روس سے تیل خریدنے کا دعویٰ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تحقیقات کی ہدایت کر دی 

روس سے تیل خریدنے کا دعویٰ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تحقیقات کی ہدایت کر دی 

  

       اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پبلک اکاونٹس کمیٹی  نے سابق دور حکومت  میں روس سے سستا تیل خریداری پر تحقیقات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ وزارت پیٹرولیم تحریری طورپر بتائے کہ روس سے تیل لینے کی حقیقت کیا تھی۔ایک خط بھی میڈیا پر چلتا رہا ہے اسے بھی دیکھا جائے۔کمیٹی میں انکشاف ہواکہ  توانائی شعبہ کاگردشی قرض 4 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہوگیاہے جس میں بجلی کا 25 سو اور گیس کا 15سو ارب قردشی قرض ہے۔حکومتی رکن کمیٹی شیخ روحیل  اصغر نے متنبہ  کیاکہ تیل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اگلے چار پانچ دن کے بعد آئل کا ایک بڑا بحران آئیگا۔کمیٹی نیسابق ایم ڈی پی پی ایل   سید وامق بخاری  کے خلاف ایف آئی اے کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ سید وامق بخاری 9 ارب سے زائد لیکر بھاگا ہے۔ جس شخص نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اس کے ریڈ وارنٹ جاری ہونے چاہیے۔ کمیٹی نے سابق ایم ڈی پی ایس او نعیم یحیی میر، سینئر جنرل مینیجر ذوالفقار جعفری کے ریڈوارنٹ جاری کرنے کی  بھی ہدایت کردی۔سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کوبتایاکہ  ملک میں کوئی پیٹرولیم بحران نہیں آنیوالا ہے سعودیہ بہت مہربان ملک ہے جو ہمیں 1.2 ارب کا ڈیفرڈ کریڈ دیتا ہے۔بدھ کو پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین  نور عالم خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ کمیٹی میں حکام نے پی ایس او کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی سے متعلق 56 ارب کا خلاف ضابطہ معاہدے  پر کمیٹی کو بریف کیا۔جس پر کمیٹی نے بیرون ملک فرار ہونے والے پی ایس او کے سابق ایم ڈی اور جنرل منیجر کے ریڈوارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کردی۔سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کوبتایاکہ سابق ایم ڈی پی ایس او نعیم یحیی میر، سینئر جنرل مینیجر ذوالفقار جعفری نے خلاف ضابطہ معاہدے کیے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جن لوگوں نے خلاف ضابطہ معاہدے کیے اور ملک سے باہر بھاگ گئے انکے ریڈ وارنٹ جاری کریں جو لوگ بیرون ملک کی شہریت رکھتے ہیں وہ کرپشن کرکے بھاگ جاتے ہیں بعض سیاسی لوگوں کو بھی اس طرح کے لوگوں سے فنڈنگ ملتی ہے جو لوگ کرپشن کرکے بھاگے ہیں انکی جائدادوں کی تفصیلات لیکر آئیں ان لوگوں کے اثاثہ جات کی تفصیلات چیک کرکے نیب کو فراہم کریں۔اجلاس میں وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن کے سال 2019-20 کے آڈٹ پیراز زیر غور  کیاگیا۔شیخ روحیل اصغر  نے کہاکہ کروڈ آئل سعودیہ سے امپورٹ کرتے ہیں اسکے لیے ایل سی کھولتے ہیں سعودیہ انٹرنیشنل بنک کی گارنٹی مانگتا ہے اور وہ بنک چار سے پانچ فیصد انٹرسٹ لیتا ہے آپ جو انٹرنیشنل بنک کو انٹرسٹ دیتے ہیں سعودیہ سے اتنا نہیں منوا سکتے کہ ہمارے اپنے بنک گارنٹی دیں گے اگلے چار پانچ دن کے بعد آئل کا ایک بڑا بحران آئیگا جو امپورٹ نہیں ہو رہا۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے جواب دیاکہاکوئی پیٹرولیم بحران نہیں آنیوالا ہے سعودیہ بہت مہربان ملک ہے جو ہمیں 1.2 ارب کا ڈیفرڈ کریڈ دیتا ہے۔کمیٹی میں حکان نے انکشاف کیاہے کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 4 ہزار ارب روپے ہو گیاہے۔ سیکرٹری توانائی نے کہاکہ بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 25 سو ارب اور گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 15 سو ارب ہو گیا،پی ایس او، پی پی ایل، سوئی سدرن اور سوئی نادرن کا گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے،گیس شعبے کا گردشی قرضہ بڑھنے کے باعث مقامی کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری چھوڑ دی، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اوگرا ایکسپلوریشن کمپنیوں کو سہولیات فراہم میں ناکام ہو چکا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں۔سیکرٹری توانائی علی رضا بھٹہ نے کہاکہ پاکستان میں 100 فیصد گھروں کو گیس کنکشن دینے کی صلاحیت موجود نہیں ہے،گیس پائپ لائن سے صرف 27 فیصد گھروں کو گیس کنکشن دیا ہوا ہے، نئے ڈیمانڈ نوٹسز نہیں جاری کیے جا رہے۔پی اے سی نے  سابق حکومت کی جانب سے روس سے سستا تیل خریداری پر تحقیقات کرانے کا حکم دے دیا۔نورعالم خان  نے سوال کیاکہ کیا کوئی معاہدہ ہوا تھا؟کیا کوئی رقم دی گئی تھی؟وزارت پیٹرولیم تحریری طورپر بتائے کہ روس سے تیل لینے کی حقیقت کیا تھی روس سے کن دستاویزات کا تیل کے سلسلے میں تبادلہ ہوا؟ ایک خط بھی میڈیا پر چلتا رہا ہے اسے بھی دیکھا جائے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہماری حکومت نے روس کے ساتھ تیل لینے کے لئے بات چیت کا آغاز کیا تھا بتایا جائے روس کے ساتھ بات چیت کس حد تک آگے بڑھی موجودہ حکومت روس سے تیل لینے کے معاملے پر کیا کررہی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے مطالبہ کیاکہ   روس سے تیل لینے کے دعوے کی تحقیقات ہونی چاہئے۔پبلک اکانٹس کمیٹی کو57ہزار 565گیس صارفین سے نان ریکوری کے  معاملے پر سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کوبتایاکہ 20ارب روپے میں سے14 ارب ریکور ہو چکے کے الیکٹر ک نے ہمارے بھی 126 ارب روپے دینے ہیں جس پر پبلک اکانٹس کمیٹی نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو آئندہ میٹنگ میں بلا لیا۔گیس پروسیسنگ فیسلٹی قائم کرنے میں تاخیر پر خسارے کا معاملے پر ایف آئی اے نے کمیٹی کوبتایاکہ سید وامق بخاری ایم ڈی پی پی ایل تھے وہ اب بیرون ملک چلے گئے۔  سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ سید وامق بخاری 9 ارب سے زائد لیکر بھاگا ہے۔چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ جس شخص نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اس کے ریڈ وارنٹ جاری ہونے چاہیے۔پی اے سی نے اس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کردی۔

مزید :

صفحہ اول -