مزدور شاعر‘ ماہر لسانیات احسان دانش کی 38ویں برسی

مزدور شاعر‘ ماہر لسانیات احسان دانش کی 38ویں برسی

  



ملتان (اے پی پی)مزدور شاعر کی حیثیت سے پہچانے جانے والے نامور شاعر احسان دانش کاشمار غزل کے صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے۔ ان کے کئی اشعار ضرب المثل ہیں۔انہوں نے بہت مشکل حالات زندگی میں گزاری اور اپنے تجربات کو شاعری کاحصہ(بقیہ نمبر12صفحہ10پر)

بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام ہرزمانے کی آواز ہے۔ ان خیالات کااظہار معروف شاعر عباس تابش نے احسان دانش کی38ویں بر سی کے موقع پر اے پی پی سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہاکہ احسان دانش دکھی لوگوں کا سہارا بھی تھے۔ ان کی وفات کے بعد معلوم ہوا کہ کم وبیش 15گھرانے ایسے تھے جن کی کفالت احسان دانش کرتے تھے اورکسی کو اس کی خبر بھی نہیں تھی۔احسان دانش کا اصل نام قاضی احسان الحق تھا۔ وہ 2فروری1914ء کو کاندھلہ (بھارت)میں پیداہوئے۔احسان دانش کو عربی،فارسی سمیت مختلف زبانوں اوردیگر علوم میں بے پناہ مہارت حاصل تھی۔وہ 80سے زائد کتابوں کے مصنف تھے جن میں ان کی خود نوشت ”جہان دانش“ اور ”جہان دیگر“قابل ذکر ہے۔اس کے علاوہ ان کی دیگر مطبوعات میں ”تذکیروتانیث“،”ابلاغ دانش“، ”رموز غالب“، زنجیر بہاراں“، ”لغات الاصلاح“قابل ذکر ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستازہ امتیاز اور نشان امتیاز سے بھی نوازاگیا۔22مارچ1982ء میں وہ لاہور میں انتقال کرگئے۔

بری

مزید : ملتان صفحہ آخر