شاہ محمود کا ایرانی،نیپالی دوسری لنکن ہم منصبوں کو ٹیلیفون،کرونا سے ملکر لڑنے کا عزم

شاہ محمود کا ایرانی،نیپالی دوسری لنکن ہم منصبوں کو ٹیلیفون،کرونا سے ملکر ...

  



اسلام آباد(آئی این پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور کرونا وائرس کی وبا ء سے ہونیوالے کثیر جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام جس بہادری سے اس عالمی وبا ء کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ یقیناً قابل تحسین ہے۔وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو اس کڑے وقت میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کیا۔ جبکہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران پر پابندیاں ہٹوانے کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی بھرپور کاوشوں پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے برادر ملک ہونے کے ناطے، اس کڑے وقت جو کردار ادا کیا ہے وہ مثالی ہے۔ اتوار کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ٹیلیفونک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میری جرمنی کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی تو ہماری درخواست پر انہوں نے وعدہ کیا کہ آج یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اجلاس میں وہ اس معاملے کو اٹھائیں گے،میں نے ان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس عالمی وباء کو پیش نظر، قرض کے بوجھ تلے دبے، ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو اس وبا سے نبرد آزما ہونے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔میں سارک وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کر کے انہیں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے بات کروں گا،ہم نے اسلام آباد میں پی فائیو ممالک کے سفراء سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اپنے ممالک کو یہ پیغام پہنچائیں کہ انسانی ہمدردی کے تحت ایران پر عائد معاشی پابندیوں کو ہٹایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی زائرین جو ایران سے بذریعہ تفتان واپس آ رہے ہیں ہم نے ان کو آئسولیش میں رکھنے کیلئے سکھر اور ملتان میں کوارنٹائین سینٹرز قائم کیے ہیں۔اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران پر پابندیاں ہٹوانے کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی بھرپور کاوشوں پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے برادر ملک ہونے کے ناطے، اس کڑے وقت جو کردار ادا کیا ہے وہ مثالی ہے۔علاوہ ازیں وزیر خارجہ نے نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گیاولی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس چیلنج سے موثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے پاکستان اور نیپال کے مابین سفارتی تعلقات کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر نیپالی وزیر خارجہ کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا سارک کی صورت میں ہمارے پاس ایک اہم علاقائی پلیٹ فارم موجود ہے پاکستان کی کوشش ہے کہ اس ایمرجنسی کی صورت حال میں اس پلیٹ فارم کو متحرک اور فعال بنایا جائے، سارک ممالک ممبران کے مابین خطے میں نیپال کا کردار قابلِ تحسین ہے۔پاکستان سارک ممالک کی وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس منعقد کروانے کا متمنی ہے تاکہ ہم اس عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر سکیں۔ نیپالی وزیر خارجہ نے کہا کہ نیپال، پاکستان کے ساتھ اپنے کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ ہمیں ایران کی صورت حال پر تشویش ہے اور نیپال ایران پر پابندیاں ختم کروانے کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔نیپالی وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے سارک وزرا صحت کانفرنس کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے نیپالی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جس پر نیپالی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات ساز گار ہونے پر پاکستان کا دورہ کریں گے۔دریں اثناء شاہ محمود قریشی نے سری لنکا کے وزیر خارجہ ڈائنش گناوردنا سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیاجس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم سری لنکا کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں۔پاکستان کرونا وبا کے تدارک کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور اس حوالے سے علاقائی سطح پر تعاون کے فروغ کیلئے سارک ممالک کی وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کا متمنی ہے۔ ایران میں اس وقت ہزاروں لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں ایران، معاشی پابندیوں کی وجہ سے اس وبا کے خلاف موثر اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کو انسانی ہمدردی کے تحت ختم کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو اس وباء کی روک تھام کیلئے بروئے کار لا سکیں۔ (آج) پیر کو یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے میں نے تمام یورپی وزرائے خارجہ سے بذریعہ خط مطالبہ کیا ہے کہ اس عالمی وبا کی وجہ سے پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے محدود وسائل کے سبب ہمیں اس آفت سے نمٹنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں چنانچہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو اس وبا سے نمٹنے اور انسانی جانوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔وزیر خارجہ نے کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے مناسب اور بروقت اقدامات کرنے پر سری لنکا کی کوششوں کی تعریف کی۔سری لنکن وزیر خارجہ نے کہا کہ سری لنکا، پاکستان کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔سری لنکن وزیر خارجہ نے اس وبا سے نمٹنے کیلئے سارک فورم کو متحرک کرنے اور کرونا کے حوالے سے سارک وزارئے خارجہ صحت ویڈیو کانفرنس کی تجویز پر پاکستان کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے سری لنکن ہم منصب کو مناسب وقت پر دورہ پاکستان کی دعوت دی۔علاوہ ازیں اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے لوگ صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، ہمارے ہاں عوامی تعاون کا فقدان ہے،ہم سب کو اس وقت ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے، حکومت جو ہدایات دے رہی ہے وہ آپ کی بہتری کے لیے ہیں، بہت سے یورپی ممالک کی صورتحال عدم احتیاط سے ہی تشویشناک ہے، اٹلی، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور امریکا کی صورتحال عوام کے سامنے ہے۔ ہمیں انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا، سماجی اور معاشرتی فاصلہ ہی اس وبا سے بچا ؤکا واحد راستہ ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے اپیل کی تھی 3دن از خود آئسولیشن کریں۔ لوگوں نے وزیر اعلی سندھ کی اپیل کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا، سکھر میں لوگ قرنطینہ سینٹر سے احتجاج کرتے باہر آگئے۔ہم صوبوں سے الگ نہیں، ہمیں قومی پالیسی کو اپنانا ہے۔ بعض اوقات پڑھے لکھے لوگوں کا ردعمل بھی ایسا نہیں جو آنا چاہئے۔ یہ اس صدی کا سب سے بڑا وبائی چیلنج ہے۔ 12ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، 188ممالک متاثر ہیں معمولی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ دوحہ، ابو ظہبی، روم و دیگر جگہوں پر ہمارے لوگ پھنسے ہوئے ہیں، اس وقت 2لاکھ لوگ پاکستان آنا چاہتے ہیں، ہمارے پاس اتنی سہولتیں نہیں کہ اتنے لوگوں کو قرنطینہ کر سکیں۔ آج چین میں مقیم پاکستانی طلبا بھی ہمارے فیصلے کی داد دے رہے ہیں، پاکستانی طلبا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے تجربات شیئر کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول