مریضوں کی حفاظت ایک لازمی مضمون ہے،ڈاکٹرسہیل احمد 

 مریضوں کی حفاظت ایک لازمی مضمون ہے،ڈاکٹرسہیل احمد 

  

اکراچی (پ ر)غلطی ہونا ممکنات میں شامل ہے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود انسان سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر روزانہ کے اخبارات اور میگزین میں ہمیں غلطیاں نظر آتی ہیں، حالانکہ پروف ریڈرز، سب ایڈیٹرز اور ایڈیٹرز اخبار کو پرنٹنگ کے لیے بھیجنے سے قبل بغور اور بار بار پڑھتے ہیں۔ اسی طرح میڈیکل کے شعبے میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شعبہ امراض صحت میں صحیح لوگ کام نہیں کررہے ہیں، یا اس کے نظام میں کوئی خرابی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں کام کرنے والوں کو مریضوں کی حفاظت کے بارے معلوم ہونا چاہیے اور انہیں اپنی معلومات میں مزید اضافہ کرتے رہنا چاہیے۔طبی غلطیوں کو کم کرنے اور حفظان صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے مریضوں کی حفاظت کے بارے میں سیکھنا اور  سمجھنا ضروری ہے۔یہ کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ہسپتالوں میں طبی غلطیوں کے باعث ہر سال ہزاروں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہلاکتیں کار حادثات یا کینسر سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہیں۔ درحقیقت، کام کی جگہ پر لگنے والی چوٹوں سے زیادہ لوگ غلط دواؤں سے مرتے ہیں، جس سے مالی نقصان کے ساتھ انسانی المیے میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی وجہ سے طبی غلطیاں بہت جلد بڑے مسائل میں شمار ہونے لگی ہیں۔پاکستان میں طبی نصاب میں مریضوں کی حفاظت ایک لازمی مضمون بن گیا ہے، خاص طور پر جب ملک میں سرکاری اور نجی ہیلتھ کیئر کا نظام بہت ناقص ہے۔ 020 میں، جب پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا عروج پر تھی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے طبی تعلیم میں مریضوں کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا۔ آج ملک میں 80 سے زائد ہسپتال ڈبلیو ایچ او کے پیشنٹ سیفٹی فرینڈلی ہسپتال اقدامات کا حصہ ہیں،  جس میں مریضوں کے حفاظتی معیارات متعین کیے گئے۔ ہسپتالوں کو ان معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانی چاہیے۔ یہ مریضوں کی حفاظتی ترجیحات کو مربوط بنانے کا ایک پلیٹ فارم ہے، جہاں انفیکشن کی روک تھام و کنٹرول، صحت و صفائی اور معیاری احتیاط تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -