یوم پاکستان اور اس کے تقاضے

یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے

  

مسلم لیگ کی انتھک جدوجہد کے بعد 23مارچ 1940ء قراردادِ پاکستان کے منظورہونے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کے حصول کے مطالبہ پر مبنی قرارداد کا دن۔

مسلم لیگ کے اس تین روزہ اجلاس نے دنیا کے پہلے اسلامی جمہوریہ کے قیام کی بنیاد رکھی۔ قائداعظم محمد علی جناح جو 30سال تک ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے داعی رہے بالآخر اپنے افکار سے رجوع کرنے پر مجبور ہو گئے اور تحریکِ پاکستان کے نمایاں رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ بانیءِ پاکستان نے لاہور اعلامیہ پر دستخط ثبت کئے، جس کے مندرجات درجِ ذیل تھے۔

’’کوئی آئینی منصوبہ اس وقت تک مسلمانوں کے لئے قابلِ قبول یا قابلِ عمل نہیں ہو گا جب تک کہ جغرافیائی اعتبار سے متصل خطوں کو سرحدیں بنا کر ایسے علاقوں میں نہیں بدل دیا جاتا جنہیں علاقائی انتظامِ نو کے ساتھ تشکیل دیا جائے جیسا کہ ضروری ہو۔

جن علاقوں میں مسلمان عددی اعتبار سے اکثریت میں ہیں جیسا کہ شمال مشرقی اور مغربی خطے ہیں ، ان پر مشتمل آزاد ریاستیں تشکیل دی جائیں جن کی تشکیلی اکائیوں کو خودمختاری دی جائے‘‘

آج ہمارے خوبصورت ملک کو قائم ہوئے ستر سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ آج ہم قراردادِ لاہور کا دن اس جذبہ کے تحت منا رہے ہیں کہ ہمیں اپنی علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور قومی اتحاد کو مضبوط تر کرنا ہے۔ وہ خواب جس نے ہمیں متحد کیا آج کے دن ہماری قومی بیداری کا متقاضی ہے۔

یہ آزمائش کا دور ہے۔ انتخابات سر پر ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی معزولی نے سیاسی بے یقینی کو فروغ دیا ہے جس کا نتیجہ معاشی عدم استحکام کی صورت سامنے آ رہا ہے۔ بڑھتی درآمدات، کم ہوتی آمدنی اور زرِ مبادلہ کے گھٹتے ذخائر سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری معیشت کن مشکلات سے دوچار ہے۔

کاروباری ادارے اور افراد پر امید ہیں کہ یہ برا وقت سیاسی جماعتوں کی انتخابات سے پیشتر نورا کشتی کے باعث ہے تا کہ انتخابات سے پیشتر اپنی سیاسی حیثیت مستحکم کی جا سکے، لیکن اگر خدانخواستہ معیشت حقیقی معنوں میں ناکام ہو گئی تو آنے والی حکومت کو بیرونی ادائیگیوں میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور شاید قرضوں کے جنجال سے نکلنے کے لئے اسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا سہارا لینا پڑے۔

پاکستان کئی برسوں سے جاگیرداری ، علاقائی تعصب اور فرقہ واریت سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام نے ہماری مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ریاستی اداروں کی باہمی چپقلش اور برتری ثابت کرنے کی جنگ نے قومی مفادات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ 

عوام کی بہت بڑی تعداد تاحال ناواقف ہے کہ کیسے سیاسی اعمال کے ذریعے اپنے نمائندوں کو جوابدہ بنایا جا سکتا ہے تا کہ عدلیہ کو بدعنوانی اور اس کے اسباب کے تدارک کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ آج پھر سیاسی منظر نامہ دو بڑی سیاسی جماعتوں میں قیادت کی ہونیوالی تبدیلی کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

میڈیا اور عوامی شعور کے ہوتے ہوئے نوجوان قیادت کے لئے عوامی حمایت کا حصول کسی چیلنج سے کم نہیں۔ عوامی جذبات آج منتشر اور معنی خیز ہیں سیاہی پھینکنے اور جوتے مارنے کے واقعات مایوسی اور عدم اطمینان کی نشاندہی کررہے ہیں۔ 

اقتصادی خدشات اور سیاسی بے اعتدالیوں کے باوجود ون بیلٹ ون روڈ (OBOR)کے تحت چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور(CPEC)پاکستان کے لئے ایک روشن راستہ ہے جو اسے بہت آگے لے جا سکتا ہے۔

یہ تاریخ کا سب سے بڑا بنیادی ڈھانچہ اور سرمایہ کاری ہے۔ اس سے دنیا کے 68ممالک ، 65فیصد آبادی اور گلوبل جی ڈی پی کا 40فیصد جڑا ہوا ہے۔ سی پیک پاکستان کے لئے اللہ پاک کی عظیم نعمت کے مترادف ہے۔

متوقع سرمایہ کاری جو 46بلین ڈالر سے بڑھ کر 62بلین ڈالرز ہو چکی ہے،2015ء سے 2030ء تک اس کی بدولت 2.3ملین ملازمتوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے، جس سے ملک کی سالانہ شرحِ ترقی میں 2.5فیصد اضافہ متوقع ہے۔

پاکستان کی معیشت کا ہر شعبہ اور ترقی کے ہر زاویے کی امیدیں سی پیک سے وابستہ ہو چکی ہیں۔ توانائی کا بحران ہماری معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھااب یہ بحران ختم ہونے جا رہا ہے ہوا سے بجلی پیدا کرنے، شمسی توانائی اور کوئلے سے بجلی بنانے کے کئی منصوبے سی پیک کی بدولت یا تو تکمیل پا چکے ہیں یا عنقریب پانے جا رہے ہیں۔ 

کورٹنی فیونگر نے 11مارچ 2016ء کے اپنے فنانشل ٹائمز میں لکھے گئے مضمون میں لکھا کہ توانائی کا بحران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، لیکن چین کی طرف سے انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے پر کشش مواقع فراہم کیے ہیں۔

شاہراہوں اور سڑکوں کی تعمیر پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے جس کے پہلے مرحلے میں مئی 2018ء میں شاہراہِ قراقرم کی تعمیر تکمیل پا جائے گی۔ اورنج لائن میٹرو اسی مہینے کے آخر تک رواں دواں ہو گی۔

ڈیجیٹل ملٹی میڈیا نشریاتی منصوبے ٹیلیویژن کو ڈیجیٹل کر دیں گے، جبکہ فائبر آپٹک منصوبوں کی بدولت گلگت بلتستان کو بھی 3Gاور 4G سے منسلک کر دیا جائے گا۔ اسی طرح چائنہ اور پاکستان کی حکومتیں تعلیم ، طب و ادویات اور انجینئرنگ کے میدان میں وسائل ، معلومات اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ کر رہی ہیں۔ 

گوادر خطے کے وسط میں اہم بندرگاہ کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو ترقی یافتہ محفوظ اور تیز ترین نقل و حمل کا پیش خیمہ ثابت ہو گا یہ نا صرف سمندری بلکہ زمینی رابطوں میں بھی اہم کردار ادا کرے گاجس کی بدولت گوادر کے لوگوں کو پر امن اور بہتر مستقبل فراہم ہو سکے گا۔

گوادر بندرگاہ کے علاوہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر بھی جاری ہے جو آئندہ دو برس تک پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا جو یہاں تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کا بھی باعث بنے گا۔

اس کے علاوہ واٹر ٹریٹمنٹ کی سہولت کے ذریعے ساکنانِ گوادر کو روزانہ 5ملین گیلن پانی کی فراہمی بھی اس سال کے آخر تک یقینی ہو جائے گی جو گوادر کے باسیوں کے لئے ایک اور بیش قیمت تحفہ ہو گی۔ 

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بہتر ین مواقع ہمارے در پر دستک دے رہے ہیں۔ اب ضروری ہے کہ ان مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لئے ہم اپنے آپ کو تیار رکھیں۔

آج اس تاریخی 23مارچ کے دن ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ وسیع تر قومی مفاد میں ہم اپنے اختلافات اور رنجشوں کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہو جائیں اور سی پیک سے انفرادی اور اجتماعی فوائد سمیٹنے کے لئے اپنے اپنے حصہ کا کر دار ادا کریں اور اس عظیم منصوبہ کے پشتیبان بن جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -