مردان‘ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت‘ زیر علاج بچی جاں بحق

مردان‘ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت‘ زیر علاج بچی جاں بحق

  

مردان(بیورورپورٹ) مردان کے ٹیچنگ ہسپتال ایم ایم سی میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے زیر علاج بچی جان بحق ہوگئی ورثاء کے گلہ کرنے پر ڈاکٹروں نے بچی کے والد اور دادی مارمارکر زخمی کرڈالا،پولیس نے رپورٹ درج کرلی گذشتہ شب علاقہ مایار کے رہائشی عدنان نے اپنی تین سالہ بچی مرجان کو پیٹ میں درد کی شکایت پرایم ایم سی ہسپتال لایا جہاں اسے سرجیکل اے وارڈ میں داخل کیاگیا رات گئے بچی کی حالت بگڑ گئی بچی کے والد کے مطابق جس پر ہم نے بار بارڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کو مریض کے لئے بلایا لیکن وہ نہ آئے جس کے دوران بچی وفات پا گئی عدنان کے مطابق جب وہ ڈاکٹروں سے گلہ کرنے گیا توڈاکٹر عباس،ڈاکٹر مصدق،فیاض اور وارڈ اردلی محسن نے لاتوں ڈنڈوں اورمکوں سے حملہ کیا جس سے عدنان او راس کی والدہ دونوں زخمی ہوگئے پولیس نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ جمع کرادی اس حوالے سے ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر عمادحمید سے رابطہ کیاگیا توان کاکہناتھاکہ بچی کو سیریس کنڈیشن میں لایاگیا تھا وہ سرجیکل وارڈ میں ایڈمٹ تھی ڈاکٹر عباس نے بچی کا سی پی آر کیاتھا لیکن بچی جانبر نہ ہوسکی یہی اللہ کو منظور تھا  انہوں نے مزید کہاکہ بچی کے ورثاء نے ڈاکٹر پر حملہ کیا اورڈاکٹروں نے خود کو بچانے کی کوشش کی ہے۔دریں اثناء پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا جبکہ ہسپتال انتطامیہ نے بھی تحقیقات شروع کردیں یادرہے کہ ایم ایم سی آئے روز اس قسم کے واقعات معمول بن گئے ہیں جس کے سدباب کے لئے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں گذشتہ دنوں بھی ایساہی واقعہ رونماہواتھاجس میں علاقہ شاملات کے دو زخمی بھائیوں کو بروقت طبی امداد نہ دینے پر ورثاء نے ڈاکٹروں کو شکایت کی توڈاکٹروں نے مبینہ طورپر زخمیوں کے والد کو تشدد کا نشانہ بناکر زخمی کردیاتھا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -