوں کی اپ گریڈیشن کریں گے ،ہم نے گزشتہ سال سے 66 فیصد اضافی بجٹ پیش کیا ہے ، صوبے میں ڈویلپمنٹ کا نیا باب شروع ہونے جا رہا جس پر حکومت نے حکمت عملی طے کر لی ہے ،اے ڈی پی سکیموںپر 100 فیصد فنڈز ریلیز کرنے جارہے ہیں،پنجاب کی گیارہ کروڑ عوام کی تقدیر بدلنے کیلئے حکومت کوشاں ہیں ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -