قومی اسمبلی: اپوزیشن ارکان کا وزیرخزانہ، وزیر مملکت کی عدم موجودگی پر واک آؤٹ: عمران خان پر بھی پھٹ پڑے 

قومی اسمبلی: اپوزیشن ارکان کا وزیرخزانہ، وزیر مملکت کی عدم موجودگی پر واک ...

  

  

 اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر پابندی اور 2 نوکریاں کرنیوالوں کی پنشن بند کرنے کا مطالبہ کر دیا گیاجبکہ اپوزیشن نے بجٹ پر بحث کے دوران وزیر خزانہ اور متعلقہ حکام کے اجلاس میں موجود نہ ہونے پر احتجاجاایوان سے واک آؤ ٹ کیا،تاہم حکومتی ارکان انہیں منا کر واپس لے آئے،قومی اسمبلی میں اراکین نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا قوم کو بتایا جائے ملک کو دلدل میں پھنسا کر مشکل بجٹ کے وقت کون اقتدار چھوڑ کر بھاگ گیا؟اگر اتحادی حکومت مشکل فیصلے نہ کرتی تو پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا،معیشت، ماحولیات اور پانی کے معاملے پر تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر اس کا حل تلاش کرنا ہوگا، بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلا س سپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے نو منتخب رکن اسمبلی محمد ابوبکر نے حلف اٹھایا،سپیکر راجہ پرویز اشرف نے ان سے حلف لیااور مبارکباد پیش کی، اس موقع پر ارکان اسمبلی بھی انہیں مبارکباد پیش کرنے کیلئے ان کے پاس آتے رہے،بعدازاں و قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)کے شیخ روحیل اصغر نے نکتہ اعتراض پر کہا بجٹ سے متعلق امور پر بحث کے دوران متعلقہ وزرا کو ایوان میں موجود ہونا چاہیے،مگر ایسا کوئی بندہ بھی موجود نہیں جو ایچ ای سی سے متعلق معاملات کو نوٹ کر ے، بجٹ اجلاس میں تمام محکموں کے افسران کو ایوان میں ہونا چاہیے۔ قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے کہا وفاقی وزیر اور وزیر مملکت خزانہ ایوان میں موجود نہیں ہیں، ہم بطور اپوزیشن اجلاس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، اس کیساتھ ہی اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا متعلقہ حکام ایوان میں موجود ہیں۔ وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل نے کہا  بجٹ سیشن میں زیادہ تر تقاریر مالیات سے متعلق ہوتی ہیں، اس وقت بھی ایوان میں تین وزیر موجود ہیں، گیلری میں وزارت خزانہ کے 8اہلکار ہیں، وہ قائد حزب اختلاف کو منا کر ا یو ا ن میں لے آئیں گے۔ ڈپٹی سپیکر نے وفاقی وزیر قادر پٹیل کو اپوزیشن لیڈر کو ایوان میں واپس لانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں عبد القادر پٹیل اور آغا رفیق اللہ اپوزیشن لیڈر اور ایک رکن کو ایوان میں واپس لیکر آئے۔ حکومتی ارکان اسمبلی نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا صرف اشیائے خورونوش پر سبسڈی دی جائے، ملک کا قابل کاشت رقبہ کم ہو رہا ہے، اس کو کنٹرول کریں اور پرائیویٹ ہاؤ سنگ سوسائٹیوں پر پابندی  لگائیں، ان حالات میں یہ ایک بہت اچھا بجٹ ہے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بہتری کی ضرورت ہے، عمران خان ہمیں لنگر خانوں کا دھوکہ دیکر توشہ خانہ لو ٹ کر لے گیا۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہماری اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی، اس دلدل میں عمران خان نیازی ملک کو ڈال کر گئے، یہ آئی ایم ایف بجٹ ضر و ر مگر امپورٹڈ حکومت ان کی تھی جو یہ سارے معاہدے کر کے گئی، انہوں نے معاہدہ کیا پیسے لئے اور اڑائے، یہ حکومت مشکل فیصلے کریگی ہم نے اپنے سر پر ان کے سارے جرائم لئے ہیں،یہ حکومت اگر مشکل فیصلے نہیں کرتی اور اپنی سیاسی ساکھ کو داؤ پر نہیں لگاتی تو پاکستان دیوالیہ ہونے کی طرف جا رہا تھا، آئی ایم ایف ہم سے اسوقت ناراض ہے کہ آپ لوگ وہ  سخت فیصلے نہیں کر رہے جس کا وہ وعدہ کر کے گئے،اور انٹرنیشنل معاہدوں میں وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی وحید عالم خان نے کہا بجٹ میں کم ازکم تنخواہ 25ہزار کا ذکر نہیں، سرکاری عمارتوں میں آفس ختم ہونے کے بعد غیر ضروری بجلی کی ترسیل بند کی جائے،نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا شمالی وزیرستان میں ہونیوالا واقعہ بہت دردناک ہے،سپیکردہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی رولنگ دیں، پشاور میں بھی دن دیہاڑے ایک دکا ندار سے پچاس لاکھ چھینے گئے، اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہو رہی ہے، اس پر وزارت داخلہ کو ایکشن لینا ہوگا، ڈی چوک کا نام امن چوک رکھیں، یہ ڈی چوک ہمیشہ ہمارے لئے مصیبت بنا ہوا ہے، جی ڈی اے کی رکن اسمبلی سائرہ بانو نے کہا خالی کرسیاں دیکھیں یہ ممبران کہاں پر ہیں، یہاں ایوان میں کیوں نہیں بیٹھ رہے،بجٹ سیشن چل رہا ہے،بجٹ ان کیلئے اہمیت نہیں رکھتا۔،یہ پارلیمنٹ کی بے توقیری نہیں تو کیا ہے۔کیا ان ارکان کا کام صرف پولیس کی گاڑیاں لیکر عوام کو ڈرانا ہے،ممبران اپنے حلقوں میں جاکر غنڈہ گردی کر رہے ہیں ان کو واپس بلائیں،سپیکر ممبران کو ایوان میں واپس آنے کی رولنگ دیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کسی ممبر کیلئے غنڈہ گردی کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے۔مسلم لیگ (ن)کے امغان سبحانی نے کہا انڈیا میں حضور اکرم ؐکی شان میں ہونیوالی گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،جس طرح عوام نے انڈیا میں حضور اکرم ؐسے اظہار عقیدت کیا ہے وہ مودی سرکار کے منہ پر طمانچہ ہے، مجھے بھارت کا ویزہ دیا جائے تاکہ تلوار لے جاؤں اور اس ملعونہ کا سر قلم کرسکوں۔ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہا گزشتہ دور حکومت بدترین تھا جس میں ہرشعبہ زوال پذیر ہوا،احتساب کے نام پر بدترین انتقامی کاروائیاں کی گئیں،جھوٹے وعدوں اور دعووں کی کوئی حد نہیں تھی۔ٹرانسفر پوسٹنگ کیلئے ”گوگی“ ماڈل متعارف کروایا گیا۔سید محمود شاہ نے کہا بجٹ اچھا ہے یا برا فیصلہ عوام نے کرنا ہے،مہنگائی کی وجہ آئی ایم ایف کے معاہدوں کا تسلسل ہے، حکمران عام آدمی کا معیار زندگی اپنائیں،گھر سے دفتر تک سفری اخراجات 98کروڑ ہونگے تومعیشت کا ستیاناس ہوگا،بینکوں کا سسٹم ختم کیا جائے پیسے سارے بینکوں میں منجمد ہیں۔اظہر قیوم نہرا  نے کہا موجودہ حکومت نے مشکل حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا،اتحادی جماعتوں نے اپنی سیاست داؤ پر لگا کر ریاست بچانے کا فیصلہ کیا۔علی گوہر بلوچ نے حصہ لیتے ہوئے کہا عمران خان کی خواہشات پوری نہیں ہوسکتیں، عمران خان سینیٹ، پنجاب، سندھ اور پختونخواہ اسمبلی سے استعفیٰ دے۔شازیہ صوبیہ نے کہابلاول بھٹو کی کاو شوں کے باعث پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے باہر نکلا،متحدہ حکومت معاشی بہتری اور انتخابی اصلاحات کیلئے آئی ہے،عمران خان انتشار پھیلانے آئے تھے جس کو اداروں نے ناکام کیا۔ بجٹ پر بحث کرتے ہوئے ن لیگ کے رکن اسمبلی چوہدری فقیر احمد نے کہا ان حالات میں یہ ایک بہت اچھا بجٹ ہے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بہتری کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -