وزیر اعلیٰ محمود خان کی بی آر ٹی کے نا مکمل منصوبہ کا افتتاح نہ کرنے کا اعلان

وزیر اعلیٰ محمود خان کی بی آر ٹی کے نا مکمل منصوبہ کا افتتاح نہ کرنے کا اعلان

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے پراہم اور خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم ابھی بھی کچھ کام باقی ہے ،مثال کے طور پر بس سٹیشنزوغیرہ پر کام جاری ہے ۔ اس لئے انہوں نے نامکمل منصوبے کا افتتاح نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہی مشورہ ان کو وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز ملاقات میں بھی دیا ہے کہ عوامی فلاح اور بہبود کو سیاست کی نظر نہیں ہونا چاہیئے۔ آج یہاں سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف تختی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ اس لئے ہم اس منصوبے کا افتتاح تب ہی کریں گے جب یہ عوام کے استعمال کے لئے دستیاب ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ پشاور کے شہریوں کی تکالیف سے آگاہ ہیں اور ان کے درد کو محسوس کرتے ہیں ۔ اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے جان فشانی سے کام کررہے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ منصوبہ پشاور شہر کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کسی بھی حکومت کی طرف سے پشاور شہر کے لئے کی گئی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ یہ منصوبہ امیروں کے لئے نہیں بلکہ محنت کش لوگوں کے لئے ہے۔ یہ منصوبہ ایک منفرد ڈیزائن کے تحت بنایا جا رہا ہے جو نہ صرف کوریڈوربلکہ بہت سے آف کوریڈورروٹس پر بھی مشتمل ہے ۔ جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائیگا تو یہ پشاور کی شکل تبدیل کرکے اسے ایک جدید شہر میں بدلنے کے لئے بہت مددگار ثابت ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنی انتظامیہ کو ہدایت کر چکے ہیں کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے تیز رفتاری کے ساتھ مخلوط ٹریفک لینز پر کام مکمل کیا جائے اور شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر کی جائے ۔نکاسی آب کے حوالے سے مسائل معلوم کئے جائیں اور انکا حل نکالا جائے ۔کوریڈور پر تمام کام مکمل کیا جائے اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے عوام کے لئے کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس منصوبے کے کام میں شامل تمام لوگوں کو حتمی اور آخری وارننگ د ے رہے ہیں ۔ آپ نے مشترکہ جدوجہد کرنی ہے۔ آپ کو برطرف نہ کرنے کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ آپ نے اپنے وعدے کیمطابق منصوبے کو مکمل کرنا ہے ۔ مہربانی کرکے اس شہر کے لوگوں کے صبر کو نہ آزمائیں۔محمود خان نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ ایک منفرد منصوبہ ہے ۔ ہم اس کو ایک کامیاب منصوبہ بنائیں گے ۔ یہ منصوبہ اس شہر کے غریب لوگوں کو سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرے گا۔ یہ شہر کے انفراسٹرکچرکو ترقی دینے میں مدد کرے گا۔ یہ منصوبہ شہر کو معاشی طور پر اٹھائے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد آپ ایک بہتر اور بہت خوبصورت پشاور دیکھیں گے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی زیر صدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے ذریعے تعمیر ہونے والی تقریباً تمام طویل المسافت سڑکوں پر کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں صوبے میں نئی سڑکوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ خیبرپختونخوا کے وزیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان ، وفاقی و صوبائی سیکرٹریز برائے مواصلات ، چیئرمین این ایچ اے اور متعدد متعلقہ تنظیموں کے اعلیٰ نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی ۔ منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور انکی بر وقت تکمیل کے لئے متعدد فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت کی طرف سے مسلسل اور مربوط مانیٹرنگ کے نتیجے میں بہت سی سڑکیں وقت سے پہلے مکمل کرلی جائیں گی۔ اجلاس میں دیگر سڑکوں کے علاوہ پشاور نادرن بائی پاس روڈ ، چھتیس کلومیٹر طویل پشاور درہ آدم خیل روڈ ، کوہاٹ سے ڈی آئی خان دو رویہ سڑک ، 293کلومیٹر طویل ہکلہ ڈی آئی خان روڈ ، 369کلومیٹر طویل گلگت شندور چترال روڈ ، چترال گرم چشمہ، درہ پاس روڈ، 136کلومیٹر طویل قراہ قرم ہائی وے فیز ٹو ، حویلیاں تھا کوٹ اور حویلیاں مانسہرہ روڈ ، اولڈ بنوں روڈ، 120کلومیٹر طویل کوہاٹ سرائے گمبیلہ روڈ ، 73کلومیٹر طویل کوہاٹ جنڈپنڈی گھیپ روڈ ، 82کلومیٹر طویل چکدرہ کالام روڈکی بحالی، لواری ٹنل روڈ اور باجوڑ(خار) جندولہ ۔ژوب روڈوغیرہ پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ہزارہ موٹر وے کا حویلیاں سے مانسہرہ سیکشن رواں سال جون تک مکمل ہو جائیگاجوشیڈول کیمطابق ایک سال پہلے مکمل ہو گا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ہدایت کی کہ ہزارہ موٹر وے کا یہ سیکشن جون کے پہلے ہفتے سے پہلے مکمل کیا جائے،تاکہ سیزن شروع ہونے پر سیاح اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گرم چشمہ چتران درہ پاس روڈ فیڈرالائز ہو چکا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس کا لینڈ ریکارڈ وغیرہ بھی این ایچ اے کے حوالے کیا جائے۔ اجلاس میں پشاور نادرن بائی پاس روڈ کو جون 2020تک ہر صورت میں مکمل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کی ہدایت کی گئی۔ اس سلسلے میں این ایچ اے اور متعلقہ محکموں کو باہمی رابطے کے تحت کام کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ کوئی بھی ممکنہ رکاوٹ بر وقت دور کی جاسکے۔ ۔مجوزہ خار ژوب روڈ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ روڈ صوبے کے ضم شدہ اضلاع کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے اس لئے اس روڈ کو چکدرہ سے منسلک کرنا چاہئے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر