کرونا وباء پر قابو پانے کیلئے لاک ڈاؤن ناکافی اور خطرناک ہے:عالمی ادارہ صحت

کرونا وباء پر قابو پانے کیلئے لاک ڈاؤن ناکافی اور خطرناک ہے:عالمی ادارہ صحت

  



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے لاک ڈاؤن کو ناکافی اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اختتام کے بعد کرونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ متاثرہ افراد کی تلاش کریں، متاثرہ افراد اور ان کے قریبی افراد کا پتا لگا کر انہیں قرنطیہ کریں۔یہ بیان ڈبلیو ایچ او کے اہم ترین ماہر سمجھے جانے والے ڈاکٹر مارئیک ریان کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے دنیا صرف لاک ڈاؤن کرکے کرونا وائرس کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے انتہائی ضروری ہے انسانی صحت کی حفاظت کیلئے ایسے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں جس سے اس موذی مرض کو دوبارہ سے سر اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ ہمارے لیے سب سے اہم اور ضروری یہ ہے کہ ہم ان افراد کو ڈھونڈیں جو اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ انہیں ڈھونڈ کر ان کیساتھ رابطے میں رہنے والوں کو قرنطینہ کر دیا جائے۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا جیسے ہی روزمرہ زندگی کا آغاز ہوا تو کرونا وائرس کے زیادہ پھیلنے کا خدشہ ہے۔ خیال رہے متعدد یورپی ممالک اور امریکہ کی مختلف ریاستوں نے چین کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ڈاکٹر ریان کا کہنا تھا کرونا وائرس کیخلاف مختلف ادویات کی تیاری پر کام جاری ہے مگر ابھی تک صرف امریکہ میں ہی ایک دوائی کا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ عوام کیلئے صرف اور صرف اس موقع پر احتیاط لازم ہے کیونکہ اس بیماری کے تدارک کیلئے ویکسین کی تیاری میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت

جنیوا(آئی این پی) عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ چین میں کوروناوائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد اب ملک میں اس مہلک وبا کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آنا ایک بڑی کامیابی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل Tedros Adhanom نے کہا کروناوائرس کی وبا پھوٹنے کے مرکز چین نے باقی دنیا کو امید دلائی ہے کہ کوروناوائرس کی بدترین صورتحال پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ یہ چین کی طرف سے امید کا پیغام ہے کہ کوروناوائرس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت

مزید : صفحہ اول