پی اینڈ جی نے  صاف پانی کی فراہمی کا ہدف مکمل کرلیا

  پی اینڈ جی نے  صاف پانی کی فراہمی کا ہدف مکمل کرلیا

  

کراچی(پ ر) پی اینڈ جی  پاکستان  50 ملین لیٹر سے زیادہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے اپنے 2022 کے ہدف کے حصول کا جشن منا رہا ہے۔ پی اینڈ جی  سندھ، پنجاب، کے پی کے اوآزاد جمو کشمیر کے متعدد اضلاع میں اپنے غیر منافع بخش چلڈرن سیف ڈرنکنگ واٹر (سی ایس ڈی ڈبلیو) پروگرام کے ذریعے  تقریباً 300,000 لوگوں کی مدد کر رہا ہے۔ 50ملین لیٹرز پانی کی فراہمی کا عہد ڈاکٹر عارف علوی، صدر پاکستان کی زیر صدارت  طویل مدتی این جی او شراکت دار ہوپ اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے  2019 میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں پی اینڈ جی پائیداری سے متعلق دیگر اعلامیہ / عہدکیا گیا  اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے، عادل فرحت، سی ای او  پی اینڈ جی پاکستان نے کہا  "صاف پانی تک عدم رسائی کمیونٹی میں بہت سے چیلنجز کا باعث بنتی ہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے بچے اکثر اسکول جانے سے محروم رہتے ہیں ۔ خاص طور پر خواتین اور لڑکیاں  اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ وہ غیر متناسب طور پر گھریلو پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ انہیں اکثر خاندان کے بیمار افراد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ پانی جمع کرنے کے لیے روزانہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر جانا پڑتا ہے۔

  جو متعدد لڑکیوں کو اسکول جانے اور تعلیم کے حصول سے روکتی ہے جو انہیں بہتر اور روشن مستقبل بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ " انہوں نے مزید کہا، "زندگی کو بہتر بنا نے کے اپنے مقصد کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے  ہمارے کمیونٹی پروگرامزنے آج تک لاکھوں پاکستانیوں کے معیار زندگی کو بہتر کیا ہے۔" پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں گھر کے قریب صاف پانی تک سب سے کم رسائی ہے۔ واٹر ایڈ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 21 ملین افراد کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ پی اینڈ جی واٹر پیوریفیکیشن ٹیکنالوجی، پیوریفائر آف واٹر، ایک حیرت انگیز اختراع ہے جو  10 لیٹر آلودہ  ممکنہ طور پر مہلک پانی کو فوری صاف اور پینے کے قابل پانی میں آسان، سستی اور آسان طریقے سے بدل دیتی ہے۔ اس علاقے میں پی اینڈ جی کی کوششیں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف   6 کی حمایت کرتی ہیں تاکہ سب کے لیے پانی اور صفائی تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہوپ کی بانی اور وژنری ڈاکٹر مبینہ اگبوٹ والا نے کہا  "پاکستان تیسری دنیاکا ایک ایسا  ملک ہے  جہاں نوزائیدہ  بچوں میں اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ گیسٹرو، ٹائیفائیڈ اور دیگر   انفیکشنز ان  بیماریوں میں شامل ہیں جو ان اموات کا باعث بنتی ہیں۔ پی اینڈ جی  تکنیکی مہارت، مالیاتی سرمایہ کاری، انسانی وسائل اور پی اینڈ جی پیوریفائر آف واٹر پیکیٹس کی فراہمی کے ساتھ ہماری مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی اینڈ جی ، ہوپ   کے ساتھ شراکت میں صاف پانی کے بحران سے لڑنے کے لیے پرعزم ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے اس ہدف کو مقررہ تاریخ میں مکمل کر لیا۔.

مزید :

کامرس -