ملک بھر میں فوج طلب،سندھ لاک ڈاؤن،لوگ رضا کارانہ طور پر گھروں میں رہیں،وزیر اعظم کا مکمل لاک ڈاؤن سے انکار

ملک بھر میں فوج طلب،سندھ لاک ڈاؤن،لوگ رضا کارانہ طور پر گھروں میں رہیں،وزیر ...

  



لاہور، پشاور، کراچی،کوئٹہ، اسلام آباد (جنرل رپورٹر، سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کرونا کے دو اور مریضوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں کرونا سے جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد 5ہو گئی کرونا کی خراب ہوتی صورتحال کے پیش نظر سندھ حکومت نے صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے صوبے میں فوج بھی طلب کر لی ہے جبکہ خیبر پختونخوامیں اتوار کے روز جزوی لاک ڈاؤن رہا اسلام آباد میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں مکمل اور آزاد کشمیر اور پنجاب میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے،چاروں صوبوں کی طرف سے فوج طلب کرنے کی درخواستوں پر وزیر اعظم نے ملک بھر میں فوج طلب کرنے کی سمری پر دستخط کر دیئے ہیں سندھ میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں 15 روزہ لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ اور قید کی سزا دی جاسکے گی۔ حکم نامے کے مطابق اندرون شہر اور بیرون شہر لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ کسی بھی نجی سرکاری ادارے میں سماجی مذہبی، سیاسی تقریب یا اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکومت نے نماز جنازہ کا اجتماع بھی محدود کرنے کا حکم جاری کیا ہے، نماز جنازہ کیلییایس ایچ او سے پیشگی اجازت لیناہوگی اور صرف قریبی رشتے دار ہی نماز جنازہ میں شریک ہوسکیں گے۔ جنازے کے اجتماع میں شریک ہونے والے ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں گے۔طبی عملہ، سماجی رضاکار، میڈیا کارکنان، بندرگاہ پر کام کرنے والا عملہ، سماجی رضاکاراور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کارلاک ڈاون کی پابندیوں سے مستثنی ہوں گے۔اسی طرح ضروری خدمات کے ادارے، اسپتال، میڈیکل اسٹور، لیبارٹریز، کے الیکٹرک، سوئی گیس کے عملے، کو بھی لاک ڈاون کی پابندیاں عائد نہیں ہوں گی۔حکم نامے کے مطابق کسی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں مریض کے ساتھ صرف ایک تیماردار کو ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ شہریوں کو ادویات اور اشیائے خور ونوش کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح خوراک، ادویات کی گاڑیاں مددگار ساتھ لے جاسکیں گی۔محکمہ داخلہ کے جاری کردہ حکم نامے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالیاداروں کے اہلکاروں کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کو قابل سزا جرم قراردیا گیا ہے۔ سندھ میں کورونا کے مزید 41، پنجاب میں 86، گلگت بلتستان میں 16اور بلوچستان میں 4 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس سے پاکستان کرونا مریضوں کی تعداد 777ہو گئی۔ گزشتہ روز ملک میں 147 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے پنجاب میں 86، سندھ میں 41، گلگت بلتستان میں 16اور بلوچستان میں 4 نئے کیس سامنے آئے۔نئے کیسز کی تصدیق کے بعد ملک میں مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 777 ہوگئی ہے جبکہ کراچی میں ایک اور مریض صحتیاب ہوا ہے جس کے بعد وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 6 ہوگئی۔ اس سے قبل کراچی میں 2، اسلام آباد میں بھی 2 جب کہ حیدرا?باد میں ایک مریض صحتیاب ہوچکا ہے پاکستان میں صوبہ سندھ میں کرونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں 333 لوگوں میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔ پنجاب میں 225، بلوچستان میں 104، گلگت بلتستان میں 55، خیبر پختونخوا میں 31، اسلام آباد میں 11 اور آزاد جموں و کشمیر میں 01 شخص کرونا سے متاثر ہوا ہے۔اگر صوبوں کے بات کی جائے تو کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد صوبہ سندھ میں 333، پنجاب میں 152، بلوچستان میں 104، خیبرپختونخوا میں 31، اسلام ا?باد میں 11، گلگت بلتستان میں 55 اور ا?زاد کشمیر میں بھی ایک شخص متاثر ہوا ہے بلوچستان میں ہفتے کے روز کورونا کے مزید 10 کیسز سامنے ا?ئے جس کی تصدیق صوبائی چیف سیکرٹری کی جانب سے کی گئی ہے۔چیف سیکرٹری کیمطابق صوبے میں اب تک 103 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔بلوچستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت بلوچستان کی جانب سے 3 ہفتوں کے لئے جزوی لاک ڈاون کر دیا گیا ہے، دوسری جانب صوبائی حکومت نے پاک فوج کی مدد بھی طلب کر لی۔ بلوچستان میں 3 ہفتوں کے لئے جزوی لاک ڈاون کے باعث شہر میں تمام بڑے شاپنگ مالزاور مارکیٹ مکمل بند ہے۔ عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے کرونا کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر بلوچستان آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو سول اختیارات دینے کیلئے خط لکھ دیا، ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج سول اداروں کی مدد کرے گی۔دوسری جانب پاک افغان چمن بارڈر ایک دن کھولنے کے بعد دوبارہ بند کر دیا گیا، گزشتہ روز 95 ٹرک غذائی اجناس لے کر افغانستان گئے تھے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ٹرکوں کو گزارنے کیلئے ایک دن کیلئے اجازت دی گئی تھی۔آزاد کشمیر میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے ضلعی انتظامیہ مظفرآباد متحرک، کرونا وائرس کے خطرہ کے پیش نظر دارالحکومت میں جزوی لاک ڈاؤن، تمام ہوٹلزبند، پبلک ٹرانسپورٹ معطل، لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل،ڈپٹی کمشنر مظفرآباد نے تحصیلدار مظفرآباد حماد بشیر کو حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے ٹاسک دے دیا،گلگت بلتستان میں بھی کرونا کے خدشے کے باعث رات بارہ بجے سے لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم بڑے اور سخت فیصلے کرنے جارہے ہیں تاکہ عوام کو کورونا وائرس سے بچاسکیں، عوام کی صحت اور زندگی عزیز ہے، ہم لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں جس کا آج ہی آغاز کریں گے۔ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں کا بجلی کا بل 5000 روپے تک ہے اْن سے مہینے کا بل نہ لیں، یہ 5000 روپے کا بل اگلے 10 مہینوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے لیں، یہ ہدایت ایس ایس جی سی کے لیے بھی ہے، جن کا گیس بل 2000 روپے تک کا ہے اْن کا بل اس مہینے نہ لیا جائے جب کہ اگلے 2 مہینوں میں کوئی بجلی یا گیس کنیکشن کاٹے نہیں جائیں گے۔ سندھ میں لاک ڈاوٓن کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا جس کا باضابطہ اعلان وزیراعلیٰ سندھ ایک ویڈیو بیان کے ذریعے کیا پنجاب حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر پاک فوج سے مدد طلب کر لی، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب میں کسی قسم کی غذائی قلت نہیں،ایکسپوسنٹر میں ایک ہزار بستروں کا اسپتال بنانے جارہے ہیں،مسائل پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں،کورونا کے معاملے پر کسی کو سیاست کرنے کی ضرورت نہیں،کورونا کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔لاہور سے جنرل رپورٹر کے مطابق کورونا وائرس کے حملوں میں مزید تیزی آگئی۔ لاہور میں مزید 15 افراد کورونا کا شکار ہو گئے۔ مریضوں کی تعداد36 ہو گئی۔ پنجاب بھر میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 222 تک جا پہنچی۔کورونا وائرس سے متاثرہ ڈی جی خان کے قرنطینہ سینٹر میں 153 زائرین، گوجرانوالہ میں 4، گجرات میں تین، جہلم میں 3، ملتان میں 1 اور راولپنڈی میں 2 مریض زیرعلاج ہیں

فوج طلب

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کرتا ہوں توپچیس فیصد غریب لوگوں کا کیا بنے گا؟اگر پاکستان کے وہ حالات ہوتے جو اٹلی، فرانس کے ہیں تو میں لاک ڈاؤن کر دیتا، 25فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے،لاک ڈاؤن سے رکشہ چلانے والے، چھاپڑی والے، ریڑھی والے،چھوٹے دکاندار اور دیہاڑی والے گھروں میں بند ہو جائیں گے،ہم مل کر ہم احتیاط کرلیں تو جس طرح چین نے قابو پایا پاکستان بھی کورونا وائرس پر قابو پالے گا،خود احتیاط کریں،اپنے اوپر خود لاک ڈاؤن کریں، کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ افراتفری سے ہے۔اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بڑی بحث چل رہی ہے کہ ملک کو لاک ڈاؤن کر دینا چاہیے، ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب ملک میں کرفیو لگادینا ہے، کرفیو کا مطلب شہریوں کو گھروں میں بند کر کے پولیس اور فوج کے ذریعے پہرہ دینا تا کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، اگر پاکستان کے وہ حالات ہوتے جو اٹلی، فرانس کے ہیں تو میں لاک ڈاؤن کر دیتا۔ انہوں نے کہا کہ 25فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے،لاک ڈاؤن کیا گیا تو رکشہ چلانے والے، چھاپڑی والے، ریڑھی والے،چھوٹے دکاندار اور دیہاڑی والے گھروں میں بند ہو جائیں گے،کیا ہمارے پاس اتنی گنجائش ہے کہ ہم ان کو گھروں میں کھانا پہنچا سکیں؟ابھی اتنی گنجائش نہیں ہے، چین دوسرا امیر ترین ملک ہے، میں اگر لاک ڈاؤن کرتا ہوں تو ان پچیس فیصد غریب لوگوں کا کیا بنے گا؟وزیراعظم نے کہا کہ آپ کو خود اپنے آپ کو لاک ڈاؤن کی طرف لے جانا چاہیے، خود اپنے گھروں میں رہیں،یہ بیماری تیزی سے تب پھیلے گی جب ہم احتیاط نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکمت اور عقل کا استعمال کریں،خود احتیاط کریں،قوم کا مشکل وقت میں پتہ چلتا ہے، مجھے اپنی قوم پر فخر ہے، لاک ڈاؤن لگا تو اس کے اور اثرات ہوں گے، اپنے اوپر خود لاک ڈاؤن کریں، کھانسی، نزلہ زکام ہوتا ہے تو خود قرنطینہ میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء اتنی ہیں کہ لوگوں کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی ضرورت نہیں، کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ افراتفری سے ہے، مل کر ہم احتیاط کرلیں تو جس طرح چین نے قابو پایا پاکستان بھی اس وائرس پر قابو پالے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی راہ اختیار کریں کیونکہ "جو محدود ہے۔۔۔وہ محفوظ ہے"اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ صورتحال کاتقاضا ہے کہ عوام آگے بڑھیں اور اپنے ہم وطنوں کو کرونا جیسی آفت سے محفوظ بنانے کی تحریک میں ہمارا ہاتھ بٹاتے ہوئے کسی حکومتی فرمان کا انتظار کئے بغیر ہی اپنے آپ کو ازخود گھروں تک محدود رکھیں اور رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی راہ اختیار کریں کیونکہ "جو محدود ہے۔۔۔وہ محفوظ ہے"۔دریں اثناوزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا کے انجام تک ایران پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں،بندشیں کرونا کیخلاف ایران کی مدافعتی کاوشوں کو نہایت منفی اندازمیں متاثرکررہی ہیں، وباء سے نمٹنے کیلئے انسانیت کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔ اتوار ٹوئٹر پراپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ میں انسانی بنیادوں پر صدر ٹرمپ سے ملتمس ہوں کہ کرونا کے انجام تک ایران پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایرانی عوام کو ناقابل بیان مصائب کاسامنا ہے کیونکہ بندشیں کرونا کیخلاف ایران کی مدافعتی کاوشوں کو نہایت منفی اندازمیں متاثرکررہی ہیں وزیر اعظم نے کہاکہ اس وباء سے نمٹنے کیلئے انسانیت کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے غذائی اشیا کے مہنگے ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) سے اجناس کی قیمتوں میں ڈیوٹی اور ٹیکسز کم کرنے کی سمری پیش کرنے کی ہدایت کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس افسران کی ایک ٹیم اشیائے خور و نوش کی ایک فہرست مرتب کررہی ہے، جسے منگل کے روز وفاقی کابینہ میں غور کے لئے پیش کیا جائے گا۔گزشتہ ماہ وزارت خزانہ نے نیشنل ٹیرف کمیشن کو بھی ضروری اشیائے خور ونوش پر ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) سمیت ڈیوٹی اسٹرکچر مرتب کرنے کا کام سونپا تھا جس کی وجہ سے گھریلو اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔غیر متناسب اشیائے خور و نوش کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی متعلقہ محکمہ کو آگاہ کردیا ہے کہ خام کھانے کی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی نہیں ہے اس کے برخلاف، ایف بی آر درآمدی مرحلے پر سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس (انکم ٹیکس) جمع کرتا ہے۔مقامی کسانوں کے برآمدات کے فائدے کو کرنے کے لیے کچھ اشیا پر باقاعدہ اور اضافی کسٹم ڈیوٹی بھی عائد ہیں۔ایف بی آر کی فہرست کے مطابق، وہ ٹماٹر کی درآمد پر 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کررہی ہے جبکہ سبزیوں پر کسٹم ڈیوٹی یا سیلز ٹیکس نہیں تاہم پیاز کی درآمد پر حکومت 20 فیڈف سیلز ٹیکس اور 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کرتی ہے۔آلو پر حکومت 25 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمد پر 5.5 فیصد انکم ٹیکس جمع کرتی ہے اسی طرح حکومت نے گندم پر 60 فیصد آر ڈی گندم کے آٹے پر 25 فیصد، چینی پر 40 فیصد اور بغیر ہڈی کے گوشت پر 5 فیصد نافذ کیا ہے۔دالوں پر درآمدی مرحلے میں تقریبا 2 فیصد انکم ٹیکس بھی ہے۔ملائیشیا اور انڈونیشیا سے پام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی بہت زیادہ ہے جس میں تبدیلیوں سے مقامی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کا آپشن بند نہیں کیا،وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سیلف لاک ڈاؤن کا کہا اورپیغام دیا اگر عوام نے تعاون نہ کیا تو لاک ڈاؤن ہو جائیگا، چین میں بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے وباء پر قابو پایا گیا،عوام میں تعاون کی جھلک نظرنہیں آرہی،عوام کی حفاظت اور سلامتی کے لیے پرعزم ہیں،اس وقت چیلنج عوام میں احساس پیدا کرنا ہے، چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے میڈیا کا تعاون ناگزیر ہے،ہر فرد کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وباپر قابوپانے کے لیے احتیابی تدابیر پر عمل درآمد کریں، وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں درپیش ایشو اور مسائل کا ذکرکیا،وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سیلف لاک ڈاؤن کا کہا،وزیراعظم نے پیغام دیا اگر عوام نے تعاون نہ کیا تو لاک ڈاؤن ہو جائیگا،دریں اثناوزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاور سیکٹر سے متعلق اہم اجلاس آج پیر کو ہوگا،جس میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صوتحال کے پیش نظر گھریلو اور کمرشل بجلی کے صارفین کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا سے پیدا ہونے والی صوتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت پورے ملک کیلئے پاور سیکٹر کی طرف سے ریلیف پیکج پر کام کررہی ہے اور اس حوالے سے ایک اعلی سطح کا اجلاس سوموار کو اسلام ا?باد میں منعقد ہوگا۔اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے،اجلاس میں گھریلو اور کمرشل بجلی کے صارفین کیلئے ریلیف پیکج پر فیصلے ہونگے۔

وزیر اعظم

لندن، نیویارک، روم، بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) دنیا بھر میں کرونا کے وار جاری، خطرناک وائرس نے 188 ممالک کو لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہزار 67 ہو گئی، کرونا سے اب تک 3 لاکھ 8 سے زائد افراد متاثر ہیں، اٹلی میں 671 ہلاکتیں ایک ہی روز میں ہوئیں۔ جنوبی کوریا میں 2،چین اور فلپائن میں چھے، چھے اور امریکا میں مزید 96 افراد ہلاک ہو گئے، افریقا میں بھی لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا۔چین کے بعد کرونا نے یورپ میں پنجے گاڑ لیے، اٹلی میں کرونا وائرس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 671ہلاکتیں ہوئیں۔ مجموعی تعداد 4 ہزار 8 سو 25 ہو گئی۔وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کرونا مثبت نکلنے کی صورت میں ہر شخص کو مفت طبی امداد دی جائے گئی، کرونا کے ٹیسٹ کے لئے امیگریشن سٹیٹس چیک نہیں کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صورت حال اٹلی سے بھی ابتر ہو سکتی ہے، ہلاکتوں کی تعداد 233 ہے. افریقا کے متعدد ممالک میں بھی لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا، کیسز کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی۔اسپین میں بھی کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 285 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد 1378 اور متاثرین کی تعداد 25 ہزار 496 ہو گئی ہے۔پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں بھی کورونا وائرس سے اب تک 5 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی 21 ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں 332 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں جب کہ اب تک 23 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔ سے کل مریضوں کی تعداد 367ہوگئی۔27 فروری کو اس مشرقی یورپی ملک میں پہلا کیس رپورٹ ہوا جو 20سالہ رومانیہ کے شہری تھے وہ اٹلی کے سیاح سے متاثر ہوئے تھے۔ملک میں 16 مارچ کو کرونا وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا۔افغانستان میں کورونا وائرس کے نئے دس کیس سامنے آئے ہیں۔ اتوار کو وزیر صحت فیروز الدین فیروز نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ستانوے مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں دس کے نتائج مثبت آئیکویت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ انس الصالح نے اعلان کیا ہے کہ کابینہ نے اپنے غیر معمولی اجلاس کے دوران شام پانچ بجے سے ہر روز صبح چار بجے تک ملک کے تمام حصوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تا حکم ثانی اس پرعمل درآمد کیا جائے گا۔سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاوکو روکنے کے لیے پورے ملک میں لاک ڈاون کر دیا گیا۔ گزشتہ روز لگائی گئی پابندی 16 روز تک جاری رہے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے سعودی عرب نے ٹرینوں، بسوں اور ٹیکسیوں سمیت انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک پروازوں کو بند کردیا، قومی اداروں میں بھی چھٹیاں دے دی گئی ہیں جبکہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے پہلے سے ہی بند ہیں مصر میں حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدام کے تحت تمام مساجد اور گرجا گھروں کو عبادت گزاروں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصر نے اب تک کرونا وائرس کے 285 کیسوں کی تصدیق کی ہے۔ان میں آٹھ افراد کی موت ہو چکی ہے۔س۔

کرونا ہلاکتیں

مزید : صفحہ اول