شہباز شریف کی وطن واپسی،گھر میں قرنطینہ ہو گئے،اپوزیشن لیڈر کرونا پر کنٹرول کیلئے وزیر اعظم کو تجاویز پیش کرینگے

شہباز شریف کی وطن واپسی،گھر میں قرنطینہ ہو گئے،اپوزیشن لیڈر کرونا پر کنٹرول ...

  



لاہور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف لندن سے واپسی کے بعد قرنطینہ میں چلے گئے، ماڈل ٹاؤن لاہور میں گھر کے کمرے تک خود کو محدود کر لیا، چار سے پانچ دن تک کسی سے نہیں ملیں گے،سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو ملاقات سے روک دیا.شہباز شریف پرواز پی کے سیون ایٹ سکس کے ذریعے اسلام آباد پہنچے، وطن واپسی کے بعد ٹویٹر پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پہنچ گیا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف کے علاج کی وجہ سے لندن گیا تھا، عوام سے پرزور اپیل ہے کہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں اور اپنے گھروں میں ہی قیام کریں۔ عوام کو احتیاطی تدابیر اخیتار کرنے کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو 4 سے 5 روز کیلئے قرنطینہ کر لیا میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آزمائش کے وقت قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، کرونا وائرس کی وبا جس کو آفت کہوں گا قوم کے ساتھ مل کر مقابلہ کریں گے، اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے پوری قوم متحد ہے، انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کا میرا اور ہمارے خاندان کا مرنا جینا اس ملک کے ساتھ ہے اور میاں نواز شریف کا بھی یہی پیغام ہے کہ قوم متحد رہے، انشااللہ اللہ تعالیٰ اس آزمائش سے نکال دیں گیاپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف وزیراعظم کو خط لکھ کر مہلک وائرس کے خلاف خدمات پیش کریں گے۔ شریف گروپ کے ہسپتال بھی قرنطینہ کے طور پر استعمال کرنے کی آفر کر دی گئی۔ شہباز شریف کے زیر صدارت کرونا وائرس کے حوالے سے ویڈیو لنک پر اجلاس ہوا جس میں پارٹی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہباز شریف وزیراعظم کو خط میں کرونا کے خلاف پارٹی تجاویز پیش کریں گے۔سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ حکومت کرونا وائرس کے خاتمے کے لئے نیشنل ٹاسک فورس بنائے۔ شہباز شریف پیر کے روز ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس بھی کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے ایران کے سفیرسید علی حسینی کو خط میں کہا ہے کہ 19 مارچ کو آپ کے خط پر شکریہ ادا کرتا ہوں،ایران کے برادر عوام کو کرونا سے درپیش مشکلات کا جان کر دلی دکھ اور پریشانی ہوئی،ہمیں کورونا کے مشترکہ چیلنج اور بحران کا سامنا ہے، جانی نقصان پر دکھ اور افسوس ہے،ایران پر پابندیوں کی وجہ سے کورونا کی پیدا شدہ صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے،آپ نے بجا کہا کہ کورونا کے مشترکہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے عالمی برادری کا تعاون درکار ہے،پاکستان مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ ایران پر پابندیاں ناقابل قبول اور درپیش چیلنج کے مقابلے میں رکاوٹ ہیں،انسانی تکالیف کو دور کرنے کے لے یک جہتی اور مدد کی ضرورت ہے ناکہ پابندیوں اور سزا کا راستہ اپنایا جائے۔ شہباز شریف نے اپنے خط میں کہا ہماری اولین ترجیح انسانیت کا مفاد ہونا چاہئے، کورونا وائرس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے ایران کے عوام کی معاونت کرنے کی ضرورت ہے، پابندیاں فوری ختم کی جائیں کیونکہ یہ انسانی زندگیاں بچانے کے نیک کام میں رکاوٹ ہیں۔

شہباز شریف خط

مزید : صفحہ اول