خاندان کا ماحول بچوں کی شخصیت پر اثرات چھوڑتا ہے، رشتہ داری قائم کرنے سے پہلے لڑکے لڑکی کے خاندانوں کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے

 خاندان کا ماحول بچوں کی شخصیت پر اثرات چھوڑتا ہے، رشتہ داری قائم کرنے سے ...
 خاندان کا ماحول بچوں کی شخصیت پر اثرات چھوڑتا ہے، رشتہ داری قائم کرنے سے پہلے لڑکے لڑکی کے خاندانوں کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:141
گھر واپس پہنچ کر میں نے ایک بار پھر عمر سے پوچھا کہ وہ اپنی اس تجویز پر کتنا سنجیدہ ہے، اس کا جوا ب تھا کہ ”میں بہت زیادہ سنجیدہ ہوں“۔ میں نے اسے کہا کہ”ٹھیک ہے یہ مجھ پر چھوڑ دو اور اب تم امریکہ واپس جاؤ“ یہ ٹھیک ہے کہ اس طرح کی رشتہ داری قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ لڑکے لڑکی کے بارے میں علم ہونا چاہئے، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسے سلسلے قائم کرنے کے لیے ان کے خاندانوں کے بارے میں جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ خاندان کا ماحول بچوں کی شخصیت پر یقیناً اپنے اثرات چھوڑتا ہے۔ میں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بریگیڈئیر سراج کے بارے میں پتہ کروایا تو  میری پہلی ملاقات کے تاثر کی تصدیق ہوگئی۔ کچھ ماہ کے بعد میں، وسیمہ اور سمعیہ ان کے گھر گئے اور با ضابطہ طور پر ان سے رابعہ اور عمر کے رشتے کی درخواست کی۔ اس دوران میں ان کے بڑے بھائی کرنل (ریٹائرڈ) ریاض سے بھی ملا۔ وہ ایک باوقار اور نفیس انسان تھے۔ بعد ازاں میری ان کے سب سے بڑے بھائی میجر جنرل(ریٹائرڈ) احسان الحق سے بھی ملاقات ہوئی۔ جو ایک بہت ہی با خبر اور صاحب علم شخص تھے جن کے ساتھ بیٹھ کر اور بات کرکے لطف آتا تھا۔ اس دن قائم ہونے والے پرخلوص رشتے اور باہمی عزت و تکریم ابھی تک جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔  
عمر کی باقاعدہ منگنی 31 دسمبر 2002 کو ہو گئی۔ اس دن بریگیڈئیر سراج نے ایک شاندار تقریب اور پُر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا تھا۔    21 دسمبر 2003 کو وہ دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ بارات کے لیے استقبالیہ کا انتظام قصر نور گلبرگ میں کیا گیا تھا۔ اور پھر میں نے اس فوجی خاندان کو طے شدہ وقت کے عین مطابق پہنچ کر حیران کر دیا۔ یہ پابندیِ وقت میں نے امریکیوں سے سیکھی تھی۔ 25 دسمبر کو ولیمے کی تقریب ہوئی جس کے لیے ہم نے ایک فارم ہاؤس میں ظہرانہ کا انتظام کیا ہوا تھا۔ یہ ایک بہت ہی دلچسپ پکنک کی طرح کی تقریب ثابت ہوئی۔ جس میں مہمانوں کو مشروبات کے علاوہ بار بی کیو اور دیگر مختلف اقسام کے کھانے پیش کئے گئے۔ ہمارے ساتھ کچھ دن قیام کرکے عمر اور رابعہ امریکہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ 
سمعیہ اور زبیر کے ہاں 2 پیاری اور خوبصورت بیٹیاں تھیں لیکن وہ اب بیٹے کے لیے دعا کر رہے تھے۔ اور ان دعاؤں میں دونوں خاندانوں کے تمام افراد بھی شامل تھے۔ بالآخر سب کی دعائیں قبول ہوئیں اور اللہ نے ریان کی شکل میں ان کو پیارا سا بیٹا عطا کیا۔ سب ہی اللہ کی طرف سے دئیے گئے اس تحفے کو پا کر بہت خوش تھے۔ لیکن ریان کے دادا محمد اکرم تو خوشی سے نہال تھے اور فرط جذبات سے خوب اونچااُڑ رہے تھے۔ ریان بڑا ہوا تو ان کے اور خاندان کے لیے ایک اور اچھی خبر لایا کہ اس کو ایچی سن کالج میں داخلہ مل گیا تھا اور یہ سب کچھ اس کی اپنی کوششوں اور اہلیت کی بنیاد پر ہوا تھا۔ ریان اب ایک وجیہ نوجوان ہے، تھوڑا سا شرمیلا مگر انتہائی دلکش شخصیت کا مالک ہے۔ وہ FAST  یونیورسٹی میں سافٹ وئیر انجینئرنگ کی ڈگری کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -