لاک ڈاؤن کیوں نہیں؟

لاک ڈاؤن کیوں نہیں؟
لاک ڈاؤن کیوں نہیں؟

  



کرونا وائرس کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکنے کا واحد طریقہ مکمل لاک ڈاؤن ہے، اگر خدانخواستہ یہ وبائی شکل اختیار کر گیا تو ہمارے وسائل اور دستیاب سہولتیں (جو بہت معمولی اور نہ ہونے کے برابر ہیں) بڑی تباہی روکنے میں ناکام رہیں گی۔ اس موقع پر قوم کو ایک مضبوط لیڈرشپ کی ضرورت ہے جو بڑے فیصلے کر سکے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت میں یہ صلاحیت نہیں ہے،وہ بدستور ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ عمران خان نے لاک ڈاؤن نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہیں یومیہ اُجرت پر کام کرنے والوں کی بہت فکر ہے۔ یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں …… پہلی یہ کہ انسانی زندگیوں کو بچانا کسی اور چیز کو بچانے سے زیادہ اہم ہے اور دوسری یہ کہ موجودہ حکومت کی معاشی ٹیم نے تو ڈیڑھ دو سال میں پہلے ہی ملک کی معیشت اور لوگوں کی حالت کا کباڑہ کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کی لیڈرشپ اور سپورٹروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پر ڈائیلاگ سے دامن بچاتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کی میڈیا بریفنگ کے دوران ایک رپورٹر نے حکومت کی طرف سے کئے گئے ناکافی اقدامات کی نشاندہی کی تو صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اسے دھمکیاں دیں اور کہا کہ تم لوگ صرف تنقید ہی کرتے ہو۔ یہی رویہ پی ٹی آئی کے اکثر وفاقی اور صوبائی وزیروں کا ہوتا ہے، جوابات دینے کی بجائے دھمکیاں دیتے ہیں۔ عمران خان کا رویہ ابھی تک ان کی پارٹی میں اوپر سے نیچے تک تمام لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی پالیسیاں کون بنا رہا ہے،جو لاک ڈاؤن جیسے اہم اقدامات سے حکومت کو روک رہا ہے؟ حکومت کی ”آدھا تیتر آدھا بٹیر“ والی پالیسیوں نے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی باتیں سن کر بچپن میں پڑھے ملا نصیر الدین کے لطیفے اور لال بجھکڑ کے قصے بے ساختہ یاد آتے ہیں۔جب مسئلہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کا ہو تو اس موقع پر کنسٹرکشن انڈسٹری کو کھڑا کرنے کی باتیں لطیفے سے کم نہیں۔ عمران خان نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔اب انہیں اقتدار سنبھالے دوسرا سال مکمل ہونے کو ہے اور اس تمام عرصے میں ایک گھر بھی نہیں بنایا گیا،بلکہ کنسٹرکشن انڈسٹری کا جنازہ نکال دیا گیا اور اب جب کرونا سے لڑنا ہے تو کنسٹرکشن انڈسٹری کی بے وقت کی راگنی گائی جا رہی ہے۔ پاکستان کی قیادت اس وقت ایک ایسے وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے جو کرونا وائرس کے خلاف لڑنے سے زیادہ عالمی امداد کا منتظر ہے اور جسے توقع ہے کہ گرمی بڑھنے سے کرونا وائرس بھی مر جائے گا……جب سے موجودہ حکومت کو برسر اقتدار لایا گیا ہے،ملک میں قیادت کا بحران ہر گذرتے دن کے ساتھ گہرا ہو رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کرونا وائرس کے بحران کے دِنوں میں زیتون کی شاخ پیش کرکے ایک اچھی مثال قائم کی ہے اور ثابت کیا ہے

کہ قومی معاملات ”اوئے اوئے“ اور ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ جیسے انتقامی جذبوں سے نہیں، بلکہ قومی مفاہمتی جذبوں سے بہتر ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو قومی اتحاد اور وسیع تر قومی مفاہمت کی ضرورت ہے۔ نیب جیسے اداروں سے انتقامی کارروائیوں کے ذریعے ملک کو تقسیم در تقسیم کرنے سے ملک بہت تیزی سے پیچھے جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کو بھان متی کے کنبے کی طرح اِدھر اُدھر سے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے بنایا گیا تھا،لیکن یہ تجربہ اِس لئے ناکام ہوا، کیونکہ اس بات کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا، قیادت کے ناکام ہونے کی صورت میں کیا کیا جائے گا؟ چونکہ قیادت کا بحران واضح طور پر سامنے آچکا ہے،اِس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ ناکام تجربات سے گریز کیا جائے اور اصلی قومی قیادت کو کام کرنے دیا جائے۔

مزید : رائے /کالم