ایف بی آر،ملازمین کی ہڑتال،بیوروکریسی کی چالیں شروع

ایف بی آر،ملازمین کی ہڑتال،بیوروکریسی کی چالیں شروع

  

ملتان (نیوز رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اعلی بیوروکریسی پرفارمنس الاونس کی بحالی کے لیئے گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کو ہڑتال پر (بقیہ نمبر41صفحہ7پر)

اکسانے کے بعد نہ صرف ملازمین کا ساتھ چھوڑ گئی بلکہ یونین ملازمین کو ٹرانسفر پوسٹنگ کے ذریعے ہراساں کیا جانے لگا ہے جس کا پہلا شکار صدر فیڈرل ریونیو الائنس آر ٹی او سیالکوٹ چوہدری محمد آصف بن چکا ہے گذشتہ روز کی قلم چھوڑ ہڑتال پر ان کا ٹرانسفر آر ٹی او سیالکوٹ سے آر ٹی او گجرانوالہ کردیا گیا ہے ایف بی آر مینجمنٹ کے اس اقدام سے ملازمین میں سخت تشویش پائی جارہی ہے، ذرائع کے مطابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایف بی آر کی بہتر کارکردگی پر ملازمین کے لیئے پرفارمنس الاونس کا اجرا کیا گیا تاہم بعد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بند کردیا لیکن ایف بی آر ملازمین کے احتجاج پر اس وقت کے وزیرآعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایف بی آر ملازمین کا منجمد کیا گیا پرفارمنس الاونس بحال کردیا لیکن بعد ازاں خلاف ضابطہ سیکرٹری خزانہ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے وزیرآعظم کی منظوری سے بحال کردہ پرفارمنس الاونس دوبارہ بند کردیا جس کی بحالی کے لیئے ایف بی آر کی اعلی بیوروکریسی متحرک ہوئی لیکن محدود تعداد رکھنے والے افسران اعلی حکام کو قائل کرنے اور دباو ڈالنے میں ناکامی کا سامنا ہونے پر گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کے ملازمین کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا گیا اور ملک بھر میں ایف بی آر کے افسران کی اشیرباد سے ملازمین کی بڑی تعداد نے اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مقررین نے جمعرات کے روز دفاتر میں تالہ بندی کا اعلان بھی کیا گیا لیکن جو افسران پرفارمنس الاونس کی بحالی کے لیئے ملازمین کو میدان میں لائے تھے وہ یونین لیڈر چوہدری محمد آصف کے خلاف ضابطہ سیالکوٹ سے گجرانوالہ ٹرانسفر ہونے کے اقدام سے خوفزدہ ہوکر نہ صرف میدان چھوڑ گئے ہیں بلکہ مینجمنٹ کے ساتھ مل کر ملازمین کو ٹرانسفر پوسٹنگ جیسے ہتھکنڈوں سے ہراساں کرنے میں مصروف ہیں،

مزید :

ملتان صفحہ آخر -