دو دن میں  دو اچھی خبریں، آئی ایم ایف پروگرام بحال، چین بھی پاکستان کو 2.3ارب ڈالر دیگا

  دو دن میں  دو اچھی خبریں، آئی ایم ایف پروگرام بحال، چین بھی پاکستان کو ...

  

        اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ چینی کنسورشیم پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چینی کنسورشیم نے پاکستان کے لئے معاہدہ کر لیا، معاہدے کے تحت کنسورشیم پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر فراہم کرے گا، رقم آئندہ چند دنوں میں پاکستان کو مل جائے گی۔وفاقی وزیر خزانہ نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ رقم کی فراہمی میں چینی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج میں ایک سال کی توسیع کی امید ظاہر کی  ہے۔غیر ملکی  خبر رساں ادارے  رائٹرز سے گفتگو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج میں ایک سال کی توسیع متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض کی رقم بڑھنے کی بھی توقع ہے جب کہ کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے بنیادی طورپربجٹ اور مالیاتی اقدامات پراتفاق ہوا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ اگلے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 5 ارب روپے سے بڑھا کر7 ہزار 450 ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے جب کہ کسٹم وصولی کا ہدف 950 ارب روپے سے بڑھا کر ایک ہزار 5 ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ہرماہ 5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے، جی ایس ٹی کی مد میں وصولیوں کا ہدف 3 ہزار8 ارب روپے سے بڑھا کر 3 ہزار 3 سو ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں وصولیوں کا ہدف 55 ارب روپے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر یکم جولائی سے سیلز ٹیکس 11 فیصد کی شرح سے وصول کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر50 روپے فی لیٹرلیوی عائد کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات پر ہرماہ 5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

مفتاح اسم

مزید :

صفحہ اول -