کیا تاریخ ہم سے روٹھ گئی ہے؟....یوم پاکستان کے تناظر میں!

کیا تاریخ ہم سے روٹھ گئی ہے؟....یوم پاکستان کے تناظر میں!
کیا تاریخ ہم سے روٹھ گئی ہے؟....یوم پاکستان کے تناظر میں!

  

23مارچ کا دن ہماری قومی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس دن اسلامیانِ ہند نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے قائداعظمؒ کی زیرقیادت اقبال پارک(منٹو پارک) لاہور میں قرارداد لاہور کی صورت میں یہ تاریخی فیصلہ کیا تھا کہ اب ہندوستان کے سیاسی مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ برصغیر کو تقسیم کرکے شمال مغربی حصے کو ملا کر مسلمانوں کے لئے الگ آزاد وطن بنایا جائے۔مسلمانوں نے یہ فیصلہ کوئی ایک دو روز کی سوچ بچار کے بعد نہیں کیا تھا،بلکہ اس کے پس منظر میں ایک صدی سے زیادہ کا سفر ہے۔

یوم پاکستان کی تقریبات تزک و احتشام سے مناتے ہوئے آج پوری قوم اپنی آزادی کی مسرتوں اور شادمانیوں سے سرشار ہے۔دراصل آزادی کی قدرو قیمت کا اندازہ صرف وہی قومیں کرسکتی ہیں،جن کے بیٹے بیٹیوں نے نخل آزادی کی خون جگر سے آبیاری کی ہو۔ اسلاامیانِ برصغیر نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عہد آفرین قیادت میں مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم کے زیر سایہ جب یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ہندو رام راج اور انگریز سامراج کی دہری غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد چانکیائی سیاست کی پیروکار ہندو قوم کی غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں، کیونکہ مسلمان کسی بھی قوم کی تعریف کی رُو سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور انہیں اپنی تہذیب و ثقافت ،اپنی روایات، اپنے عقائد اور اپنی اقدار اور شعائر کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے ایک الگ وطن چاہیے تو یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا۔ پاکستان کا قیام ایک معجزہ ہے،جو حضرت قائداعظمؒ کی سیاسی بصیرت کی زندہ مثال ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں ایک آزاد اسلامی مملکت کے قیام کا تصور کسی کے خلاف نہیں تھا، بلکہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو بازیاب کرنا تھا!

تحریک جنگ آزادی پاکستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔یہ اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک آزادی کے متوالے پاکستان کے اصل مقاصد اور اس کے قیام کی حقیقی روح کو حاصل نہیں کرلیتے۔پاکستان کسی فرد واحد کی ملکیت یا جاگیر نہیں، بلکہ 19کروڑ بہادر اور غیور قوم کے پاس قائداعظمؒ کی امانت ہے۔میرے نزدیک تحریک پاکستان کی کامیابی کا بڑا راز یہ تھا کہ ہمارے لیڈر بکے نہیں تھے، اگر قائداعظمؒ کی سوچ ہمارے موجودہ سیاست دانوں کی طرح ہوتی تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے قائداعظم کو اعزازی ڈگری، ڈاکٹر آف لاءعطا کرنے کے لئے خط لکھا، لیکن قائد نے یہ جواب تحریر کرکے انکار کردیا کہ ”مَیں ہر چیز اپنی محنت سے حاصل کرتا ہوں، آپ کا شکریہ کاش قائداعظمؒ آج زندہ ہوتے!

اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ پاکستان میں سیاست آج ون مین شو بن کر رہ گئی ہے جو پارٹیوں کی بجائے چند شخصیات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔تقسیم ملک کے بعد پٹیل جو گاندھی جی کے سب سے بڑے لیڈر تھے، سبھاش چندربوس، ڈاکٹر راجندر پرشاد، ڈاکٹر راج گوپال اچاریہ اور مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ کانگرس کے چوٹی کے رہنماﺅں میں شمار ہوتے تھے، لیکن ان تمام کے ہاں سیاست وراثت میں نہیں گئی اور نہ ہی ان کی سیاست وراثتی صورت میں ہندوستان کے عوام پر مسلط ہوئی۔چین میں ماﺅزے تنگ اور چو این لائی اس صدی کے عظیم رہنما تھے، مگر ان کے بعد بھی وہاں ان کی وراثتی سیاست قائم نہیں ہوئی۔ماﺅ کی وفات کے بعد اس کی بیوی کو صرف اس لئے گرفتار کیا گیا کہ وہ چار کے اس ٹولے میں شامل تھی جو پوری قوم کی نگاہوں میں سخت ناپسندیدہ گروہ تھا۔اسی طرح روس میں لینن یا سٹالن کی اولادیں بھی سیاسی وراثت کو روائتی عمل کے طور پر قبول کرنے سے گریزاں رہیں۔جمال عبدالناصر کی بیٹی کو تو میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا،کیونکہ نمبر مطلوبہ حد سے کم تھے۔ کیا ہماری تاریخ ہم سے روٹھ گئی ہے۔ ہماری آزاد ریاست پاکستان کس کی غلامی میں ہے؟

پھر بھی ہم عظیم ہیں۔ہر دلعزیز ہیں۔قوم کے رہنما ہیں،کس قوم کے ؟ قائداعظمؒ کی قوم کے جو مینار پاکستان کی بلندیوں پر کھڑا ہمیں دیکھ رہا ہے۔مینار پاکستان راوی کے اس پار اپنی ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر پکار رہا ہے کہ پاکستان اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اسلام کی عمل داری اور نظریہ¿ پاکستان کی حکمرانی ہو گی۔ یہاں پر اسلامی جمہوریت کو پروان چڑھایا جائے گا۔اس کے پہاڑوں کے اندر چھپے ہوئے ذخائر اور سونا اگلنے والی زمین کی بدولت اس کی معیشت کو مضبوط بنایا جائے گا۔آزاد خود مختار اقوام کی طرح غیروں کا دستِ نگر ہوئے بغیر دنیا کی صف میں بلند مقام پر فائز کیا جائے گا۔ پاکستان اور نظریہ¿ پاکستان کے باغبانوں اور معماروں کو امور سیاست اور حکومت میں شامل کیا جائے گا، لیکن ہم نے یہ سب کچھ یکسر نظر انداز کردیا!

آج یوم پاکستان کے موقع پر یہ سوال اُبھر کر سامنے آتا ہے کہ آخر ہم کب تک یونہی بھٹکتے اور بیگانوں پر انحصار کرتے رہیں گے؟ ایک ایٹمی قوت بن کر بھی اگر ہم امریکہ اور بھارت سے ڈرتے رہے اور قرضوں کی اہمیت کو امرت دھارا سمجھتے رہے تو خدشہ ہے کہ کہیں ہم اپنے آپ کو آزادی کا اہل ثابت کرنے میں ناکام نہ رہیں۔ آج پوری قوم کے ساتھ سیاسی اور فوجی قیادت کو بھی تجدید عہد کرنا چاہیے کہ وہ قرارداد پاکستان کے جذبہ کو زندہ رکھنے کے لئے اپنا کردار نیک نیتی سے ادا کریں گے۔  ٭

مزید :

کالم -