نیب کو موثر کیسے بنائیں؟

نیب کو موثر کیسے بنائیں؟
 نیب کو موثر کیسے بنائیں؟

  

عدالت عظمیٰ کے ایک فاضل جج نے گزشتہ دنوں ایک کیس کی سماعت کے دوران پلی بارگین کے حوالے سے درج ذیل ریمارکس دیے:

[’’پلی بارگین ایکٹ کے تحت ایک ایسا فرد جس پر 10کروڑ روپے کرپشن کا الزام ہو، ایک کروڑ روپے ادا کر کے رہا کر دیا جاتا ہے۔ پھر وہی فرد اپنے عہدے پر دوبارہ تعینات کر دیا جاتا ہے اور 20 کروڑ کی کرپشن میں ملوث ہو جاتا ہے۔ یہ کس طرح کا عمل ہے؟ اگر نیب ایسے ہی کام کرتا ہے توا س کو بند کر دینا چاہئے‘‘]۔۔۔اس وقت یہ ریمارکس میرے سامنے ہیں اور میرا احساس یہ ہے کہ فاضل جج صاحب کے یہ ریمارکس نیب کے قانون اور اس کی کارکردگی پر محض قانونی نقطۂ نظر سے ہی اہم نہیں ہیں،بلکہ یہ عوامی رائے اور جذبات کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ زیرنظر تحریر میں ، مَیں نے اِسی حوالے سے نیب کے اس ڈیٹا کاجائزہ لیا ہے جو 2008ء سے 2015ء کے عرصے میں پلی بارگین کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے، لیکن اس ڈیٹا پر نگاہ ڈالنے سے قبل بہتر ہو گا کہ پلی بارگین کے ضمن میں نیب قانون کی دفعات کو سمجھ لیا جائے۔

بدعنوانی کے ذریعے لوٹے گئے قومی سرمائے کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے قومی احتساب آرڈننس 1999ء ، رضا کارانہ واپسی اور پلی بارگین کو باقاعدہ قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کی دفعہ 25اے کے تحت رضاکارانہ واپسی کا اصول بیان کیاگیا ہے۔ اس اصول کے مطابق کوئی فرد جو سرکاری عہدے پر تعینات رہا ہو یا کوئی اور شخص اپنے خلاف تحقیقات کی اجازت ملنے سے پہلے قومی ادارہ احتساب (نیب) کے سامنے پیش ہوکر یہ عندیہ دیتا ہے کہ وہ اس سرمائے یا محصولات کو واپس کرے گا جو کہ اسے کسی ایسے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں جو اس قانون کے تحت ایک جرم کی تشکیل کرتے ہوں، تو اس صورت میں چیئرمین نیب اس کی ایسی پیشکش کو قبول کر سکتا ہے۔ قبولیت کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص پر لاگو ہونی والی رقم کے تعین اور اس کے نیب کے پاس جمع ہونے کے بعد اس کو اس معاملے کے حوالے سے بری الذمہ قرار دے سکتا ہے۔ قانون میں یہ استثنیٰ بھی ہے کہ یہ ممکنہ حل اس صورت میں ہی ہوسکتا ہے، جب یہ معاملہ کسی عدالت میں زیرالتوا نہ ہو۔

اسی قانون کی دفعہ25 بی ’’پلی بارگین‘‘ کے طریقہ کار کو بیان کرتی ہے۔ اس کے مطابق، اگر ملزم اپنے خلاف تحقیقات کی اجازت ملنے کے بعد اس کیس کے کسی بھی مرحلے پر، نیب کو وہ سرمایہ یا اس کے فوائد واپس کرنے کی پیشکش کرتا ہے جو اس نے اس قانون کے تحت ایک جرم کے ذریعے یا نتیجے میں حاصل کئے ہوں تو چیئرمین نیب اس کیس کے حالات وواقعات کو پیش نظر رکھ کر اپنی صوابدید پر اس پیشکش کو مناسب شرائط پر قبول کرسکتا ہے۔ اس صورت میں اگر ملزم چیئرمین نیب کی مقرر کردہ رقم کو واپس کرنے پررضامند ہو جائے تو چیئرمین نیب اس کیس کو عدالت کی طرف سے منظوری اور ملزم کی رہائی کے لئے بھیج دے گا۔

نیب نے جنوری2008ء سے 30جون 2015ء تک کا37صفحات پرمبنی جو ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر فراہم کیا ہے، اس کے مطابق اس عرصے میں 418 مقدمات میں پلی بارگین کی گئی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ پلی بارگین کوئی موزوں طریقہ کار ہے یانہیں؟ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ساڑھے سات سال کے عرصے پرمشتمل ان اعداد و شمار کے مطابق یہ اوسط ایک ہفتے میں ایک مقدمے سے کچھ ہی زائد ہے ۔ مُلک میں کرپشن کے حوالے سے موجود ابتر صورت حال میں ایک ایسے ادارے سے، جس کے قیام کا مقصد ہی کرپشن اور دھوکہ دہی کے ملزمان کو گرفت میں لانا ہے، ا س سے کہیں زیادہ بہتر کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان 418 مقدمات میں سے 40فیصد سے زائد، یعنی 179 وہ ہیں جن میں دس لاکھ روپے سے بھی کم رقم کی وصولی طے ہوئی ہے، یعنی بالعموم یہ بہت چھوٹے چھوٹے معاملات تھے جو نیب نے اٹھائے ہیں اور پلی بارگین کے ذریعے ایک بڑی رقم کی کرپشن کے مقابلے میں بہت معمولی رقم طلب کی گئی ہے ۔اس بات کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ ان 179میں سے 50وہ مقدمات ہیں جن میں صرف 5000روپے سے ایک لاکھ روپے کی رقم کی وصولی طے کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کرپشن تو خواہ ایک پیسے کی بھی ہو، اس کا حساب اور احتساب ہونا چاہے، لیکن نیب کا قیام بہرحال ان چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو پکڑنے کے لئے عمل میں نہیں آیاتھا۔

بقیہ مقدمات میں بھی84 وہ ہیں جن میں پلی بارگین کی رقم دس لاکھ روپے سے25 لاکھ روپے تک ہی متعین ہوئی ہے۔ یوں اگر پلی بارگین کے نتیجہ میں 25لاکھ روپے سے کم وصولی والے مقدمات کی تعداد دیکھی جائے تو یہ کل مقدمات کا کم وبیش دو تہائی سے کچھ ہی کم، یعنی 63فیصد ہے۔ 2008ء سے 2015ء کے اس ڈیٹا میں دیئے گئے مقدمات کو خردبردکی گئی رقم کی واپسی کے لئے agreed رقم کی بنیاد پردرج ذیل کیٹیگریزمیں دیکھا جاسکتا ہے:

پلی بارگین میں طے

کی گئی رقم

تعداد مقدمات

فیصد

ایک لاکھ روپے سے کم

50

12

ایک لاکھ سے دس لاکھ

129

31

دس لاکھ سے 25لاکھ

84

20

25لاکھ سے 50 لاکھ

50

12

50 لاکھ سے ایک کروڑ

37

9

ایک سے دس کروڑ

52

12

دس کروڑ سے ایک ارب

9

2

ایک ارب سے زائد

6

1

ان مقدمات میں سے جو مقدمات ایک ارب سے زائد تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی وہ مقدمات ہیں جن میں ملزمان کو پلی بارگین کاسب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔ مثلاً ایک مقدمے میں اصل رقم 2 ارب تھی، لیکن 88 کروڑ میں تصفیہ ہوگیا ۔ دوسرے مقدمے میں 8 ارب تھی، لیکن تصفیہ 14کروڑ میں ہوا ۔پلی بارگین کے نتیجے میں خردبرد کی گئی اصل رقم کے مقابلے میں بہت کم رقم کا تعین کرنے کے باوجودیہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ6میں سے 5مقدمات میں ملزمان پر جو رقم 30جون 2015ء تک واجب الادا تھی، اس میں سے بہت ہی کم رقم جمع ہوسکی۔ ان میں سے ایک کے علاوہ بقیہ تمام2008ء اور2009ء اور 2012ء سے متعلق ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ’’پلی بارگین‘‘ کے انتظام کااخلاقی جواز کیا ہے؟ کیا اس سے کرپشن کی حوصلہ افزائی اس انداز میں نہیں ہوئی کہ ’’لوٹو اور پھر اس رقم کا ایک حصہ واپس کر کے اپنے لئے محفوظ راستہ حاصل کر لو‘‘۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس قانون میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نیب کی سابقہ کارکردگی کے جائزے سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ نیب اصل اور بڑی کرپشن پر آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہواہے ۔ پاکستان میں امیر اور غریب ، حکمرانوں اور عوام کے لئے قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہے۔ نیب سیاسی اشرافیہ کے لئے ذرا سی کارروائی شروع کر تاہے تو اس کے پر کاٹنے کی دھائی شروع ہو جاتی ہے۔نیب کو تاریخ وار اپنے مقدمات پر تفتیش مکمل کرنی چاہئے کچھ مقدمات پر نیب جلد بازی کرتاہے اور کچھ مقدمات کی فائلوں کو کھولنے سے بھی ڈرتاہے ۔ اسی طرح پلی بارگیننگ میں کچھ کے ساتھ دریا دلی کا مظاہرہ کرتاہے اور کچھ کے ساتھ انتقام کی بو آرہی ہوتی ہے ۔ نیب کی یہ من پسند کی روش کو قانون کا پابند کرنے کی ضرورت ہے ۔

مزید :

کالم -