کابل سے کشمیر تک

کابل سے کشمیر تک
کابل سے کشمیر تک

  



پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جن امور کو اہمیت حاصل ہے، ان میں سرفہرست کشمیر اور افغانستان ہیں۔ یہ انتہائی حساس نوعیت کے مسائل ہمہ وقت عالمی میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ان امور پر پاکستان کی پالیسی میں کم و بیش تسلسل رہا ہے، بعض اوقات حالات کے پیش ِ نظر حکمت عملی میں تبدیلیاں ضرور وقوع پذیر ہوتی رہیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ اور افغانستان تزویراتی گہرائی کا محور و مرکز رہا۔ ان امور پر ہماری تمام تر توانائیاں مجموعی طور پر سب سے زیادہ صر ف ہوتی ہیں۔ ہماری شہ رگ آج بھی دشمن کے نرغے میں اور تزویراتی گہرائی کو بحالت مجبوری ہم ترک کر چکے۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ایک اہم ملک ہے۔ جغرافیائی طور پر اس کی اہمیت اس کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ بحیرہئ عرب کے سنگم پر توانائی کی آبی راہداری آب ہرمز اس کی دسترس میں ہے جو سینٹرل ایشیا اور چائنہ کے لئے گرم پانیوں تک رسائی کے لئے آسان اور تیز ترین ذریعہ ہے۔اس کے عین مغرب میں افغانستان ہے، جسے ایشیا کا دِل کہا جاتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں بے شمار اقدار مشترک ہیں،لیکن طاقت کے محرکات اتنے ہی مختلف ہیں۔پاکستان برطانوی نو آبادیاتی نظام کا حصہ رہا ہے، اِس لئے انتہائی منظم نظام ورثے میں ملا، جبکہ افغانستان کبھی بھی کسی حملہ آور کے لئے موزوں ثابت نہیں ہوا۔

تاریخ آج دوبارہ اسی موڑ پر ہے اور امریکہ افغانستان سے سفرِ رخصت باندھنے کو ہے۔ امریکہ طالبان امن معاہدہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی ماضی کی غلطیو ں کا ازالہ کر سکیں۔ پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے بہت ساری کھٹی میٹھی یادیں ہیں،جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ سوویت یونین کے حملے کے بعد پاکستان نے بڑے بھائی کا کردار اور اپنے افغان بھائیوں کا اپنی حیثیت سے بڑھ کر خیال رکھا۔سوویت یونین سے آزادی کے لئے مجاہداول کا کردار بخوبی اور بڑے احسن طریقے سے نبھایا۔ بدقسمتی سے سوویت یونین کے انخلا کے بعد بڑا بھائی چھوٹے بھائیوں کی جنگ میں فریق بن گیا اور اقتدار کی اس جنگ میں دوستوں کو دشمنوں کی صفوں میں لا کھڑا کیا…… کابل میں دوست حکومت کے قیام کے لئے پاکستان اور بھارت روزِ اول سے ہی اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں لگے رہے۔ پاکستان کی دِلی خواہش رہی کہ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلق کو دوستی سے زیادہ ایک برادر ملک کے طور پروان چڑھائے۔اس کوشش میں زیادہ کامیابی تو حاصل نہ ہوئی،بلکہ ہمیشہ مخاصمت کا ہی سامنا رہا۔دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد ڈیورنڈ لائن،اعتمادمیں فقدان کا بنیادی سبب رہی۔تعلقات کا یہ اتار چڑھاؤ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ فراری کیمپ اور کابل میں اسلام آباد سفارت خانے کا گھیراؤ جلاؤ اس کی ایک جھلک ہیں۔

دوسری طرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے پاکستان نے ہمیشہ فراخ دلانہ کردار ادا کیا،حالانکہ اس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا، بلکہ شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں پاکستان کی لوکل انڈسٹری کو ناقابل ِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہماری ایکسپورٹ میں سست روی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم مطلوبہ معیارکی ادارہ جاتی صلاحیت، تکنیک اور تجربہ نہیں حاصل کر سکے، جس کا بنیادی جزو مارکیٹ سے ہم آہنگ ہونا تھا،بالآخر ڈیوٹی فری اشیاء کی فراوانی نے لوکل انڈسٹری کو تالہ لگا دیا،باوجود اس کے کہ خام مال کی سب سے بڑی مارکیٹ تھی۔ تزویراتی گہرای کی پالیسی کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ ہندوستان ہمیشہ سے پاکستان کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے خاتمے اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی محدود کرنے کے ایجنڈے پر گامزان رہا۔ انڈیا، ایران، افغانستان متوازی راہد اری اسی منصوبے کا ایک حصہ تھا۔امریکہ افغان امن معاہدے سے حالات نے پھر سے انگڑائی لی ہے۔ توازن اپنے حق میں بدلا جا سکتا ہے، خود کو ہم آہنگ رکھنے کے لیے فوری طور پر سفارتی سطح پر اقدامات اٹھانا ہوں گے، اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔ ہمیں باہمی احترام، مضبوط اقتصادی تعلق اور حقیقی پارٹنر شپ کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف کشمیر میں آرٹیکل 35A اور 270 کی تنسیخ کے بعدعملاً زندگی معطل ہے، جبکہ شہریت ترمیمی بل نے مسلمانوں پر زندگی کے تمام تر دروازے بند کر دیئے ہیں۔ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو اب شدت سے اس بات کا احساس ہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد ہی ان کی بقا کی اساس ہے، جس بات کا ادراک قائداعظم ؒ کو تقریباً ایک صدی قبل ہو چکا تھا۔ آج کے حالات نے اس پرمہر تصدیق لگا دی۔ جس بری طرح سے دہلی میں مسلمان نوجوانوں، بوڑھوں اور بچو ں کے خون سے ہولی کھیلی گئی مساجد و مدارس کی تضحیک کی گئی،یہ جنوبی ایشیا کے نقشے میں تبدیلی کا مظہر ہے۔ تاریخ کا جبر ہے کہ تاریخ خود کو دہرانے کو ہے، فقط انتظار قائد ثانی کا ہے۔ اس وقت ہندوستان کے مظلوم اور محکوم مسلمان ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں انہیں مایوس نہیں،بلکہ ان کی آواز بننا چاہئے۔ ہم ہمیشہ مظلوموں کے لئے آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ ان کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے میں مکمل رہنمائی فراہم کرنی چاہئے۔ ماضی میں بدقسمتی سے ہم ہمیشہ انہیں مرہم پٹی کے لئے کانگرس کی جھولی میں ڈال دیتے رہے ہیں اور وہ انہیں بڑی خوبصورتی سے اقتدار کی سیڑھی کے طور پر استعمال کرتی رہی۔ اب ہمیں دو قومی نظریے کی اساس کی بنیاد پر ہی ان کے لئے راہ ہموار کرنی چاہئے۔ شاید شہ رگ کی آزادی بھی اسی طرح سے ممکن ہو سکے۔

مزید : رائے /کالم