سپیکر بلوچستان اسمبلی کا بجٹ منظوری کے فوری بعد ارکان اسمبلی کو ان کیمرہ بریفننگ دینے کا اعلان 

سپیکر بلوچستان اسمبلی کا بجٹ منظوری کے فوری بعد ارکان اسمبلی کو ان کیمرہ ...
سپیکر بلوچستان اسمبلی کا بجٹ منظوری کے فوری بعد ارکان اسمبلی کو ان کیمرہ بریفننگ دینے کا اعلان 

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدو س بزنجو نے کہا ہے کہ بجٹ منظوری کے فوری بعد 18جون کو پیش آنے والے واقعہ کے بعد ارکان اسمبلی کو ان کیمرہ بریفننگ دی جائےگی، کسی کوبھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی رکن کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روکے، بجٹ اجلاس کے روز ہونے والی ہنگامی آرائی کی تحقیقات جاری ہیں، سپیکر ہونا یا نہ ہونا معنی نہیں رکھتامگر سپیکر کے عہدہ کے تقدس کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 35 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی نے بی اے پی کی رکن پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی اور فریدہ بی بی کی رخصت کی درخواستیں پیش کیں جن کی ایوان نے منظوری دی ۔

ہزارہ  ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ وصوبائی وزیر کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے عثمان کاکڑ کی ناگہانی وفات پر دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سیاستدان سالوں بعد پیدا ہوتے ہیں،ان کے انتقال پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ،عثمان کاکڑ کی موت کی وجہ ہیڈ انجری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہ جون کو ناعاقبت اندیش لوگوں نے بلوچستان اسمبلی کے احاطے میں جس طرح گملے پھینکے، اگر خدانخواستہ یہ کسی کے سرپر لگتا توا اس کا نتیجہ ہوتا اور کیا رد عمل ہوتا ؟عوام نے ہمیں منتخب کرکے یہاں بھیجا ہے اور یہ اصل فورم ہے جہاں سے آواز اٹھائی جاتی ہے مگر جو رویہ اپنایاگیا وہ غیر سیاسی اورغیر پارلیمانی رویہ ہے، جو قابل نفرت ہے ،پولیس اہلکاروں نے گالم گلوچ کے باوجود کوئی لاٹھی نہیں چلائی حالانکہ اس دن نعرے لگائے گئے کہ لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی، یہاں کوئی لاٹھی گولی کی سرکار نہیں، جمہوری حکومت ہے، ہم تمام لوگ جمہوری ماحول میں بیٹھے ہیں مگر ہنگامہ آرائی ، غندہ گردی اور تالہ بندی کی سیاست نہیں چلے گی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے سپیکر اور اس کے سیکرٹریٹ کا بھی خیال نہیں رکھا ،اسمبلی میں مہم جوئی کی جاتی رہی اور کارکنوں کو مسلسل مشتعل کیا جاتا رہا ،اپوزیشن بتائے کہ انہیں اس سے کیا ملا ؟ انہیں چاہئے تھا کہ وہ بجٹ سے پہلے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرتےاور اپنی تجاویز دیتے ۔

سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ حکومتی یا کسی اور رکن کو اسمبلی میں آنے سے روکے، اگر ارکان چاہتے ہیں تو ہم ارکان اسمبلی کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کے لئے تیار ہیں، تحقیقات میں جس کسی کی بھی کمزوری ثابت ہوئی کارروائی ہوگی ۔

صوبائی وزیر میر ضیاءاللہ لانگو نے ان کیمرہ بریفنگ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بجٹ اجلاس کے دن ہوا، ایسا بلوچستان اسمبلی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا ،سپیکر کی تجویز سے متفق ہیں کہ ایوان کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے،جس پر سپیکر نے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ بجٹ منظوری کے فوراً بعد ان کیمرہ بریفنگ کا بندوبست کیا جائے ۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -