نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے 

نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے 
 نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے 

  

23مارچ 1940ء کے لاہور کے اجلاس میں میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے سید رؤف شاہ نے مسلم اکثریتی صوبوں سے آئے ہوئے وفود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ’’جان سے عزیز بھائیو!جب آپ آزاد اور خود مختار ہو جائیں گے تو بھارت کے ہندو ہمیں نیست ونابود کر دیں گے۔

ہمیں پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جائے گی،ہمیں شودروں کی طرح زندگی بسر کرنا ہوگی،اس کے باوجود ہم خوش ہوں گے کہ کم از کم آپ تو آزاد فضا میں سانس لیں گے۔جب آپ آزاد ہو جائیں اور آزاد مملکت میں زندگی بسر کرنے لگیں تو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی دعائے مغفرت کر لیا کرنا‘‘۔

سید رؤف شاہ اپنی ساری تقریر کے دوران روتے رہے ،ہزاروں شرکائے اجلاس کوبھی رولادیا۔آخر میں کہنے لگے ’’بھائیو میرے آنسو اس لئے نہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے،ہمیں چیریں پھاڑیں گے، بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی‘‘۔

سید رؤف شاہ نے جب یہ بات کہی تو مجمع پر عجب کیفیت طاری ہو گئی،آنسو بے قابو ہو گئے ، ضبط کے بند ھن ٹوٹ گئے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔ تب حاضرینِ اجلاس میں سے بعض اٹھے اور کہاپاکستان صرف ہمارا ہی نہیں آپ کابھی ہو گا ،یہ اسلام اور قرآن کا ملک ہو گا۔ ہم بھارت میں رہ جانے والے اپنے بھائیوں کوبھولیں گے اور نہ بے یارومددگا ر چھوڑ یں گے۔آپ کا تحفظ اور مدد ہمارا اولین فرض ہو گا۔

علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ تحریک پاکستان کے سلسلہ میں امرتسرکے دورے پرآئے ،پروگرام کے بعدسوال وجواب کی نشست ہوئی ،ایک آدمی نے کہا ’’ہم مشرقی پنجاب کے رہنے والے ہیں ہمیں یقین ہے کہ ہمارے بہت سے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے، اگرہمارے علاقے پاکستان میں شامل نہ ہوسکے، تب بھی ہم فجرسے پہلے اپنے گھروں سے نکلیں گے سورج طلوع ہونے تک پاکستان پہنچ جائیں گے لیکن آپ لوگوں کامعاملہ اس کے بالکل برعکس ہے آپ میں سے کوئی یوپی کاباسی ہے، کوئی سی پی کا،کوئی پٹنہ کا اور کوئی دوسرے دوردرازخطے کا۔

آپ کے علاقوں اورصوبوں کا پاکستان میں شامل ہوناخارج ازامکان ہے ۔مزیدیہ کہ جب آپ لوگ ہجرت کے لئے گھروں حویلیوں سے نکلوگے تو سفر اتنا لمبا اور دشوار گزار ہو گا کہ باحفاظت پاکستا ن پہنچناممکن نہ ہوگا۔ایسے حالات میں جب آپ کے علاقے پاکستان کاحصہ نہیں بن سکتے،آپ پاکستان پہنچ نہیں سکتے پھرکیوں ہراول دستہ بن کر پاکستان کے قیام کی تحریک چلارہے ہو۔۔۔؟

یونیورسٹی کے طلبہ کاجواب تھا ’’یہ درست ہے کہ ہمارے علاقے پاکستان کاحصہ نہیں بن سکیں گے، یہ بھی درست ہے ہم سے بہت کم لوگ بحفاظت پاکستان پہنچ پائیں گے ۔

زیادہ تراپنے گھروں میں،علاقوں میں،راستوں میں ہی کاٹ دیئے جائیں گے،ذبح کردیئے جائیں گے، بچے نیزوں میں پرودیے جائیں گے، کرپانوں پراچھالے جائیں گے،آگ میں جلائے جائیں گے،ہماری عفت ماٰب ماؤں بہنوں کے دامان عصمت تارتارکئے جائیں گے،یہ سب حقائق روزروشن کی طرح واضح ہیں۔ہم جانتے ہیں، ہمارے علاقے، ہمارے صوبے،ہمارے شہر پاکستان کاحصہ نہیں بن سکتے۔

اس کے باوجودہم قیام پاکستان کی تحریک جاری رکھیں گے، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اس لئے کہ ہمیں یقین ہے پاکستان ہمارے لئے اسلام کاقلعہ ثابت ہوگا، ہمیں یقین ہے پاکستان سے ایک بارپھرمحمدبن قاسم اٹھے گا، محمود غزنوی پیدا ہوگا جو ہمیں اور ہماری ماؤں بہنوں کو ہندؤوں کی غلامی سے آزاد کروائے گا،بتکدہِ ہند کو ایک بار پھر توحید کے نغموں اورزمزموں سے آشناکرے گا۔

اسی پس منظرمیں قائداعظم محمدعلی جنا ح نے کہا تھا پاکستان اسی دن معرضِ وجود میں آگیا تھا، جب یہاں پہلے مسلمان نے قدم رکھاتھا۔محمدبن قاسم الثقفی پہلا مسلمان جرنیل تھا، جو 93ہجری 712ء میں ایک مسلمان بیٹی کی عزت بچانے کے لئے 15ہزار کے لشکر کے ساتھ سندھ میں داخل ہوا ۔

آج ہم خود کو محمد بن قاسم کا فکری وارث کہتے ہیں، اپنے ملک کے قیام کی نسبت بھی فاتح سندھ کے ساتھ جوڑتے ہیں، لیکن حیرت ہے ہمیں مقبوضہ جموں کشمیر اور بھارت میں مسلمان ماؤں بہنوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں،ہم ان کی آزادی او ررہائی کے لئے کچھ نہیں کرتے۔

محمد بن قاسم کی سندھ آمد کے 300سال بعد محمود غزنوی دوسرا مسلمان فاتح تھا، جو سرزمین ہند پر حملہ آور ہوا ۔اس حملے کا سبب لاہور کا ہندو راجہ جے پال خود بنا تھا۔جے پال لاہور سے نکل کر سلطنت غزنویہ پر حملہ آور ہوا، مگر محمود نے جے پال کو ایسی ذلت آمیز شکست دی کہ وہ شرم کے مارے آگ میں زندہ جل کر مر گیا۔

ہندوستان میں وارد ہونے والا تیسرا مسلمان جرنیل شہاب الدین غوری تھا، اس کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔ شہاب الدین کا دور حکومت صرف 20سال ہے،مگر نتائج و ثمرات کے اعتبار سے یہ 20 سال۔۔۔ صدیوں پر محیط ہیں۔ شہاب الدین غوری نے ہندوستان میں ایک ایسی اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی، جس پر1857ء تک اسلام کا پرچم لہراتا رہا۔

شہا ب الدین سچا مسلمان ، عالمِ دین اورمردمجاہد تھا۔اسلام کے ساتھ اس کی محبت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اس کی فوج کے خطیب و امام مشہور مفسر قرآن،عالمِ باعمل امام فخرالدین رازی تھے، جنکی لکھی ہوئی تفسیر رازی(تفسیرکبیر) کو آج بھی قبول عامہ کا درجہ حاصل ہے۔

یہ لوگ تھے ہندوستان میں اسلامی نظریاتی سلطنت کی بنیاد رکھنے والے، نخلستانِِ اسلام کی اپنے خون سے آبیاری کرنے والے۔تہجد گزار ،شبِ زندہ دار،راتوں کو مصلے پہ کھڑے ہو کے رب کو منانے والے، دن کے وقت رب کا پیغام زمین پر پھیلانے والے۔

آج ان باتوں کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کو معلوم ہو کہ ہمارا ماضی کتنا تابناک اور کس قدر ایمان افروز تھا۔ چالیس کی دہائی میں قیام پاکستان کی تحریک چلانے والے یقیناایک ایسا ہی ملک چاہتے تھے جس کی ابتدامحمد بن قاسم نے کی، زادِ راہ محمود غزنوی نے بہم پہنچایا اور تکمیل شہاب الدین غوری نے کی تھی۔

بعدجب ہندوستان سے انگریز کا انخلا یقینی ہوگیا تو وہ زمام اقتدار مسلمانوں کو سونپے کی بجائے مسلمانوں کو ہندونیتاؤں کی غلامی میں دینے کا فیصلہ کرچکے تھے۔

ہندو نیتاؤں کا معاملہ بھی عجب تھا، ایک طرف وہ ہندوستان میں بسنے والوں کو ایک قوم قرار دیتے دوسری طرف انہوں نے انسانی مخلوق کو لاتعداد طبقات میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک طرف سانپوں کو دودھ پلاتے دوسری طرف مسلمانوں کو ذبح کرتے تھے۔

جیسے جیسے ہندوستان سے انگریز کے انخلا کا وقت قریب آرہا تھا، برہمن کے مسلمانوں کے بارے میں عزائم واردے آشکارا ہوتے چلے جارہے تھے۔ اسی دوران ایک ہندو لیڈر مہاشہ پرتاپ سنگھ نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔:

’’بھیشم کے سپوتو۔۔۔ارجن کے دلاورو!

ایک گاؤ ماتا کی رکھشا کے لئے کراچی سے مکہ تک تمام مسلمانوں کا بھی خون بہادو تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔ہندو دھرم میں گوشت کھانا جائز نہیں ہے، لیکن مسلمانوں کا خون پینا بھی منع نہیں ہے۔‘‘ یہ تھا کانگریس کا ہندوستان جس میں وہ مسلمانوں کو امن و شانتی کے ساتھ’’ایک ملک ایک قوم‘‘ کے خوش کن نعرے لگا کر اور مل جل کر رہنے کی ترغیب دے رہی تھی۔سو۔۔۔ان حالات میں مسلمانوں کے لئے دو ہی راستے تھے۔ 

زندگی یا موت ۔۔۔

آزادی یا غلامی ۔۔۔

مسلمان ایمان سے دستبردار ہو کر ہندوؤں کے سامنے سر جھکا دیتے تو یہ یقینی موت اور غلامی کا راستہ تھا۔انہوں نے زندگی اور آزادی کا راستہ چنا جو بلا آخر قیام پاکستان پر منتج ہوا۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پاکستان ہمارے پاس اللہ کی نعمت اور شہدا کی امانت ہے ۔

اللہ کا قانون ہے جو نعمت کی قدر کرے اللہ انہیں انعامات سے مزید نوازتا اور ناشکرگزاروں کے لئے اس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔اللہ کی نعمت کی شکرگزاری یہ ہے کہ ہم نظریہ پاکستان پرکاربندرہیں اپنی زندگی، سوچ، فکر، معیشت، معاشرت، تجارت، سیاست، طرز حکومت۔۔۔الغرض سب کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے تابع کردیں،اگر ہمارے ملک میں یہ سب کچھ ہے تو سمجھ لیں نظریہ پاکستان قائم ہے، اگر جواب نفی میں ہے تواصلاح کی ضرورت ہے۔

ہم بھارت کے ساتھ مذکرات اور تعلقات بہتر بنانے کے ہر گز خلاف نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت بھی ایسا چاہتا ہے؟اس کا جواب ہم سب کو معلوم ہے۔بی جے پی کی پاکستان دشمنی اداؤں سے ٹپک رہی اور نگاہوں سے برس رہی ہے۔دنیاآگے کی طرف جارہی ہے اور بی جے پی پاکستان دشمنی کی فضا گرم کرنے کے لئے 47ء کا ماحول بنا رہی ہے۔ بھارت اور مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلمانوں پربدترین مظالم، گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور گائے کی خریدو فروخت کا کاروبار والوں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندو متعصب رہنما 1940ء کے مسلم دشمن ماحول سے باہر نکلنے،پاکستان کو دل سے تسلیم کرنے اور مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کو ان کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم بھی اپنے حق کی بات کریں ۔حق یہ ہے کہ بلاد اسلامیہ ہند اور مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ہماراایمانی اورروحانی رشتہ ہے۔پس۔۔۔اے حکمرانو قوم کے جوانو۔۔۔! تحریک پاکستان کے ایام میں کئے گئے، وعدوں کو نبھانا ہمارافرض ہے، اگر اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی ہو گی تو ہم اللہ کے ہاں ظالم و وعدہ شکن لکھے جائیں گے۔ظالم و وعدہ شکن قوموں کے لئے اللہ کے ہاں کوئی مقام واحترام نہیں ہے،لہٰذا ضروری ہے کہ ہم سچے مسلمان بن جائیں اور احیائے نظریہ پاکستان کا عہد کریں۔

مزید :

رائے -کالم -