بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے! 

بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے! 
بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے! 

  

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اپنے نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ایسے ہی رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے جان دے کر تاریخ رقم کی دونوں باپ بیٹی موت کے خوف سے آزاد تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو معافی نامہ پر دستخط کرنے کی پیش کش کی گئی انہوں نے قبول نہ کی اور جو کاغذات جیلر ان کے پاس لے کر آیا وہ انہوں نے واپس کر دیئے تھے اور پھر 4اپریل کی صبح تختہ دار پر جھول گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو جان کے خطرے سے آگاہ کیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے منع کیا وہ نہ مانیں اور اکتوبر 2007ء میں کراچی پہنچ گئیں جہاز سے پاک دھرتی پر ان کے جذبات اس ویڈیو کلپ سے صاف ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھ سے بے ساختہ آنسو ڈھلک پڑے تھے۔ پھر سانحہ کار ساز ہوا۔ دو ڈھائی سو جیالے جاں بحق ہوئے محترمہ تک پہنچا نہ جا سکا اور وہ اس خودکش واردات سے محفوظ رہیں لیکن لیاقت باغ کے جلسے میں شرکت جان لیوا ثابت ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ محترمہ کو نہ صرف انٹیلی جنس والوں نے بلکہ خود ان کے اس وقت چیف سیکیورٹی افسر رحمن ملک نے بھی جلسے میں شرکت سے منع کیا تھا، لیکن وہ نہ مانیں کہ جو رات قبر میں آنا ہے وہ باہر آ ہی نہیں سکتی اور پھر وہ سانحہ ہو گیا جس کی پرت آج تک نہیں کھل سکی کہ ہمارے ملک کے پہلے وزیراعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی شہادت کا مسئلہ بھی فائلوں میں دب کر رہ گیا تھا۔ مجھے بے نظیر بھٹو کی بیرون ملک روانگی یاد ہے کہ میں اپنے فوٹو گرافر ناصر غنی کے ساتھ 4اپریل (یوم شہادت) کی کوریج کے لئے لاڑکانہ گیا اور گڑھی خدا بخش والے جلسے کی بھی کوریج کی جو محترمہ کی بدیس روانگی سے قبل ان کا آخری جلسہ تھا۔ محترمہ اس جلسہ میں شرکت کے لئے اپنے پسندیدہ لباس میں آئی تھیں سفید شلوار اور سبز قمیض کے اوپر سفید دوپٹہ ان پر بہت بھلا لگ رہا تھا وہ سٹیج پر بیٹھی اپنی روائتی مسکراہٹ کے ساتھ حاضرین کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلاتیں اور اپنے ساتھیوں کے سوالوں کے جواب بھی دیتی تھیں۔ ایک دوبار انہوں نے حاضرین میں سے بعض پرجوش نوجوانوں کے بارے میں بھی پوچھا میں نے اپنے تجسس کی خاطر سرگوشیوں میں پوچھا کہ خبروں کے مطابق وہ ملک سے باہر جا رہی ہیں وہ ہر بار مسکرا کر بات ٹال دیتی تھیں، میرے چار پانچ بار یہی سوال پوچھنے کی وجہ سے بالآخر وہ مسکرائیں اور کیا دعا کرو، اس سے اندازہ ہو گیا کہ خبریں بے حقیقت نہیں ہیں اور پھر وہی ہوا کہ اس جلسہ سے ان کا خطاب اس دور کا آخری ثابت ہو اور وہ کامل ساڑھے چھ سال کے لئے ملک سے باہر چلی گئیں۔ 2001 ء اپریل کا یہ جلسہ ان کی خود ساختہ جلاوطنی کا آخری تھا۔ وہ دبئی میں مقیم رہیں اور وہاں سے امریکہ برطانیہ اور بعض دوسرے ممالک میں بھی گئیں امریکہ اور برطانیہ سے تو ان کو  باقاعدہ دعوت نامے موصول ہوتے تھے۔

پیشہ ورانہ فرائض کے دوران میری ان سے یہ آخری ملاقات تھی اگرچہ بعد میں ان کے دبئی میں قیام کے دوران چودھری منور انجم کی وساطت سے آن لائن انٹرویو ہوئے۔ محترمہ خود میل پڑھتیں اور خود ہی جواب ٹائپ کرکے جواب بھی دیتی تھیں۔ اس قیام کے دوران وہ پارٹی کے حضرات سے مشاورت بھی کرتی رہیں، کہا تو یہی جاتا ہے کہ ان کو روکنے اور پاکستان نہ آنے دینے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن وہ نہ مانیں اور جان جانِ آفرین کے سپرد کرنے کے لئے چلی آئیں اور پھر اپنے باب کے پہلو میں آرام کرنے چلی گئیں۔ پیپلزپارٹی والوں نے ان کی 69ویں سالگرہ منائی اس سلسلے میں ایک جلسہ عام بھی ہوا اس سے ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کیا۔ جیالوں نے اب ان سے توقعات وابستہ کر لی ہیں اور وہ بلاول میں ان کی والدہ اور نانا کی صفات تلاش کرتے ہیں۔

محترمہ بے نظیر  بھٹوکی زندگی بھی عروج و زوال کی ایک کہانی ہے ان کو 1986ء میں وطن واپسی پر لاہور میں جس طرح خوش آمدید کہا گیا وہ منظر آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکتا کہ لاہور ایئرپورٹ سے مینار پاکستان تک لوگ ہی لوگ تھے۔ دور دراز سے آنے والے تو سڑکوں پر رات گزار کر منتظر تھے۔ ان کے اس یادگار استقبال کی ایک بڑی خوبی عوامی جوش و خروش تھا۔ اس کی مثال نہیں ملتی ماسوا اس کے کہ جب ان کے والد ایوب کابینہ سے مستعفی ہو کر ٹرین سے آئے اور لاہور میں زندہ دلوں نے جس جذبے کے ساتھ ان کا استقبال کیا ویسا ہی جوش و جذبہ 1986ء میں نظر آیا تھا۔

آج کے حالات میں محترمہ بے نظیر بھٹو یوں بھی یاد آتی ہیں کہ ان کے مزاج میں تحمل بھی بہت تھا۔ صدا بہار مسکراہٹ چہرے پر سجتی تھی تو بات بھی تحمل سے کرتیں محترمہ نے اپنے کیرئیر کا آغاز اپنے والد کے دور حکومت میں شروع کیا اور ان کو والد کی طرح خارجہ امور سے دلچسپی تھی اور بھٹو صاحب نے ان کو دفتر خارجہ جانے کی اجازت بھی دی تھی۔ بعدازاں جب وہ دوبار برسراقتدار آئیں تو وزارت خارجہ کا منصب ان کے پاس ہی رہا اگرچہ وزیرامور مملکت ساتھ بنا دیئے گئے کہ دفتری امور بھی دیکھتے رہیں۔ محترمہ نے پاکستان کے ماحول کے لئے اردو باقاعدہ پڑھی اور جلد ہی اردو تقریر میں مہارت بھی حاصل کی وہ اپنی گفتگو میں نون غنہ بہت استعمال کرتی تھیں یہ بُرا نہیں لگتا تھا بلکہ ان کی اردو کے ساتھ سج جاتا تھا، بے نظیر بھٹو کی مہارت کے باوجود کبھی کبھی کوئی لفظ ایسا بھی استعمال کر جاتیں جو خبر بن جاتا، ایک بار سرگودھا میں جلسہ عام تھا جہاں وہ مدعو تھیں ان کی تقریر شروع ہوئی تو نماز کا وقت قریب تھا میں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ لاہور سے کوریج کے لئے گیا ہوا تھا محترمہ کی تقریر ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ اذان شروع ہو گئی۔ انہوں نے تقریر روک دی اور یہ کہہ کر بیٹھ گئیں ”اذان بج رہا ہے“ یہ ان کی اردو کی غلط فہمی کا مسئلہ تھا اس پر قہقہہ تو بلند ہوا اور خبر بھی بن گئی لیکن احترام کا جو جذبہ انہوں نے ظاہر کیا وہ اپنی جگہ متاثر کن تھا۔

محترمہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں عورت کی قیادت کے حوالے سے فتوے بھی دیئے گئے لیکن ان کی اپنی کارکردگی ایسی تھی کہ ان فتوؤں کا کوئی اثر نہ ہوا، بے نظیر بھٹو نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں اپوزیشن کا ہمیشہ احترام کیا اور خود بھی ایوان میں آتی تھیں، وہ جب ایوان میں آتیں تو میڈیا سے بھی بات ہوتی ایک مرتبہ میں اور چند دوسرے لوگ انہی کی دعوت پر اسلام آباد گئے طے تو یہ تھا کہ ان سے الگ ملاقات ہو گی اور آف دی ریکارڈ بھی گفتگو کریں گی لیکن ہمارے اسلام آباد کے دوستوں نے مہمانوں کی پرواہ کئے بغیر ایوان کے وزیراعظم چیمبر کے باہر اس انداز میں کرسیاں لگوا لیں کہ یہ ایک پریس کانفرنس کا سماں بن گیا۔ بہرحال جو بھی ہوا انہوں نے گفتگو کی اور لاہور سے آنے والوں کا بھی خیر مقدم کیا۔ آج کے دور میں جب پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو وہ دور کچھ افسانوی سا لگتا ہے جب نہ تو ایسی ”بدزبانی“ اور ”بدکلامی“ ہوتی تھی اور نہ ہی اپوزیشن سے تعلقات دشمنی کی حد تک تھے تب بات ایوان میں ہوتی سوچتا ہوں کہ آج وہ زندہ ہوتیں تو 70میں قدم رکھ چکی ہوتیں اور ان کا شمار بھی سینئر سیاستدانوں میں ہوتا اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -