کروناوائرس کی انفرادیت

کروناوائرس کی انفرادیت
کروناوائرس کی انفرادیت

  



کرونا وائرس کی وباء نے کئی منفرد کام کئے ہیں۔ مثلاً میڈیا اور سیاست کو شدت سے متاثر کیا ہے۔ پہلے حکومت اور اپوزیشن کے مابین 24/7 بہت سے موضوعات زیرِ بحث رہا کرتے تھے جن میں اب معتدبہ کمی آ چکی ہے۔ اب زیادہ فوکس کرونا پر ہی رہتا ہے۔ اور ہمہ وقتی سیاسی عذابوں سے جان چھوٹی رہتی ہے۔ چونکہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لئے اس نے دوسرے بے شمار مسائل کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب ایک یہی ”کرونا مسئلہ“ سب سے آگے آگے ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ موت ایک ایسی حقیقت ہے جو سامنے نظر آ رہی ہو تو باقی ساری حقیقتیں پسِ پردہ چلی جاتی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ موت برحق ہے اور ایک روز آنی ہے لیکن یہ ”روز“ جب چند روز کی دوری پر جھلملاتا نظر آئے تو باقی سب کچھ زیرِ چلمن چلا جاتا ہے۔ موت کی ارزانی بیان کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا کہ کلبہء افلاس میں اور دولت کے کاشانے میں موت جلوہ گر ہوتی ہے۔ دشت و در میں، گلشن میں اور ویرانے میں بھی موت برسرِ اقتدار ہے، یہ قلزمِ خاموش میں بھی اس شان سے ہنگامہ آرا رہتی ہے کہ موجوں کی آغوش میں سفینے ڈوب جاتے ہیں۔ کسی کو بھی نہ مجالِ شکوہ ہے اور نہ طاقتِ گفتار۔ زندگی کو انسان ایک ایسا طوق سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے جو گلے میں لٹک رہا ہے اور مسلسل گلے کو دبائے جا رہا ہے……

نے مجالِ شکوہ ہے، نے طاقتِ گفتار ہے

زندگانی کیا ہے، اک طوقِ گلو افشار ہے

محمود و ایاز، چھوٹے بڑے، ترقی پذیر اور ترقی یافتہ کی تمیز اٹھ گئی ہے۔ آسمانی اور الہامی کتابوں کی آیات میں موت کی جو نقشہ کشی کی گئی ہے پہلے وہ ان کی تلاوت کرتے وقت صرف گلے تک رہتی تھی لیکن اس کرونا نے ان سب کو رگ رگ میں اتر کر گویا موضوعِ مرگ کو ایک صفحے پر کر دیا ہے۔ انسان کتنا طاقت ور اور کتنا کمزور ہے، کتنا بااختیار اور کتنا بے بس ہے اس کرونا وائرس نے سب کچھ سب پر عیاں کر دیا ہے۔ جس طرح ہر ذرے میں کئی جوہری بم پوشیدہ ہیں اور جس طرح ہر ذرے کا دل چیریں تو کئی آفتابوں کا خون ٹپک جاتا ہے اسی طرح اس ناچیز سے وائرس میں پورے کا پورا عالم انسانی لرزتا محسوس ہوتا ہے۔

اجتماعی قبروں کا جو تصور پہلے کتابوں کے صفحات میں کہیں چھپا رہتا تھا، اب روز بروز ظاہر ہو رہا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے انسان کو اجتماعی قبروں کا ذکر دنیا کی بڑی بڑی لڑائیوں (Battles) میں ملتا تھا۔ یہ ذکر اذکار انسانی اعضاء کے ٹکڑوں اور انسانی خوف کی رنگینی میں لپٹا ہوتا تھا لیکن اب اس کرونا نے صحیح و سالم اور جیتے جاگتے انسانوں کو خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر بیک وقت اجتماعی قبروں میں پھینک دینے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ آج کسی ٹی وی چینل پر خبر چل رہی تھی کہ اٹلی میں ایک روز میں 627 مرد و زن موت کے منہ میں چلے گئے ہیں اور چونکہ یہ اموات ایک محدود سی بستی / شہر /علاقے میں واقع ہوئی ہیں اس لئے ان لاشوں کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔ ایامِ جنگ میں اجتماعی قبروں کا منظر تو قابلِ فہم تھا لیکن کسی وائرس کی زد میں آکر سینکڑوں انسانوں کا اس طرح ”زندہ درگور“ ہو جانا ایک لرزہ خیز تخیل ہے۔

اس قسم کی جان لیوا دبائیں پہلے بھی انسانوں پر نازل ہوتی رہی ہیں لیکن ان اجتماعی اموات میں بیشتر سیلابوں اور زلزلوں کے توسط سے آتی تھیں اور بعض ایسی بیماریوں کی وجہ سے بھی آتی تھیں جو بظاہر انسانی کنٹرول میں ہوتی تھیں مثلاً چیچک اور ہیضہ وغیرہ کے سبب کئی بار لاکھوں انسانوں کی جانیں ضائع ہوئیں لیکن ان کا پھیلاؤ اور علاقہ ء اثر مقامی یا زیادہ سے زیادہ علاقائی ہوتا تھا لیکن عہدِ حاضر کے کرونا ٹائپ وائرس کا دائرہ اثر تو عالمگیر ہے…… دنیا کے 200ممالک میں سے 186 ملکوں میں کرونا وائرس نے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ کسی ایک میں ہزاروں اموات ہوئی ہیں تو کسی دوسرے ملک میں سینکڑوں یا درجنوں میں گنتی منظر عام پر آ رہی ہے۔ شائد ایک آدھ ملک ایسا بھی ہو جہاں اس وائرس کے مریض تو موجود ہوں لیکن موت کے منتظر ہوں اور ساتھ ہی یہ اعداد و شمار بھی ایک حد تک ”مژدۂ جانفراء“ سناتے ہیں کہ ان پر وائرس نے حملہ کیا اور وہ صاحبِ فراش بھی ہوئے لیکن دوبارہ ”زندگی“ پا کر ہسپتالوں سے ڈسچارج کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن جو بدنصیب، ہسپتالوں میں داخل ہی نہ ہو سکے ہوں اور سیدھے قبرستانوں میں پہنچ گئے ہوں، ان کی اطلاع کس میڈیا پر آئے اور جو بچ بھی گئے ہوں، ان کی خوش خبری کون سنائے؟

کرونا وائرس یا اس طرح کے دوسرے وائرس جو ماضیء قریب یا بعید میں انسانوں پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ان میں ایک بات مشترک تھی کہ یہ انسان کے علاوہ کسی اور جاندار پر حملہ آور نہیں ہوئے۔ مال مویشی، ڈھور ڈنگر، چرندے، پرندے، درندے وغیرہ سب جاندار ہیں۔ ان کا جسمانی نظام اور نظامِ تنفس بھی ایک طرح کا ہے۔ سب کے سینے میں دل، جگر، گردے، انتڑیاں، گوشت اور ہڈیاں ہیں۔ لیکن آج تک کسی ”غیر انسانی جانور“ کو کسی وائرس کا اجتماعی شکار ہوتے نہیں دیکھا گیا۔ کسی بھی جنگل میں چلے جائیں، آپ کو شاذ ہی کوئی ایک جانور مرا ہوا ملے گا، سینکڑوں ہزاروں کا تو ذکر ہی کیا…… کیا اس سے یہ مراد لی جائے کہ ان جانوروں نے اپنے جسم میں کوئی ایسا دفاعی یا مزاحمتی نظام ڈویلپ کر لیا ہوا ہے کہ وہ تھوک کے حساب سے مرتے نہیں دیکھے گئے۔

کتابوں میں صرف ایک جانور کا ذکر ملتا ہے جو نہ صرف خود تھوک کے حساب سے مرا ہوا دیکھا گیا بلکہ اس نے انسان کو بھی تھوک کے حساب سے مار دیا…… اس جانور کو چوہا کہا جاتا ہے اور اس سے جو بیماری انسان کو لگتی ہے اس کو پلیگ (طاعون) کا نام دیا جاتا ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر براعظم میں طاعون کی وباء پھوٹی اور اس نے لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کی جان لے لی۔ ہندوستان میں 19ویں صدی کے اواخر میں جو طاعون کی وباء پھوٹی وہ سب سے زیادہ لرزہ خیز اور خوفناک تھی جس کے نتیجے میں ایک کروڑ سے زیادہ انسان دیکھتے ہی دیکھتے لقمہ ء اجل بن گئے۔ چونکہ یہ ماضی ء قریب کی بات ہے اس لئے اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

1897ء کا یہ طاعون تاریخِ ہند کا تیسرا بڑا طاعون تھا جس نے ایک کروڑ سے زیادہ انسانوں کی جان لے لی۔ ایک دوست نے اس طاعون کی ایک تصویر بھی مجھے واٹس آپ کی جس میں کراچی کو قرنطنیہ کیمپ بنایا گیا تھا اور اس میں سینکڑوں ہزاروں ہندوستانیوں کو طاعون سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کئے گئے تھے۔ قرنطینہ میں رکھے جانے والے ان ہندوستانیوں میں وہ انگریز بھی شامل تھے جن کو برطانوی حکومت نے عمداً واپس انگلستان نہیں بھیجا تھا کہ مبادا وہاں بھی یہ وباء پھیل جائے…… کیا اتفاق ہے کہ آج 123 برس بعد اسی کراچی شہر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ ہے!……

کرونا وائرس کی طرح یہ پلیگ بھی چین کے ایک صوبے ینان سے شروع ہوا۔ اس دور میں بھی اس چینی صوبے میں چوہوں کو بڑے ذوق و شوق سے کھایا جاتا تھا۔ چین میں پوست کی کاشت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہوتی تھی اور اس فصل کی کاشت و برداشت کی جو صورتِ حال آج افغانستان میں ہے وہی ایک ڈیڑھ صدی پہلے چین میں بھی تھی۔ برطانیہ کہ جو اس دور میں دنیا کی واحد سپرپاور تھا اس نے چینی علاقوں میں افیون اور کوکین وغیرہ بنانے والی فیکٹریاں لگا رکھی تھیں۔ ان میں کام کرنے والے مزدور بیگار کی صورت میں انڈیا سے بحری جہازوں کے ذریعے ہانگ کانگ اور ینان وغیرہ میں بھیجے جاتے تھے۔ بحری جہازوں کے ذریعے اس تجارت نے چین سے طاعون کی یہ وباء ہندوستان میں منتقل کی۔ اس وباء نے ایک کروڑ سے لے کر ڈیڑھ کروڑ ہندوستانیوں کی جان لے لی۔ یہ وائرس 1897ء سے لے کر 1920ء تک رہا اور اسی اثناء میں اس کی ویکسین ڈویلپ ہوئی جس نے آئندہ کے لئے طاعون کا خاتمہ کر دیا۔

کرونا وائرس کی ویکسین کے لئے بھی سائنس دانوں نے 18ماہ کا عرصہ طلب کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس سے پہلے ہی یہ ٹیکہ تیار کر لیا جائے اور آنے والے برسوں میں انسان کو ان جرثوموں سے نجات مل جائے جن کا نام کبھی اسپینی فلو رکھا جاتا ہے، کبھی سوائن فلو، کبھی ایبولا، کبھی SARS اور کبھی MERS…… چونکہ آج کل سارے میڈیا پر اس کرونا وائرس کا قبضہ ہے اس لئے آنے والے کالموں میں اسی کا ذکر اور اسی کے بارے میں کچھ تاریخی حقائق بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مزید : رائے /کالم