فوڈ اتھارٹی ٹیموں کا مختلف شہروں میں آپریشن‘ 198پوائنٹس کو نوٹس

  فوڈ اتھارٹی ٹیموں کا مختلف شہروں میں آپریشن‘ 198پوائنٹس کو نوٹس

  



ملتان (سٹاف رپورٹر)پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں تیز ہوگئیں لودھراں میں داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے 4دودھ بردار گاڑیوں میں موجود 360 لیٹر دودھ کی چیکنگ، رینسڈ آئل کے استعمال،حشرات کی روک تھام کا نامناسب انتظام پر ریسٹورنٹ کو (بقیہ نمبر36صفحہ10پر)

30 ہزار روپے جرمانہ عائد،190 کلو غیر معیاری بیورجز بھی تلف، کھلے مصالحہ جات کے استعمال، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 46,500 روپے کے جرمانے عائد، 198 فوڈ پوائنٹس کو وارننگ نوٹسز جاری کردئیے۔تفصیل کے مطابق فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 207 فوڈ پوائنٹس کو وزٹ کیاجبکہ 198 پوائنٹس کو بہتری کے لیے اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔اس کے علاوہ لودھراں میں ناکہ بندی کرکے 04 دودھ بردار گاڑیوں میں موجود 360 لیٹر دودھ کی چیکنگ، رینسڈ آئل، کھلے مصالحے کے استعمال، ایکسپائر اشیاء کے استعمال اور حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر مجموعی طور پر 6 فوڈ پوائنٹس کو 46,500 روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ لودھراں میں ڈیری سیفٹی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے 360 لیٹر دودھ کی چیکنگ کی، 4 دودھ بردار گاڑیوں میں موجود 360 لیٹر دودھ کو چیک کیا گیا۔علاوہ ازیں ملتان روڈ مظفرگڑھ میں واقع ایل ایف سی لاجواب ریسٹورنٹ کو رینسڈ آئل کے استعمال، حشرات کی روک تھام کا نامناسب انتظام اور صفائی کی ناقص صورتحال پر 30,000 روپے جرمانہ عائد، ملتان میں غلام مرتضی سلاٹرنگ یونٹ کو سلاٹر کونز نہ ہونے پر 5 ہزار روپے، کھلے مصالحہ جات کے استعمال پر سوات تکہ اینڈ چپلی کباب کو 5 ہزار روپے اور ماشاء اللہ ہول پولٹری شاپ کو 2,000 روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ ڈی جی خان میں شاپ کو 3,000 روپے اور وہاڑی میں مٹن شاپ کو 1500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔اسی طرح ایکسپائر جوس، رینسڈ آئل کے استعمال، صفائی کی ناقص صورتحال پر 06 فوڈ پوائنٹس کو 46,500 روپے کیجرمانے عائد کیے گئے۔ جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں چیکنگ کے دوران ملاوٹی مصالحہ جات، 190 لیٹر ایکسپائر جوس،مضر صحت دودھ، 20 لیٹر رینسڈ آئل موقع پر تلف کیا گیا۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں پر 198 فوڈپوائنٹس کو وارننگ نوٹس بھی جاری کیے جبکہ 207 پوائنٹس کو وزٹ کیا گیا۔

نوٹس

مزید : ملتان صفحہ آخر