حقانی سے ربانی تک .......!(قسط نمبر 1)

حقانی سے ربانی تک .......!(قسط نمبر 1)
 حقانی سے ربانی تک .......!(قسط نمبر 1)

  

چےئرمین سینٹ رضا ربانی ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ کرپشن ،اقرباپروری سمیت وہ ان تمام سیاسی بیماریوں سے تقریباً پاک ہیں جو اہل سیاست کو لاحق ہوتی ہیں انہوں نے گزشتہ روز ایک تو فوجی عدالتوں کے حوالے سے سینٹ میں پیش کئے گئے بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اجلاس میں جس میں یہ بل پاس ہو گا وہ اس شرکت نہیں کرینگے اس سے قبل موصوف انہی عدالتوں کے ایشو پر آنسو بہاتے ہوئے پائے گئے تھے پوری قوم رضا ربانی کے اس طرز عمل پر سوچ رہی ہے کہ رضا ربانی جیسا شخص فوجی عدالتوں پر ہر بار پریشان کیوں ہو جاتا ہے پوری دنیا میں ایمرجنسی کے حالات میں ہنگامی نوعیت کے فیصلے کئے جاتے ہیں پاکستان میں بھی دہشت گردی عروج پرہے ۔ قوم کے بچے اور ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں مگر ہمارے اہل سیاست فوجی عدالتوں جیسے حساس معاملے پر پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی فوجی عدالتوں کے ایشو پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مبینہ ڈیل کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کے مسئلے پر باقاعدہ حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں سے اپنی شرائط منوائی ہیں اسی لئے پیپلز پارٹی کے جن رہنماؤں پر سہولت کاری کے مبینہ مقدمات ہیں اس میں ریلیف دیا جا رہا ہے ۔پی پی پی کے رہنما شرجیل میمن کی آمد بھی اسی سلسلہ کی کڑی قرار دی جا رہی ہے اور ویسے بھی رضا ربانی کی مجبوری سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس اجلاس سے غیر حاضر ہونگے مگر اس ایشو پر استعفیٰ نہیں دیں گے ۔رضا ربانی کے ایوان سے غیر حاضر ہونے کے فیصلے سے ان کی سیاسی مجبوری عیاں ہے لیکن رضا ربانی نے امریکیوں کے ویزوں کے حوالے سے بھی ایک بریکنگ نیوز دی ہے وہ کہتے ہیں پرویز مشرف نے باقاعدہ ایک اسپائیڈر گروپ بنا رکھا تھا جو اےئرپورٹ پر ہی ویزے جاری کرتا تھا اور یہ ہو سکتا ہے کہ جن امریکی جاسوسوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کی ہے یہ وہی جاسوس ہوں جن کو پرویز مشرف نے ویزے دےئے تھے رضا ربانی نے ایک طرح سے حسین حقانی اور آصف علی زرداری پر امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کے جو الزامات لگ رہے ہیں ان تمام الزامات کی نام لئے بغیر نفی کر دی ہے ۔رضا ربانی جیسے شخص سے اس قدر غیر متوازن گفتگو کی توقع نہیں کی جا سکتی ،انہوں نے یہ بات کر کے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اورآج پوری قوم پوچھ رہی ہے کہ ایبٹ آباد میں دنیا کوانتہائی مطلوب شخص کئی سال تک رہا ،یہاں شادیاں کرتا رہا اچانک دھڑا دھڑ امریکیوں کو ویزے جاری ہونا شروع ہو گئے ۔امریکیوں نے آپریشن کیا۔ ایبٹ آباد پر کمیشن بنا ابھی تک قوم رپورٹ کو ترس رہی ہے ۔اس کمیشن کے سربراہ کہتے ہیں کہ اگر میں بتادوں کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں تو پیچھے رپورٹ میں کچھ نہیں بچتا اس کے باوجود امریکیوں نے ایبٹ آباد آپریشن کو لائیو کور کیا،میڈیا تک کو دکھا یا مگر ہمارے بعض دانشور آج بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں تھے یا وہ آپریشن میں مارے گئے وہ آج بھی اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں بہرحال کچھ حقائق تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں ان کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ عوام کو پتہ چل سکے کہ ایبٹ آباد میں کیا ہوا تھا ؟امریکی ویزوں کا ایشو کیا ہے؟ میمو گیٹ جس پر پردہ ڈال دیا گیا وہ کیا کہانی تھی؟ آپریشن کی منظوری سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینٹا اور چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے دی ، جلال آباد کے امریکی ایئر بیس پر چار ہیلی کاپٹر تیار کھڑے تھے ، دو بلیک ہاک تھے اور دو چنیوک، ہیلی کاپٹروں میں 25 کمانڈوز سوار تھے یہ چاروں ہیلی کاپٹر یکم مئی 2011 ء رات گیارہ بج کر 10 منٹ پر جلال آباد سے اڑے اور دس منٹ میں پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے ، ہیلی کاپٹروں کی حفاظت کیلئے امریکی طیاروں نے افغان حدود میں پروازیں شروع کر دیں ، ہیلی کاپٹرز دریائے کابل کے اوپر پرواز کرتے ہوئے چکدرہ آئے ، وہاں سے کالا ڈھاکہ کے گاؤں کندر حسن زئی پہنچے ، دو ہیلی کاپٹر وہیں رک گئے اور دو آگے روانہ ہو گئے، یہ دونوں ہیلی کاپٹر 12 بج کر 30 منٹ پر بلال کالونی ایبٹ آباد پہنچ گئے کمانڈوز رسیوں کی مدد سے اسامہ بن لادن کے گھر اتر گئے ، اسامہ بن لادن نے کلاشنکوف اٹھا لی اور الماری سے ہیڈ گرنیڈ نکال لیا ، کمانڈوز نے گولی چلا دی ، اسامہ 12 بج کر 39 منٹ پر گولیوں کا نشانہ بن گئے ، ان کی اہلیہ ایمل زخمی ہو گئیں، کمانڈوز کے دوسرے دستے نے ٹیکسی میں اسامہ کے صاحبزادے خالد بن اسامہ ، مددگار ابو احمد الکویتی ، کویتی کے بھائی ابرار اور ان کی اہلیہ بشریٰ کو گولیوں سے اڑا دیا ، 12 بج کر 53 منٹ پر اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق ہوئی، کمانڈوز نے کمپاؤنڈ میں موجود کمپیوٹرز، فائلیں، کتابیں، ڈائریاں اور سی ڈیز تھیلوں میں بھریں اور واپسی کیلئے تیار ہو گئے، 1 بج کر 4 منٹ پر ہیلی کاپٹر واپس آئے، ایک ہیلی کاپٹر کی دم گھر کی باؤنڈری سے ٹکرا گئی، دھماکہ ہوا اور مقامی آبادی جاگ گئی، لوگوں کو پشتو میں بتایا گیا ’’آپ پیچھے ہٹ جائیں ، سپیشل آپریشن ہو رہا ہے ، آپ کو گولی مار دی جائے گی، لوگ واپس بھاگ گئے، کمانڈوز دوسرے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے، متاثرہ ہیلی کاپٹر کو بم سے اڑا دیا گیا، ہیلی کاپٹر روانہ ہو گئے، دھماکے کی آواز سے پولیس اور فوج کے اہلکار متوجہ ہو گئے ، یہ لوگ 1 بج کر 15 منٹ پر وہاں پہنچے ، یہ گھر میں داخل ہوئے زخمی خاتون کو عربی بولتے دیکھا ، وہاں لاشیں بھی تھیںؒ ، خاتون سے انکوائری کی ، پتہ چلا بیڈ روم میں اسامہ یمنی کا خون بکھرا ہوا ہے، 7 منٹ بعد لیفٹیننٹ کرنل (نام غالباً عابد تھا) نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فون پر اطلاع دے دی ، آرمی چیف نے ایئر چیف کو فون کیا، ایئر چیف نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ، اس عمل میں 43 منٹ خرچ ہو گئے۔(جاری ہے )

عام آدمی

مزید :

کالم -