73واں یوم قرار دادِ پاکستان :نئے سفر کا آغاز

73واں یوم قرار دادِ پاکستان :نئے سفر کا آغاز
73واں یوم قرار دادِ پاکستان :نئے سفر کا آغاز

  

مسلمانوں کی حتمی منزل جس کا خواب شاعر مشرق نے 1930ءمےں دےکھا تھا 1940ءکے بعد اےک حقےقت بن گےا اس وقت مسلمانوں کی سےاست نے اےک نےا اور اہم قدم اُٹھاےا تھا۔ 1937ءسے پہلے کی پالےسی سے انحراف کرتے ہوئے برملا اظہار کیا کہ مسلمان اب متحدہ ہندوستان مےں نہےں رہنا چاہتے ۔جو ں جوں کانگرےس متحدہ ہندوستان کے نظرےہ کی طرف بڑھ رہی تھی تو©©©”لےگ“بھی مسلم آزادی کی طرف بڑھنے لگی ہندوستان کی سےاست مےں اےک بنےادی تبدےلی آرہی تھی۔کانگرےس کی وزارتوں کا عرصہ جو کہ جولائی 1937ءسے اکتوبر 1939ءتک محےط تھا کسی بھےانک خواب سے کم نہےں تھا۔ اس وقت کے مسلم اخبارات کی فائلےں اس امر کی گواہ ہیں کہ کانگرےس کا روےہ کتنا غےر جمہوری اور مسلمانوں کے خلاف تھا مسلمانوں کے جائز اور حقےقی مطالبات کو نظر انداز کر دےا گےا تھا اور قائد اعظم نے کانگرےس پر الزام لگاےا کہ وہ برصغےر ہندوستان مےں ہندوﺅں کی نشاة ثانےہ کے لئے کام کر رہی ہے ےہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے رد عمل نے پاکستان بنانے کےلئے بہت اہم کردار ادا کےا ہے اور اس امر سے بہت لوگوں کو ےقےن تھا کہ اگر کانگرس کی حکومت مزےد کچھ عرصہ برقراررہتی تو اےسے فرقہ وارانہ فسادات چھڑجاتے جن کی انسانی تاریخ میںکوئی نظےر نہ ہوتی اگر ہندو مضبوط مرکز چاہتے تھے تو انہےں حاصل کرنے دو مگر مسلمانوں کو اپنا اےک الگ مرکز چاہےے۔ اور ےہ تقسےم تھی ۔

 1940ءسے بہت پہلے جب آل انڈےا مسلم لےگ نے اپنی مشہور اور تارےخی قرار داد پاکستان منظور نہےں کی تھی تو کئی مسلمان مشاہےرنے اس امر کی وکالت کی تھی کہ بر صغےر مےں اےک الگ مسلم ملک ےاایک سے زائد رےاستےں قائم کی جائےں۔ پاکستان کی طرف پہلا قدم اٹھانے والے ان سوالوں نے زوردےکر کہا تھا کہ ہندواور مسلمان دو الگ قومےں ہےں اور ےہ تجوےزکےا کہ ملک کو دو حصوں مےں بانٹ دےا جائے ۔ 1867ءمےں سر سےد احمد خان نے کہا ”اب دونوں ہندوﺅں اور مسلمانوں کےلئے ےہ نا ممکن ہے کہ وہ اےک قوم کی حےثےت مےں رہےں“ ہندوستان مےں مسلمانوں کے مستقبل کی وجہ سے وہ بہت پرےشان تھے۔ انہوں نے لدھےانہ مےں مسلمان طالب علموں کے اےک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اےک قوم ہےں۔ ”وہ تمام لوگ جو اسلام مےں شامل ہوتے ہےں مل کر اےک مسلمان قوم بناتے ہےں“1880ءمےں سرجون سےکی نے اپنی کتاب Expension of Englandمےں لکھا کہ ہندوستان اےک سےاسی وحدت نہےں ہے بلکہ اےک جغرافےائی اکائی ہے ہندوستان کسی اےک قوم ےا زبان کا ملک نہےں بلکہ بہت سی قومےتوں اور زبانوں کا علاقہ ہے سےد امےر علی جو کہ مشہور کتاب The spirit of Islamکےمصنف ہےں نے لکھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومےں ہےں سر محمد اقبال وہ پہلی اہم مسلم شخصےت تھے جنہوں نے مسلم لےگ کے پلےٹ فارم سے تقسےم کا فارمولا پےش کےا۔ انہوں نے اپنا ےہ نظرےہ 1930ءکے الہ آباد کے صدارتی خطبہ مےں پےش کےا چوہدری رحمت علی جو کہ کےمبرج مےں طالب علم تھے نے لفظ ”پاکستان“ بناےا اور 1933ءمےں پاکستان نےشنل موومنٹ کی بنےاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اےک اپنی تارےخ تمدن اور کلچر ہے اور موجود ہ جدو جہد مےں ہماری پشت دےوار سے لگی ہوئی ہے۔ ۔۔ ہم سب کو پتہ ہے کہ پاکستان ہماری تقدےر ہے گو کہ مسلمانوں کےلئے اےک الگ وطن کا نظرےہ ہندوستان کے سےاسی حلقوں مےں نمو پار رہا تھا لےکن پھر بھی ےہ کسی مےں جرات نہےں تھی کہ اسے حتمی شکل دےتا۔ علامہ اقبال نے اےک نظرےہ پےش کےا مگر پھر وہ بھی خاموش ہوگئے البتہ وہ اپنے ہم مذہبوں کی قےادت کرنے کی بجائے انہےں ابھارتے رہے رحمت علی مستقل مزاجی سے لگے ہوئے تھے مگر ان کے پاس وسائل نہےں تھے صرف اےک مضبوط سےاسی پارٹی ہی اس کو اپنے سےاسی پروگرام کا حصہ قرار دے کر برسر عمل کر سکتی تھی۔ ےہ بالکل وہی تھا جس پر مسلم لےگ نے 1940ءمےں عمل کےا لاہور کے اپنے تارےخی اجلاس مےں انہوں نے پہلی دفعہ ہندوستان کی تقسےم کا مطالبہ کےا مسلم قومےت کی تارےخ مےں قائد اعظم کا صدارتی خطبہ اےک تارےخی حےثےت رکھتا ہے انہوں نے ہندو اور مسلمان رےاستوں کے سوال کا نا قابل تنسےخ مطالبہ پےش کےا بالا خر قائد اعظم نے کانگرس او ر انکے ارادوں کی حقےقت کو جان لےا تھا۔

 23مارچ 1940ءکومولوی فضل الحق جو کہ بنگال کے وزےر اعلیٰ تھے نے اےک قرار داد پےش کی جس مےں اتفاق رائے سے منظور کی گئی قرارداد مےں ےہ کہا کہ آل انڈےا مسلم لےگ کے اجلاس کی متفقہ رائے ہے کہ وہ تمام علاقے جن مےں مسلمانوں کی اکثرےت ہے جےسا کہ شمالی مغربی اور مشرقی علاقے ہےں کو آزادرےاستی قراردےاجائے ےہ تمام ےونٹ ہر لحاظ سے آزاد اور خود مختارہوں گے اس قرارداد کی حماےت چودھری خلیق الزمان نے کی اور مولانا ظفر علی خان ، سردار اورنگ زےب خان، سر عبداللہ ہا رون اور آئی آئی چندرےگر نے تائےد کی اسکے بعد مسلم لےگ کی پالےسی بالکل واضح تھی۔ اس میں کسی غلطی کا کوئی امکان نہےں تھا۔ انہےں اےک متحدہ ہندوستان کی ضرورت نہےں تھی جس مےں ہندوﺅں کی اکثرےت ہوجس مےں جمہورےت کے قاعدے کی روسے ہندو اکثرےت مسلم اقلےتوںکے حقوق اور مفادات کو نظر انداز کرنے لگتی۔ ہندوستان کو تقسےم ہونا چاہےے اور اسکا کوئی متبادل نہےں ہے قرار داد پاکستان دراصل ہندوﺅں کی ہٹ دھرمی کا جواب تھا ان کو پاکستان کی تشرےح کرنے کی ضرورت نہےں تھی کےونکہ سب کوعلم تھا کہ وہ کےا چاہتے ہےں۔

 مےورلے نکولس نے 1943ءمےں ہندوستان کا دورہ کےا ۔اس نے قائد سے پوچھا آپ پاکستان کے بنےادی فلسفہ کو کےسے بےان کریں گے؟ قائد نے جواب دےا کہ صرف پانچ الفاظ ہےں کہ مسلمان اےک قوم ہےں۔ پاکستان کے تصور کو اپنانے سے مسلمان قومےت وجود مےں آگئی مسلمانوں کو اس امر کا ادراک ہونے مےں کئی برس لگ گئے کہ انہےں در حقےقت کےا چاہےے ڈاکٹر کے کے عزےز جو اےک مشہور دانشور تھے، نے کہا انہوں نے ہر طرح کی کوشش کرکے دےکھ لےا جےسے 1857ءکی بغاوت برطانےہ کے ساتھ دوستی کانگرےس کی مخالفت انتہا پسندوں کی تحرےک کانگرےس کے ساتھ تعاون غےر جانب داری ، مذاکرات، اپےل، دھمکےاں ، وغےرہ مگر تارےخ کے سفر نے اےک کمےونٹی کو قوم بنا دےا ڈاکٹر عزےز لکھتے ہےں کہ انہوں نے برطانےہ کے ساتھ رہنے کے فوائد اور مندوں کی خےر سگالی کو بھی دُکھی دل سے دےکھا کانگرےس کے اس دعوے کے جواب مےں کہ ہندو ستان اےک قدرتی رےاست ہے کا جواب مسلمانوں نے اےک بالکل نئے مسلم قومےت کے نظرےہ سے دےا۔ مسلمانوں نے پاکستان کا مطالبہ کےوں کےا؟ کےونکہ ان کو ہندوﺅں کے غلبے کا ڈرتھا آل حمزہ جےسے دانشوروں نے مسلمانوں کے ”سخت “ روےے کو گاندھی اور اس کے پےرو کاروں کے نفرت کے تصور کا رد عمل قرار دےا۔ گاندھی کی ہداےات کے تحت کانگرےس کی چند مہےنوں کی حکومت نے مسلمانوں کو مستقبل مےں پےش ہونے والے حالات سے آگاہ کر دےا تھا۔ زےڈ اے سلہری نے پاکستان کے مطالبہ کے لئے تےن وجوہات بےان کی تھےں: مسلمانوں نے انگرےزوں سے پہلے ہندو ستان پر حکومت کی تھی۔ اس لئے ان کا حق بنتا تھا کہ وہ کم از کم مسلم اکثرےت والے علاقوں پر حکومت کرےں۔ مسلمانوں اور ہندوﺅں کے فلسفہ حےات اور رہن سہن مےں اس قدر فرق تھا کہ ان کا اکٹھا رہنا نا ممکن تھا۔ مسلمانوں کو اس امر کا بھی پختہ ےقےن تھا کہ ان کے اقتصادی اور معاشرتی مسائل صرف اسلام پر عمل کرنے سے ہی حل ہو سکتے ہےں اور ےہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ان کا اپنا الگ ملک ہو۔ کانگرےس کا روےہ ہمےشہ فرقہ ورانہ رہا اور جب وہ اقتدار مےں آئے تو انہوں نے مسلمانوں کو کبھی بھی اعتماد مےں نہےں لےا انہوں نے ودےا مندر سکےم ، واردھا سکےم۔ ”بندے ماترم“ اور دوسرے ہندو عقےدوں کو نافذ کرکے ہندو راج قائم کرنے کی کوشش کی اور کبھی اےک دفعہ بھی انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنے کا نہےں سوچا۔ان کے متعصبانہ رویوں ہی نے ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو اپنے لئے ایک الگ ریاست قائم کرنے کا راستہ دکھایا تاکہ وہ اپنے عقائد ،اپنی ثقافت اور اپنے طور طریقوں کے مطابق اجتماعی زندگی کی تشکیل و تعمیر کرسکیں۔  ٭

مزید :

کالم -