اہل ثروت متوجہ ہوں

اہل ثروت متوجہ ہوں
اہل ثروت متوجہ ہوں

  



کرونا وائرس کی تباہ کاریاں پوری دنیا میں جاری ہیں۔ اگرچہ ہر انسان اس وباء سے متاثر ہو رہا ہے،لیکن اگر وطن عزیز کی مجموعی سماجی اور معاشی صورت حال کو مدنظر رکھ کر سوچا جائے تو ہمارے دیہاڑی دار مزدور طبقے کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی ہے۔ ظاہر ہے جب مارکیٹیں، دکانیں اور بازار بند ہوں گے، جب لوگ ہوٹلوں پر کھانا کھانے سے گریز کریں گے، جب فیکٹریاں بند ہو جائیں گی تو ان لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس طبقے کے لوگ ہماری طرح بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں سے مہینے بھر کا راشن خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، وہ بے چارے تو ہر روز جو کماتے ہیں، اس میں سے پاؤ آدھا پاؤ گھی، چینی، کلو دو کلو آٹا وغیرہ خریدتے ہیں۔

راقم نے ایک بار دیہاڑی دار مزدورں کی زندگی کے اس پہلو کو سمجھنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ اکثر مزدوراپنے اپنے علاقے، گلی محلے کے دکان داروں سے روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ خریدتے ہیں اور بعض اوقات کسی ہڑتال یا خراب موسمی حالات کے سبب جب وہ کچھ کما نہ سکیں تو وہ دکان دار سے کئی روز تک یہ اشیاء ادھار خرید کر اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس وقت وطن عزیز میں کم و بیش ایک کروڑ سے زائد افراد کسی نہ کسی طرح سے دیہاڑی دار مزدوروں میں شمار ہوتے ہیں، جن میں بڑی بڑی مارکیٹوں کے باہر کھڑے لاکھوں مزدور بھی شامل ہیں جو سامان کی نقل و حمل کا کام کرتے ہیں۔ایک بار لاہور میں موجود لوہا مارکیٹ جانے کا اتفاق ہوا تو کئی مناظر دیکھ کر روح تک لرز کر رہ گئی، بے شمار مزدور نہایت بھاری سامان کو ریڑھیوں پر رکھ کر بمشکل دھکیل کر ایک سے دوسری جگہ پہنچانے میں مصروف تھے اور اس مشقت طلب کام کے عوض انہیں محض 50 یا سو روپے مل رہے تھے۔

کم و بیش 70 سالہ سفید داڑھی والے ایک بزرگ کو کندھوں کے زور سے بھاری بھرکم سامان کھینچتے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ زندگی کتنے لوگوں کے لئے کتنی مختلف ہے۔ خدا کی قسم وہ مناظر آج بھی حافظے پر نقش ہیں اور بار بار جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد دلا رہے ہیں ”کہ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے“ ……آج ایک سرکاری ملازم ہونے کے ناتے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ باعزت سرکاری ملازمت ملنا خدائے بزرگ و برتر کی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ آندھی آئے یا طوفان، ہڑتال ہو یا کرفیو، یہاں تک کہ جنگ کی حالت میں بھی سرکاری ملازموں کو تنخواہ ملتی رہتی ہے، تو آج آفت کی اس گھڑی میں ہم اپنے ان ہم وطنوں کا خیال کیوں نہ کریں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنا رزق تلاش کرنے کے لئے نکلتے ہیں اور گزشتہ کئی دنوں سے کرونا کے خدشے کے پیش نظر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں …… واللہ مَیں کوئی مولوی یا عالم ٹائپ بندہ نہیں ہوں، لیکن وہ حدیث مبارک بار بار ذہن میں آ رہی ہے جس میں دنیا کے سب سے بڑے انسانؐ نے فرمایا: ”جس بستی میں کوئی شخص غربت کی وجہ سے بھوکا سو جائے، اس بستی میں سے اللہ تعالی رحمت کے فرشتوں کو صبح تک کے لئے واپس بلا لیتا ہے“۔

اس وقت کئی اہل ثروت حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مل جل کر یہ اہتمام کر رہے ہیں کہ کسی طور دیہاڑی دار مزدور کی کم سے کم کھانے کی حاجت تو پوری کی جا سکے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سوچ کو ایک تحریک کی صورت دی جائے۔ ہماے اہل ثروت، کاروباری شخصیات بڑھ چڑھ کر اس مہم میں حصہ لیں۔ یاد رکھیں! یہ کام صرف حکومتیں نہیں کر سکتیں، اس کے لئے پورے سماج کو آگے بڑھ کر حصہ لینا پڑتا ہے۔ کاش ہم لوگ ایک دوسرے کو کرونا سے بچاؤ کی محض”دعائیں“ واٹس ایپ کرنے کے بجائے اپنے کمزور طبقات کی عملی مدد بھی کریں۔ ایک سرکاری افسر ہونے کے ناتے میں اپنے ہم منصب دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آج ہمیں دوسری تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ خصوصاً اس نعمت پر شکرانے کے طور پر اس رب العزت کی بارگاہ میں اپنا سر جھکا لینا چاہیے،

جس نے ہماری تمام تر خامیوں اور کوتاہیوں کے باوجود باعزت سرکاری ملازمت (طیب روزگار) کا ہمارے لئے اہتمام فرمایا اور اس ذات برحق کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب تک حالات نارمل نہیں ہو جاتے، ہم سب اپنے مزدور طبقے کو ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لئے ایک تحریک شروع کریں۔آئیے! ہم سب کم از کم ایک فرد کنبے کی غذائی ضروریات کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ رزق بانٹنے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے۔ شکر کرنے سے نعمتیں کم نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں اضافہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان نعمتوں میں سے محروم طبقات کو بھی حصہ دیا جائے۔

مزید : رائے /کالم