کاروباری اوقات، لوڈشیڈنگ کا حل!

 کاروباری اوقات، لوڈشیڈنگ کا حل!

  

السلام علیکم کے بعد عرض ہے کہ لوڈشیڈنگ کی کوئی بھی وجہ ہو اس کا فوری حل ممکن نہیں ہے، لہٰذا اگر آپ مال روڈ سے شروع ہو جائیں تو تقریباً چاروں اطراف بڑے بڑے پلازے اور شو روم رات بارہ بجے تک کھلے رہتے ہیں اور اے سی اور بے تحاشہ لائٹیں جل رہی ہوتی ہیں تقریباً ساری دکانیں 11، 12بجے تک کھلتی ہیں اور رات اتنے ہی بجے بند ہوتی ہیں۔اگر ان کو صبح9 کھولا جائے اور سات بجے شام بند کر دیا جائے تو لوڈشیڈنگ ختم ہو سکتی ہے۔ صرف گلی محلے میں 8بجے تک کھلی رہیں۔قوم کو عادت ڈالنی ہو گی کہ صبح اٹھیں اور8یا9 بجے تک ساری دکانیں اور شوروم کھل جائیں اور7بجے تک دس گھنٹے بنتے ہیں جو کاروبار کے لیے کافی ہیں باہر کے ممالک میں عام دکانیں آٹھ گھنٹے چلتی ہیں اور بند ہو جاتی ہیں مخصوص شوروم اور کلب چلتے ہیں۔11بجے تک ٹی وی پروگراموں پر ہر وقت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا تذکرہ رہتا ہے اور ہر سیاست دان کی پگڑی اچھالی جاتی ہے۔ غریب عوام کو قانون اور اس کی پیچیدگی سے کوئی سروکار نہیں، اُن کو تو صرف بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ قانون اور آئین سے اُن کا پیٹ نہیں بھرتا۔اس ملک کی پیچھے رہ جانے کی وجہ صرف اور صرف خود غرضی ہے۔ ملک کا کوئی نہیں سوچتا صرف اپنی اور اپنی اولاد کا سوچتا ہے،حالانکہ ساری قوم ایک ہی خاندان ہے جس کا نام پاکستان ہے اور پاکستان کا نقصان پوری قوم کا نقصان ہے اور افواجِ پاکستان اس قوم کی جان ہے اس کے بغیر اس کا وجود قائم نہیں رہ سکتا جو لیڈر اور سیاست دان فوج کو سیاسی معاملات میں گھسیٹتے ہیں۔ وہ ملک کے ساتھ وفادار نہیں ہیں وہ اپنے ذاتی فائدے کے لیے ان کو ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ جمہوریت۔ جمہوریت کی روح کے مطابق نہیں ہے۔

لالہ غلام حسین ہاشمی، جامع مسجد کلمہ  طیبہ و مدرسہ، لاہور

مزید :

رائے -اداریہ -