سندھ میں انتخابات کا نقشہ

سندھ میں انتخابات کا نقشہ
سندھ میں انتخابات کا نقشہ

  

قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوںکے انتخابات ایک ہی روز 11مئی کو کرانے کا اعلان کردیا گیا ہے ، مئی کا مہینہ پاکستان کے تقریباً تمام علاقوں میں گرمی کے شباب کا مہینہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج نے چونکہ اختلاف رائے کے بعد محاذ آرائی اور محاذ آرائی کے بعد مخاصمت ، جبکہ مخاصمت کے بعد قبائلی طرز کی دشمنی کی صورت اختیار کرلی ہے، جس میں جدید اسلحہ کی فراوانی سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، لہٰذا گرمی کے دنوں میں گرما گرم سیاسی ماحول صرف لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہی تلاش نہیں کرے گا،بلکہ لہو بہانے کا راستہ بھی ڈھونڈے گا ۔

11مئی 2013ءکو ہونے والے انتخابات میں اگر وہ کسی بڑے سانحہ یا ہنگامہ آرائی کے بغیر ہوگئے، تو امکان یہی ہے کہ سندھ میں معمولی رد و بدل کے ساتھ ”حکمران کلاس“وہی رہے گی جو گزشتہ پانچ سال سے ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی گرفت، مقبولیت میں واضح فرق پڑنے کے باوجود اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں پر بوجوہ حسب سابق برقرار ہے، دونوں پارٹیاں اب بھی اپنے مخصوص حلقوں سے جس کو چاہے اُمیدوار نامزد کرکے جتوا سکتی ہےں ۔ جیت کے تناسب میں فرق تو پڑسکتا ہے اور دو تین حلقوں میں نتیجہ بھی غیرمتوقع آسکتا ہے ، مگر دونوں پارٹیوں کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ انہیں الیکشن میں پوری طرح دیوار سے لگانا ممکن ہے اور کوئی بڑی تبدیلی بذریعہ الیکشن آجائے گی ، نہایت خام خیالی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں ان کے موجودہ حریف باہم مل کر بھی چت کردےں تو اسے ناقابل یقین کہاجائے گا ۔

سندھ کے نقشے میں جغرافیائی ، معاشرتی، لسانی اور سیاسی لحاظ سے کراچی اسی طرح جداگانہ حیثیت کا حامل کئی اضلاع پر مشتمل اور کسی صوبے جیسا ایک ڈویژن ہے، جس طرح معاشی لحاظ سے پورے پاکستان میں کراچی کی علیحدہ اور جداگانہ شناخت ہے، لہٰذا کراچی کے سیاسی حقائق،رجحانات اور الیکشن2013ءکے حوالے سے مستقبل کے امکانات کا الگ تجزیہ کرنا ہو گا.... تاہم حیدرآباد ، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے اضلاع میں سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد لسانی کے ساتھ ساتھ بااثر وڈیروں اور سرداروں کے تعلق پر استوار ہے، چنانچہ مسلم لیگ(ن) نے جہاں سندھی قوم پرست تنظیموں سے مفاہمت کی بنیاد رکھی ہے ،جو کسی ایجی ٹیشن اور سٹریٹ پاور کے تعلق سے تو پیپلز پارٹی پر حاوی ہوسکتے ہیں مگر وو ٹ کے ذریعے اُسے شکست نہیں دے سکتے، وہیں مسلم لیگ(ن) نے پاور پالیٹکس کی ضرورت کے تحت بعض جگہ بااثر خاندانوں ، وڈیروں اور سرداروں سے ناتہ جوڑا ہے تاکہ وہ یہ کہہ سکے کہ سندھ سے بھی اسمبلیوں میں اس کے ممبران موجود ہےں۔

 زمینی حقائق کے مطابق وہ اس دوڑ میں پیپلز پارٹی سے بہت پیچھے ہیں اور فنکشنل لیگ جس کی اپنی سیاسی بنیاد پیر پگارو کی گدی اور اس کے حوالے سے مریدوں کی طاقت پر استوار ہے اور جو سندھ میں سندھی قوم پرستوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) کی تائید و حمایت سے خود کو پیپلزپارٹی کا متبادل بنانے کی جستجو کررہی ہے۔ اگر ضلع سانگھڑ کے علاوہ ضلع خیرپور میں جہاں پیر جو گوٹھ بھی واقع ہے اور ضلع میرپورخاص اور ضلع عمر کوٹ میں اپنے موجود اثرات اور بااثر وڈیروں اور زمینداروں کو اچھے سیاسی انداز سے بروئے کار لانے میں کامیاب رہی تو پورے سندھ کے مجموعی نتائج میں یہ فرق پڑسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کے ساتھ ان کے مشترکہ حریفوں کا برابری کی سطح کا تیسرا گروپ سندھ اسمبلی میں پہنچ جائے۔

نتائج کے بعد اس تیسرے گروپ کے لئے حکومت سازی کے مرحلے پر یہ بات پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہو گی کہ وہ کس کو کم تر برائی کی حیثیت سے قبول کرنے کا فتویٰ دے ، کیونکہ ایم کیو ایم کو قابل قبول کہہ کر حکومت سازی میںگلے لگانے سے صرف جلال محمود شاہ ، قادرمگسی اور ایاز لطیف پلیجو جیسے ایک درجن سے زیادہ سندھی قوم پرست لیڈر ہی ناراض نہیں ہوں گے، بلکہ سندھی عوام بھی ان کے شدید مخالف بن جائیں گے اور اگر پیپلز پارٹی کو گلے لگایا جاتا ہے، تو ایک طرف ایم کیو ایم کی ناراضگی کے سبب شہری سندھ میں آئے روز ہڑتالوں سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا ،دوسری طرف ایم کیو ایم کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے احساس محرومی کو مہاجروں کے احساس محرومی کا نام دے کر تقسیم سندھ کی وہ سیاست شروع کردے، جس کی چنگاریاں اس کے شامل اقتدار رہنے کے سبب گاہے اُٹھنے یا اُٹھانے کے باوجود دبادی جاتی ہےں۔

کراچی کی بطور جداگانہ سیاسی اکائی کی حیثیت کو ایک طرف رکھ کر چار ڈویژنوں پر مشتمل بقیہ شہری اور دیہی سندھ کا جائزہ لیا جائے تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی پاور پالیٹکس کے مقابلے میں دیگر تمام بڑی جماعتوں کی دال پتلی نظرآتی ہے.... مثلاً حیدرآباد جو سندھ کا دوسرا بڑا شہرہے اور کراچی کے بعد بقیہ سندھ میں اس کی اول درجے کی پوزیشن ہے ، یہاں بھی تمام تر عوامی ناراضگی کے باوجود پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی دسترس سے شہر کو باہر نکالنے کی ٹھوس جستجو دکھائی نہیں دیتی۔ صرف پرویز مشرف دور میں متحدہ مجلس عمل کے تحت الیکشن لڑنے والی جے یو پی اور جماعت اسلامی کے قومی و صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں میں مشترکہ اُمیدوار وں کی کامیابی کے وقت بریک تھرو دیکھنے میں آیا تھا۔ وگرنہ برسوںکی یرغمالی کیفیت نے عام لوگوں کی طرح حریف جماعتوں کے افراد میں بھی ایسی پژمردگی اور شکست خوردگی طاری کردی ہے جو رگ و پے میں اُتری محسوس ہوتی ہے۔

حیدرآباد میں مسلم لیگ(ن) ، جماعت اسلامی اور فنکشل لیگ جیسی بڑی جماعتوں کے لوگ دبے لفظوں میں سچائی سے یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم جیتنے کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کرنے کی طاقت اور اہلیت دونوں ہی کھو بیٹھے ہیں اور انتخابات میں صرف اس لئے حصہ لیتے ہیں کہ مخالفین کو بلامقابلہ جیتنے کا موقع نہ ملے۔ جماعت اسلامی کے پاس دفتر بھی ہے اور تنظیم بھی ہے، مگر وہ1970ءاور 1977ءکی طرح اگر تمام نشستوں پر اُمیدوار کھڑے بھی کردے، تب بھی اس کے پاس اتنے پولنگ ایجنٹ اور اتنے ورکروں کا دستیاب ہونا محال ہے کہ مخالف اُمیدوار کے حامی ٹھپے لگا کر ڈبے نہ بھرسکیں،جبکہ مسلم لیگ(ن) نے کارکنوں کی ذاتی کوششوں سے کبھی کبھی کسی جگہ دفتر بنانے کا تجربہ کر لینے کے باوجود سندھ کے اس بڑے اور اہم شہر میں کوئی باقاعدہ دفتر رکھنے کی منصوبہ بندی کی ہے، نہ اس کے پاس معقول تنظیم ہے جو کارکنوں کی شیرازہ بندی رکھتے ہوئے اپنے حامیوں کو میدان میں لاسکے اور قابل قبول اچھے اُمیدوار میدان میں اُتار سکے ۔فنکشنل لیگ کا حال اس سے زیادہ خراب ہے اور وہ غیر سنجید گی کے ساتھ صرف چند متمول شخصیات تک محدود ہے۔ یہ چند تلخ اور زمینی حقائق حیدر آباد کے آئینے میں آنے والے انتخابات کی تصویر کا حقیقی رُخ دیکھنے کے لئے کافی ہےں۔  ٭

مزید :

کالم -