ایک دوست کا تعلق ممبئی سے تھا،ہم نے اسے ”دادا“ کہنا شروع کر دیا،وہ یہ نام سن کر ہلکی آنچ پر مسکراتا، مجھے یقین ہے بیوی بھی اسے ”دادا“ ہی کہتی ہو گی

ایک دوست کا تعلق ممبئی سے تھا،ہم نے اسے ”دادا“ کہنا شروع کر دیا،وہ یہ نام سن ...
ایک دوست کا تعلق ممبئی سے تھا،ہم نے اسے ”دادا“ کہنا شروع کر دیا،وہ یہ نام سن کر ہلکی آنچ پر مسکراتا، مجھے یقین ہے بیوی بھی اسے ”دادا“ ہی کہتی ہو گی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:310
عبدالقادر دادا
میرے اس بہت ہی پیارے دوست کا تعلق ممبئی انڈیا سے تھا، ہم دونوں نے ہسپتال میں شمولیت سے پہلے والی کمپنی میں بھی ایک ساتھ ہی ملازمت کی تھی اور ہسپتال میں بھی 23 سال اکٹھے ہی رہے۔ ممبئی کے گینگسٹر کا جو نقشہ فلمیں دیکھ کر میرے ذہن میں بنا تھا میں نے اسی مناسب سے اسے ”دادا“ کہنا شروع کر دیا اور قدرے احترام کی خاطر اس کے ساتھ ”بھائی“ کا لاحقہ بھی لگا دیا۔ سب دوستوں کو یہ نام اتنا من بھایا کہ وہ سب اسے”دادا بھائی“ کہنے لگے جس کا اس نے برا بھی نہیں منایا بلکہ سن کر ہلکی آنچ پر مسکراتا رہتا۔ اس کا یہ نام اس تواتر سے استعمال ہوا کہ مجھے یقین ہے کہ اس کی بیوی بھی اسے ”دادا“ ہی کہتی ہو گی، ”بھائی“ کہنے سے ا س لیے بھی گریز اں ہو گی کہ رشتہ باطل ہونے کا خدشہ تھا۔
ہم دونوں بیٹھ کر ڈھیروں باتیں کیا کرتے تھے دل کا بڑا صاف ستھرا بندہ تھا، یاد نہیں پڑتا کہ میرے اُکسانے کے باوجود اس شخص کے منہ سے کبھی کسی کی غیبت یا برائی سنی ہو۔وہ بہت ہی محب وطن تھا، نہ کبھی پاکستان کو بُرا کہتا اور نہ ہندوستان کی کوئی برائی سنتا، اگر کبھی ایسا موقع آتا تو وہ خاموش ہو جاتا، تاہم اس کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ضرور آ جاتے تھے۔ ہر وقت ہلکا پھلکا رہتا اور دوسروں کو بھی ایسا ہی رکھتا۔ میرے آنے کے بعد وہ واپس ممبئی چلا گیالیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ بہت ہی خوشگوار یادیں چھوڑ گیا جو آج بھی مجھے اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہیں۔ میری کوشش کے باوجود اپنے اس پیارے ہندوستانی دوست سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اللہ اسے خیر و عافیت سے رکھے۔
بتول کامران
بتول کامران ہمارے ہندو پاک گروپ کی ایک بہت ہی سرگرم اور قابل احترام رکن تھی، خطہ دکن کے ادبی اورتہذیب و اخلاق والے شہر حیدر آباد سے اس کا تعلق تھا۔ جس طرح پاکستان میں فیصل آباد والوں کی جُگتیں مشہور ہیں ٹھیک اسی طرح ہندوستان میں حیدرآباد والوں کی حس مزاح بھی ہر وقت پھڑکتی رہتی ہے۔جس محفل میں وہ شامل ہوتی تو اُس کی کھٹی کھٹی حیدرآبادی باتیں حاضرین کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتی تھیں۔ ایک دفعہ ہمارے ادارے کے ایک بندے نے کچھ حسب کتاب لگا کے اظہار تفنن کے طور پر کہا کہ یہاں کے ملازمین کی اوسط عمر صرف40 سال ہے، بتول نے فوراً لقمہ دیا کہ یہ بھی میری وجہ سے ہے کیونکہ میں ابھی20 سال کی ہوں۔پہلے تو کسی کو یہ بات سمجھ ہی نہ آئی، اور جب آئی تو بہت سے بزرگوں کے سرجھک گئے تھے۔  
اچھے خاصے لکھنوی لہجے میں اردو بولتے بولتے اسے یکدم زور کا دورہ پڑتا اور پھر اگلے سارے مکالمے وہ دُھلی ہوئی حیدرآبادی زبان میں ہی ادا کرتی اور ہر بات میں اتنا ”نکو نکو“ کرتی تھی کہ سننے والا بھی ”نکو نک“ ہو جاتا۔   ”ہیں  “ کو     ”ہاؤ“ بنا دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ مزہ تب آتا جب اسے 2 دفعہ ”ہیں ہیں“ کہنا پڑتا تھا۔ تو اس کی     ”ہاؤ،     ہاؤ“ کی آواز دور سے آتی ہوئی کسی لومڑی کی فریاد ہی لگتی تھی۔ ہمارے مشترکہ دوست دادا بھائی کو اُس کی وہ بات ہمیشہ یاد رہی جب انگلی کٹ جانے کو بتول نے انگلی ”پھٹ گئی“ اور بچہ گیلا ہوجانے کو ”بچہ کچا ہو گیا“ کہا تھا۔ وہ اس کی زندہ دلی کا ذکر کرتے وقت ہمیشہ ایسی ہی باتوں کا حوالہ دیا کرتا تھا۔
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -